Column

ذیابیطس سے نجات: کیا واقعی ممکن ہے ؟

ذیابیطس سے نجات: کیا واقعی ممکن ہے ؟
تحریر : صفدر علی حیدری
ہر مضبوط عمارت چند بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔ اگر اس کے چار ستون ہوں اور ان میں سے ایک بھی کمزور پڑ جائے تو پوری عمارت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ ابتدا میں معمولی دراڑیں پڑتی ہیں، پھر دیواریں کمزور ہونے لگتی ہیں اور آخرکار پوری عمارت گرنے کے خطرے سے دوچار ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب چاروں ستون مضبوط ہوں تو وہی عمارت آندھی، بارش اور وقت کی سختیوں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے۔
ذیابیطس سے بچائو اور اس پر موثر قابو پانے کی عمارت بھی چار مضبوط ستونوں پر قائم ہے۔ اگر ان میں سے ایک ستون بھی کمزور ہو جائے تو باقی ستون بھی اپنی پوری قوت کے باوجود صحت کی اس عمارت کو سنبھال نہیں سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان چاروں ستونوں کو سمجھیں، انہیں مضبوط کریں اور اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
آج ذیابیطس دنیا کے سنگین ترین طبی مسائل میں شمار ہوتی ہے۔ دل کی بیماریوں اور سرطان ( کینسر) کے ساتھ یہ انسانی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگرچہ ذیابیطس عموماً اچانک موت کا سبب نہیں بنتی، لیکن یہ خاموشی سے جسم کے تقریباً ہر اہم عضو کو متاثر کرتی رہتی ہے۔ دل، دماغ، گردے، آنکھیں، اعصاب اور خون کی باریک نالیاں رفتہ رفتہ اس کی زد میں آ جاتی ہیں۔ نتیجتاً مریض ایک ایسی زندگی گزارنے لگتا ہے جس میں کمزوری، تھکن، درد، بے آرامی اور مختلف پیچیدگیاں اس کا معمول بن جاتی ہیں۔ بہت سے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ’’ شوگر نے ہماری زندگی کی ساری مٹھاس چھین لی ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ بروقت احتیاط اور درست طرزِ زندگی سے اس مٹھاس کا بڑا حصہ واپس لایا جا سکتا ہے۔
پاکستان بھی اس خاموش وبا سے محفوظ نہیں۔ مختلف طبی جائزوں کے مطابق ملک کے بالغ افراد میں تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص ذیابیطس یا اس کے ابتدائی مرحلے کا شکار ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم علاج سے پہلے بچا اور احتیاط کو اپنی ترجیح بنائیں۔
عام طور پر لوگ ذیابیطس کو صرف خون میں شکر بڑھ جانے کا نام سمجھتے ہیں، حالاں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ذیابیطس دراصل جسم کے استحالہ ( میٹابولزم) کی ایک پیچیدہ خرابی ہے۔ جب جسم گلوکوز ( انگوری شکر) کو مناسب انداز میں استعمال نہیں کر پاتا تو خون میں شکر کی مقدار بڑھنے لگتی ہے، اور یہی کیفیت وقت کے ساتھ مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتی ہے۔
گزشتہ پندرہ برسوں میں ہونے والی سائنسی تحقیقات نے ذیابیطس، خصوصاً ٹائپ 2ذیابیطس، کے بارے میں ہمارے تصور کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب یہ بات بڑی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ صرف دوائوں پر انحصار کافی نہیں۔ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، وزن میں کمی، معیاری نیند، ذہنی سکون اور ضرورت کے مطابق ادویات مل کر بہتر نتائج پیدا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں دوا علاج کا ایک اہم حصہ ضرور ہے، لیکن پورا علاج نہیں۔
ذیابیطس کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں۔
پہلی قسم: ٹائپ 1ذیابیطس، اس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبے کے ان خلیوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے جو انسولین بناتے ہیں۔ نتیجتاً جسم میں انسولین نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ موجودہ طبی علم کے مطابق اس کا مکمل علاج دستیاب نہیں، اس لیے ایسے مریضوں کے لیے انسولین زندگی بھر ضروری رہتی ہے۔
دوسری قسم: ٹائپ 2ذیابیطس، یہ سب سے عام قسم ہے۔ اس میں مسئلہ صرف انسولین کی کمی نہیں ہوتا بلکہ جسم کے خلیے انسولین کے اثر کو پوری طرح قبول نہیں کرتے، جسے انسولین مزاحمت (Insulin Resistance)کہا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں جدید تحقیق امید کی نئی کرن دکھاتی ہے۔ اگر مریض وزن کم کرے، غذا درست کرے، جسمانی سرگرمی بڑھائے اور معالج کی ہدایات پر عمل کرے تو بعض مریض ریمیشن Remission: ( بیماری کا طویل عرصے تک قابو میں رہنا) حاصل کر لیتے ہیں۔ یعنی شوگر کافی عرصے تک بغیر دوا یا بہت کم دوا کے معمول کے قریب رہ سکتی ہے۔ تاہم یہ مکمل شفا نہیں، کیونکہ پرانا طرزِ زندگی اختیار کرنے پر بیماری دوبارہ لوٹ سکتی ہے۔
تیسری قسم: حمل کی ذیابیطس، یہ دورانِ حمل پیدا ہوتی ہے اور اکثر بچے کی پیدائش کے بعد ختم ہو جاتی ہے، لیکن ایسی خواتین میں بعد کی زندگی میں ٹائپ 2ذیابیطس کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہو جاتا ہے۔
پہلا ستون: متوازن غذا، اگر ذیابیطس کے علاج کی عمارت کا پہلا اور مضبوط ترین ستون تلاش کیا جائے تو وہ متوازن غذا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مریضوں کی دوائیں اس وقت تک اپنی پوری افادیت نہیں دکھاتیں جب تک خوراک درست نہ ہو۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ذیابیطس کا علاج دوا خانے سے پہلے باورچی خانے میں شروع ہوتا ہے۔خوراک کا انتخاب صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، بلکہ خون میں شکر کے توازن کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ ہر غذا خون میں شکر کو ایک جیسی رفتار سے نہیں بڑھاتی۔ بعض غذائیں آہستہ ہضم ہوتی ہیں اور شکر کو بتدریج بڑھاتی ہیں، جب کہ بعض چند ہی لمحوں میں خون میں شکر کی سطح بلند کر دیتی ہیں۔
اسی بنیاد پر کم شکر افزائی اشاریہ (Low Glycemic Index)والی غذائوں کو زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے۔ جو، دلیہ، دالیں، چنے، مختلف پھلیاں، سبز پتوں والی سبزیاں اور سالم اناج نسبتاً آہستہ ہضم ہوتے ہیں، اس لیے یہ خون میں شکر کو اچانک بڑھنے سے بچاتے ہیں۔ اس کے برعکس سفید آٹا، سفید چاول، میٹھے مشروبات، بیکری کی مصنوعات اور ضرورت سے زیادہ میٹھی اشیا خون میں شکر کو تیزی سے بڑھا سکتی ہیں۔
غذا میں پروٹین کی مناسب مقدار بھی ضروری ہے۔ انڈہ، مچھلی، بغیر چربی والا گوشت، دالیں اور چنے دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دیتے ہیں اور خون میں شکر کے تیز اضافے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ البتہ گردوں کے مریضوں کو پروٹین کی مقدار اپنے معالج کے مشورے سے طے کرنی چاہیے۔
اسی طرح غذائی ریشہ ( فائبر) ذیابیطس کا خاموش محافظ ہے۔ سبزیاں، سلاد، بیج، پھلیاں اور پورے پھل شکر کے جذب ہونے کی رفتار کم کرتے ہیں، آنتوں کے مفید جراثیم کی افزائش میں مدد دیتے ہیں اور خون میں چکنائی کی زیادتی کو بھی کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس پھلوں کا رس، اگرچہ قدرتی ہو، فائبر سے محروم ہونے کے باعث پورے پھل جیسا فائدہ نہیں دیتا۔
صحت مند چکنائیاں بھی غذا کا اہم حصہ ہیں۔ زیتون کا تیل، اخروٹ، بادام، السی اور اومیگا 3سے بھرپور غذائیں دل اور خون کی نالیوں کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں، جبکہ بار بار گرم کیا ہوا تیل اور مصنوعی چکنائیاں جسم کے لیے نقصان دہ ہیں۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ذیابیطس میں کاربوہائیڈریٹس ( نشاستہ دار غذائیں) مکمل طور پر چھوڑ دینا چاہیے، حالاں کہ یہ درست تصور نہیں۔ جسم کو توانائی کے لیے ان کی ضرورت رہتی ہے۔ اصل بات مقدار اور بہتر انتخاب کی ہے۔ سفید روٹی کی جگہ سالم اناج کی روٹی، سفید چاول کی جگہ جو یا دلیہ اور میٹھی اشیا کی جگہ قدرتی غذائوں کا انتخاب زیادہ دانش مندانہ حکمتِ عملی ہے۔
کئی برسوں تک یہ مشورہ عام دیا جاتا رہا کہ ذیابیطس کا مریض دن میں پانچ یا چھ مرتبہ تھوڑا تھوڑا کھائے تاکہ خون میں شکر قابو میں رہے۔ اس مشورے سے بہت سے لوگوں کو فائدہ بھی ہوا، لیکن جدید تحقیق نے واضح کیا ہے کہ یہ اصول ہر مریض پر یکساں لاگو نہیں ہوتا۔ ہر انسان کی جسمانی ساخت، وزن، ادویات اور بیماری کی کیفیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ایک ہی نسخہ سب کے لیے درست نہیں ہو سکتا۔
اب بہت سے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف یہ نہیں دیکھا جائے کہ کیا کھایا جا رہا ہے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ کب کھایا جا رہا ہے۔ اگر دن بھر وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہیں تو جسم میں انسولین بار بار خارج ہوتی رہتی ہے۔ بعض افراد میں اس سے انسولین مزاحمت Insulin Resistance: ( انسولین کے اثر کو قبول نہ کرنا) مزید بڑھ سکتی ہے۔
اسی لیے آج کل وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے Time-Restricted Eating: ( محدود وقت میں غذا لینے) پر بھی تحقیق ہو رہی ہے۔ اس طریقے میں دن بھر کی تمام غذا ایک محدود مدت، مثلاً آٹھ سے دس گھنٹے کے اندر کھائی جاتی ہے اور باقی وقت صرف پانی یا بغیر شکر والے مشروبات لیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر رات سات بجے کھانا کھایا جائے تو اگلا ناشتہ صبح آٹھ یا نو بجے کیا جائے۔ اس طرح تیرہ سے چودہ گھنٹے کا قدرتی وقفہ جسم کو مل جاتا ہے۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ مناسب افراد میں اس طریقے سے وزن کم کرنے، انسولین کی حساسیت بہتر بنانے اور خون میں شکر کے توازن میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ ہر مریض کے لیے مناسب نہیں۔ خصوصاً انسولین یا ایسی دوائیں استعمال کرنے والے افراد جو خون میں شکر کو بہت کم کر سکتی ہیں، وہ ایسا طریقہ صرف اپنے معالج کی نگرانی میں اختیار کریں۔
یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فاقہ بھوکا رہنے کا نام نہیں بلکہ جسم کو مناسب وقفہ دینے کا نام ہے۔ جب کھانے کے درمیان مناسب وقفہ آتا ہے تو جسم کو ذخیرہ شدہ توانائی استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے اور انسولین کی سطح بھی مسلسل بلند نہیں رہتی۔
اسی سلسلے میں حالیہ برسوں میں آٹوفیجی Autophagy: ( خلیوں کی قدرتی اندرونی صفائی) کا بہت ذکر ہوا ہے۔ اس عمل پر 2016ء میں نوبل انعام بھی دیا گیا۔ سادہ الفاظ میں یہ جسم کے اندر ایک ایسا قدرتی نظام ہے جس کے ذریعے خلیے اپنے خراب یا غیر ضروری حصوں کو صاف کرتے ہیں۔ بعض تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ مناسب وقفے سے کھانا اس عمل کو متحرک کر سکتا ہے، لیکن ابھی یہ کہنا درست نہیں کہ آٹوفیجی ذیابیطس کا علاج ہے۔ سائنس اس موضوع پر مزید تحقیق کر رہی ہے۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر خشک فاقہ Dry Fasting: ( پانی کے بغیر فاقہ) کے بارے میں بھی بہت سے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر موجودہ سائنسی شواہد ان دعوئوں کی تائید نہیں کرتے۔ خصوصاً ذیابیطس، گردوں کے امراض یا شدید گرمی والے علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے پانی کی کمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں کے بارے میں بھی ہر مریض کو اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ عبادت بھی اطمینان سے ہو اور صحت بھی محفوظ رہے۔غذا کے بارے میں ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ صرف چینی چھوڑ دینے سے ذیابیطس قابو میں آ جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف چینی نہیں بلکہ پوری غذا، اس کی مقدار، معیار، اوقات، جسمانی سرگرمی، نیند اور وزن، سب مل کر خون میں شکر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید طب غذا کو صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ علاج کا بنیادی ستون قرار دیتی ہے۔
اس پہلے ستون کا خلاصہ ایک جملے میں یوں کیا جا سکتا ہے: خوراک کم کھانا علاج نہیں، بلکہ صحیح غذا، صحیح مقدار میں اور صحیح وقت پر کھانا علاج ہے۔
دوسرا ستون: جسمانی سرگرمی، حرکت ہی برکت ہے، اگر متوازن غذا ذیابیطس کے علاج کی پہلی بنیاد ہے تو جسمانی سرگرمی اس عمارت کا دوسرا مضبوط ستون ہے۔ بہت سے لوگ ورزش کو صرف وزن کم کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالاں کہ جدید طبی تحقیق بتاتی ہے کہ ورزش جسم کے تقریباً ہر نظام پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔
جب ہم چلتے ہیں، سیڑھیاں چڑھتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں یا کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی کرتے ہیں تو عضلات کو توانائی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اس دوران جی ایل یو ٹی۔4، GLUT۔4 : ( گلوکوز کو خلیوں کے اندر پہنچانے والا پروٹین) زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔ اس کی بدولت گلوکوز خون سے نکل کر عضلات میں پہنچنے لگتا ہے، اور بعض صورتوں میں یہ عمل انسولین پر کم انحصار کے ساتھ بھی انجام پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹائپ 2ذیابیطس میں ورزش کو دوا کے برابر اہمیت دی جاتی ہے۔
ورزش کا مطلب صرف یہ نہیں کہ روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی کر لی جائے اور باقی سارا دن کرسی پر بیٹھے رہیں۔ اگر کوئی شخص ایک گھنٹہ چلنے کے بعد مسلسل دس یا بارہ گھنٹے بیٹھا رہے تو ورزش کے بہت سے فوائد کم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہر تیس سے ساٹھ منٹ بعد چند منٹ کے لیے ضرور اٹھیں، تھوڑا چلیں، جسم کو حرکت دیں اور اگر ممکن ہو تو پنڈلی کے عضلات کو بھی متحرک کریں۔
کھانے کے بعد صرف پندرہ منٹ کی چہل قدمی، جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد صرف دس سے پندرہ منٹ کی ہلکی چہل قدمی خون میں شکر کے اچانک بڑھنے Postprandial Spike: ( کھانے کے بعد خون میں شکر کا تیزی سے بڑھ جانا) کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔
اگر دن میں تین مرتبہ کھانے کے بعد دس سے پندرہ منٹ چہل قدمی کی جائے تو مجموعی طور پر صرف تیس سے پینتالیس منٹ کی یہ معمولی سی عادت خون میں شکر کے توازن، وزن میں کمی اور دل کی صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
پنڈلی کے عضلات ’’ جسم کا ‘‘ دوسرا دل، پنڈلی کے عضلات کو بعض اوقات جسم کا ’’ دوسرا دل‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی طبی عضو نہیں بلکہ ایک خوب صورت تشبیہ ہے، کیونکہ چلنے پھرنے کے دوران یہی عضلات ٹانگوں سے خون کو واپس دل کی طرف پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی نالیوں اور اعصاب کے متاثر ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، اس لیے پنڈلی کے عضلات کو متحرک رکھنا دورانِ خون بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
میں اس موقع پر اپنا ایک ذاتی تجربہ قارئین سے ضرور شیئر کرنا چاہوں گا۔ ذیابیطس کی وجہ سے میرے پائوں غیر معمولی طور پر حساس ہو گئے تھے۔ خاص طور پر سردیوں میں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پائوں میں جان ہی نہ رہی ہو۔ شدید ٹھنڈ لگتی، پائوں برف کی طرح ٹھنڈے ہو جاتے، یہاں تک کہ دو، دو جرابیں پہننے کے باوجود کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔ یہ کیفیت میرے لیے نہایت تکلیف دہ تھی۔ پھر میں نے اپنے روزمرہ معمول میں ایک چھوٹی سی تبدیلی کی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ہر کھانے کے بعد دس سے پندرہ منٹ ضرور چہل قدمی کروں گا۔ اس کے بعد کسی دیوار یا کرسی کا سہارا لے کر اپنی ایڑیاں تقریباً ایک سو مرتبہ اوپر اٹھاتا اور پھر نیچے لاتا، تاکہ پنڈلی کے عضلات بھرپور انداز میں حرکت کریں۔ میں نے یہ معمول تقریباً دو ماہ تک پوری پابندی سے جاری رکھا۔ الحمدللہ! اس کا اثر میری توقع سے کہیں بہتر نکلا۔ میرے پاں کی ٹھنڈک میں نمایاں کمی آئی، بے آرامی کم ہوئی اور چلنے پھرنے میں پہلے سے زیادہ سہولت محسوس ہونے لگی۔
میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ ہر مریض کو یہی نتائج حاصل ہوں گے، کیونکہ ہر انسان کی جسمانی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ لیکن میرا یہ ذاتی تجربہ ضرور ہے کہ کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی اور پنڈلی کے عضلات کی باقاعدہ ورزش نے میری زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کی۔ اگر کسی کے پائوں میں زخم، شدید اعصابی تکلیف یا کوئی اور طبی مسئلہ ہو تو وہ ایسی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں ۔
اس تجربے نے مجھے ایک اہم سبق سکھایا کہ ورزش صرف کھیل کے میدان میں نہیں ہوتی، بلکہ روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی عادتیں بھی علاج کا حصہ بن سکتی ہیں۔
اسی لیے میں ہر ذیابیطس کے مریض سے یہ گزارش کروں گا کہ اگر طبی طور پر اجازت ہو تو ہر کھانے کے بعد چند منٹ چہل قدمی کو اپنی زندگی کا مستقل معمول بنا لیں۔ اس معمولی سی عادت کے فوائد برسوں تک آپ کی صحت کا سرمایہ بن سکتے ہیں۔ ( جاری ہے)
صفدر علی حیدری

جواب دیں

Back to top button