شہید رہبر معظم کا تاریخی اجتماع، عالمی خراج عقیدت

شہید رہبر معظم کا تاریخی اجتماع، عالمی خراج عقیدت
تحریر : یاسر دانیال صابری
دشمنوں نے عالم اسلام کو وہ نقصان پہنچایا وہ تاریخ سوگ گوار یاد رکھے گی۔ عالم اسلام کو توڑنے کی کوشش کی گئی، مگر ایران نے عبرت ناک سبق سکھایا، جو خود کو سپر ملک کا دعویٰ دار سمجھتا وہ دنیا کے سامنے ذلیل ہوا۔ جب دشمن ایک سازش کے تحت رہبر معظم انقلاب کو شہید کر دیا گیا۔ ایران اس کا کبھی بھی بدلہ لے سکتا ہے۔
تہران ان دنوں صرف ایران کا دارالحکومت نہیں بلکہ عالمی سفارتکاری، مذہبی احترام اور علاقائی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے آنے والے اعلیٰ سطح کے وفود نے اس اجتماع کو غیر معمولی بین الاقوامی اہمیت عطا کر دی۔ یہ منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں رونما ہونے والا ہر بڑا اسلامی واقعہ اب صرف ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی اسلام و سیاست، سفارتکاری اور خطے کے مستقبل پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، وزرائ، پارلیمانی نمائندے اور سفارتی وفود تہران پہنچے تاکہ شہید رہبرِ انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف وزیراعظم و صدر اور سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے اپنے وفد کے ہمراہ تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔ روس، چین، قطر، عراق، مصر، فلسطین، قازقستان، تاجکستان، کرغیزستان، ازبکستان ،افغانستان، آرمینیا ، آذربائیجان، بیلاروس، جارجیا، بنگلادیش اور بھارت سمیت متعدد ممالک کی شرکت نے اس اجتماع کو عالمی سفارتی منظرنامے کا ایک اہم واقعہ بنا دیا۔ حماس اور حزب اللہ کے وفود بھی اس موقع پر موجود رہے۔
پاکستان کی جانب سے بھی اعلیٰ سطح کی نمائندگی کی گئی۔ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستانی وفد کے ہمراہ تعزیتی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے شہید رہبرِ انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پاکستان کی یہ شرکت دونوں برادر اسلامی ممالک کے دیرینہ تعلقات، باہمی احترام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ دلچسپی کی عکاس ہے۔
تہران میں لاکھوں افراد کی آمد کے پیشِ نظر غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کی بڑی شاہراہیں، نماز گاہیں اور عوامی مقامات سوگواروں سے بھرے ہوئے ہیں، جبکہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اس تاریخی اجتماع کو براہِ راست نشر کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ایرانی قیادت اس اہم موقع کو پرامن اور منظم انداز میں مکمل کرنا چاہتی ہے۔ ایران کے شہر تہران میں دنیا کا سب سے بڑا نیوز ہال جس پر صحافیوں کے لیے تمام تر سہولیات موجود تھی ،اس موقع پر ایک اہم سوال یہ بھی زیرِ بحث رہا کہ نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا۔ اطلاعات کے مطابق مرکزی نمازِ جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی کی امامت میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، تاہم حتمی اعلان سرکاری سطح پر متوقع تھا اسی نے ہی پڑھائی۔ تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ ایران میں ہر سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ لازماً نئے سپریم لیڈر ہی نہیں پڑھاتے بلکہ اس حوالے سے مذہبی اور ریاستی قیادت باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا۔ یوں نماز جنازہ کروڑ عوام نے ادا کر دیا گیا۔
نئے سپریم لیڈر کی سیکیورٹی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ لاکھوں افراد اپنے محبوب رہنما کا آخری دیدار کرنے کے ساتھ نئی قیادت کی ایک جھلک دیکھنے کے خواہش مند ہیں، تاہم سیکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نمازِ جنازہ کے مختلف اجتماعات تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں منعقد ہوں گے، جس کے بعد تدفین کی رسم ادا کی جائے گی۔
یہ اجتماع صرف ایک مذہبی یا قومی تقریب نہیں بلکہ عالمی مذہبی عقیدت کی ترجمانی اور سیاست کا ایک اہم سنگِ میل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ جب ایک ہی مقام پر مختلف نظریات، مختلف سیاسی نظاموں اور مختلف سفارتی مفادات رکھنے والے ممالک کے رہنما جمع ہوتے ہیں تو اس کے اثرات محض تعزیتی تقریب تک محدود نہیں رہتے بلکہ مستقبل کی سفارت کاری، علاقائی اتحاد، امن کی کوششوں اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب، چین، روس اور دیگر اہم ممالک کی موجودگی اس امر کا واضح اظہار ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی ہر بڑی تبدیلی پوری دنیا کے سیاسی اور تزویراتی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں اسی اجتماع کے موقع پر ہونے والی ملاقاتیں اور مشاورت خطے میں نئے سفارتی امکانات، کشیدگی میں کمی یا نئے سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ تہران میں ہونے والا یہ اجتماع صرف ایران کی تاریخ کا ایک اہم باب نہیں بلکہ عالمی مذہبی عقیدت اور سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا بھی ایک نمایاں حوالہ بن چکا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ہم سب نے اس دنیا سے کوچ کر چلے جانا ہے کچھ نالائق یا جاہل لوگ سوال کرتے ہیں ایران کے اہل تشیع نے اس شہید کو کیوں نہیں اس وقت ہی دفن کیا اس وقت میرے خیالات کے مطابق ایک بڑی ہستی کے نماز جنازہ ادا کرنے وقت کے مطابق سیکور نہیں تھا۔ سیکیورٹی کے خدشات تھے جس آپس میں پاکستان نے ثالثی کے کردار ادا کیا تو تب جا کر یہ تدفین ممکن ہوا۔
شخصیات رخصت ہو جاتی ہیں، مگر قومیں اپنے اصولوں، اتحاد، عدل، علم اور کردار سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر اس تاریخی سوگوار موقع سے امتِ مسلمہ اتحاد، بصیرت، برداشت اور اجتماعی مفاد کا سبق سیکھ لے تو یہی کسی بھی عظیم رہنما کو حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا، کیونکہ مضبوط امت وہی ہوتی ہے جو آزمائش کے لمحات میں جذبات کے ساتھ حکمت کو بھی اپنا رہنما بنائے، آمین۔







