امن برائے تجارت، تجارت برائے خوشحالی

امن برائے تجارت، تجارت برائے خوشحالی
تحریر : شکیل سلاوٹ
ایران، امریکہ مذاکرات: کیا جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی کی نئی صبح طلوع ہو سکتی ہے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں سرحدیں بدل سکتی ہیں، لیکن تجارت قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ اکیسویں صدی کی دنیا میں طاقت کا اصل پیمانہ فوجی برتری نہیں بلکہ مضبوط معیشت، علاقائی تعاون اور عوام کی خوشحالی ہے۔ اسی تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات محض دو ممالک کا سفارتی معاملہ نہیں، بلکہ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم موڑ ہیں۔
اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے، پابندیوں میں نرمی آتی ہے اور اقتصادی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں، تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ان ممالک کو پہنچ سکتا ہے جو توانائی، تجارت اور علاقائی روابط پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت بھی انہی ممالک میں شامل ہیں۔
میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، اقتصادی تعاون اور تجارت میں پوشیدہ ہے۔ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں دونوں ممالک نے اربوں ڈالر دفاعی اخراجات پر صرف کیے، مگر اس کے باوجود خطے سے غربت، بے روزگاری اور پسماندگی کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی وسائل تعلیم، صحت، صنعت، ٹیکنالوجی اور علاقائی تجارت پر خرچ ہوتے تو آج جنوبی ایشیا کہاں کھڑا ہوتا؟
ایران اگر عالمی معیشت میں دوبارہ فعال کردار ادا کرتا ہے تو یہ پاکستان، بھارت اور پورے خطے کے لیے ایک نیا معاشی موقع بن سکتا ہے۔ توانائی کی راہداریاں، زمینی تجارت، بندرگاہوں کا بہتر استعمال اور وسط ایشیا تک رسائی جیسے امکانات صرف اقتصادی فوائد ہی نہیں بلکہ باہمی اعتماد کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان اور بھارت کو اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرنا چاہیے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ صرف کاروباری طبقے کے لیے نہیں بلکہ عام شہری کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔ سستی اشیائے ضروریہ، نئی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی وہ ثمرات ہیں جن سے دونوں اطراف کے عوام مستفید ہو سکتے ہیں۔
اس تناظر میں علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کو دوبارہ فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں سے سارک سیاسی اختلافات کی نذر ہو چکی ہے، حالانکہ یہ پلیٹ فارم جنوبی ایشیا کو دنیا کے اہم ترین اقتصادی خطوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یورپ اپنے ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر اقتصادی اتحاد قائم کر سکتا ہے تو جنوبی ایشیا کیوں نہیں؟
یہ کہنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا کہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہونے سے پاکستان اور بھارت کے تمام اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور اقتصادی تعاون کا ماحول بنتا ہے تو دونوں ممالک کے لیے اعتماد سازی اور تجارت کو آگے بڑھانے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دینا چاہتے ہیں: مسلسل کشیدگی، یا ایک ایسا جنوبی ایشیا جہاں سرحدوں پر خاموشی ہو، منڈیوں میں رونق ہو، صنعتیں چل رہی ہوں، نوجوانوں کے ہاتھوں میں روزگار ہو اور عوام کی زندگی میں خوشحالی آئے۔
میری نظر میں پاکستان اور بھارت کی اصل کامیابی ایک دوسرے کو شکست دینے میں نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ترقی کرنے میں ہے۔ اگر ایران، امریکہ مذاکرات خطے میں امن کی نئی فضا پیدا کرتے ہیں تو یہ جنوبی ایشیا کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھ کر تجارت، تعاون اور مشترکہ ترقی کا راستہ اختیار کرے۔
تاریخ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جوجنگیں نہیں بلکہ مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔





