ColumnRoshan Lal

دریائے چناب کی پاکستان اور پنجاب کیلئے اہمیت؟

دریائے چناب کی پاکستان اور پنجاب کیلئے اہمیت؟
تحریر : روشن لعل
دریائے چناب کے پانی کی پورے پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کی زرعی معیشت کے لیے جو اہمیت ہے ، اس پر پہلے بھی کچھ تحریروں میںاپنے احساسات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ قبل ازیں بیان کردہ باتوں کازیر نظر تحریر میں ذکر کرنے کی ضرورت ، بھارتی وزیر کے اس اعلان کے بعد محسوس ہوئی ، جس میں یہ کہا گیا تھاکہ بھارت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائوں کا پانی اپنے علاقوں کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔مذکورہ اعلان کے مطابق بھارت دریائے چناب کا پانی اپنے علاقے میں بہنے والے دریا بیاس میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنا چکاہے۔ بھارت اگر ہمیں چناب کے پانی سے محروم کر نے کے منصوبے پر عمل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اس بات کے ہماری زرعی معیشت پر کس حد منفی اثرات مرتب ہونگے ، اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دریائے چناب ، اس وقت کس طرح پنجاب لییزندگی کی لکیر کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان بننے کے بعد جب دریائے سندھ کے بڑے معاون مشرقی دریائوں ستلج ، بیاس ، راوی اور ان سے نکلنے والی نہروں کا پانی بھارتی پنجاب سے پاکستانی علاقوں میں آنے سے روک دیا گیاتو دریائے چناب کو پاکستان اور خصوصاًپنجاب کی زرعی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان پیدا ہونے والے پانی کے تنازع کو1960ء میں سندھ طاس معاہدے کے ذریعے طے کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تین مشرقی دریائوں کے سو فیصد پانی سے دستبردارہونا پڑا جبکہ اسے تین مغربی دریائوں سندھ ، جہلم اور چناب کے 93فیصد پانی کو استعمال کرنے کا حق دیا گیا ۔اس معاہدے کے بعد لنک نہروں کے ذریعے دریائے سندھ اور جہلم کا پانی دریائے چناب کے ہیڈ ورکس اور بیراجوں تک لایا گیا اور پھر مزید لنک نہروں کے ذریعے چناب کے اپنے پانی سمیت یہ دریائی پانی خشک ہونے والے دریائوں راوی اور ستلج تک پہنچایا گیا جہاں سے زرعی زمینوں کو سیراب کرنے والی نہروں کے ذریعے اس پانی کو کھیتوں تک پہنچایا گیا جس سے راوی اور ستلج کے علاقوں میں زیر کاشت زمینیں بنجر ہونے سے محفوظ ہوئیں۔پنجاب سے گزرنے والے تمام دریائوں میں چناب پر سب سے زیادہ بیراج یا ہیڈ ورکس تعمیر کیے گئے ہیں جن کی تعداد پانچ اور ترتیب وار ان کے نام مرالہ ، خانکی ، قادر آباد ، تریموں اور پنجند ہیں۔ چناب پر موجود ان بیراجوں سے پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرنے والی سب سے زیادہ نہریں نکالی گئی ہیں۔ ہیڈ مرالہ سے دو نہریں مرالہ راوی لنک کینال اور اپر چناب کینال نکلتی ہیں جن میں سے مرالہ راوی لنک دریائے راوی میں راوی سائفن کے بالائی حصہ میں آکر گرتی ہے اور اپر چناب کینال کا پانی ضلع گوجرانوالہ ، شیخوپورہ اور لاہور و سیالکوٹ کے کچھ حصوں کو سیراب کرتا ہے۔ جبکہ اسی نہر سے سیالکوٹ کے نزدیک بمبانوالہ کے مقام پر نکالی گئی مشہور بی آر بی نہر کا پانی ضلع لاہور اور قصور کی زمینوں کو سیراب کرنے کے علاوہ دیپال پور تک پہنچتا ہے۔
’’ خانکی‘‘ دریائے چناب پر دوسرا بیراج ہے جہاں سے نکلنے والی لوئر چناب کینال کا پانی ضلع حافظ آباد ، شیخو پورہ، فیصل آباد ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ کی زرعی زمینوں تک پہنچتا ہے۔ چناب کا تیسرا بیراج قادر آباد ہے۔ دریائے جہلم کے رسول ہیڈ ورکس سے نکالی گئی رسول قادر آباد لنک کینال دریائے چناب کے قادر آباد ہیڈورکس میں آکر گرتی ہے۔ اسی بیراج سے قادر آباد بلوکی نہر نکالی گئی ہے جو بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں شامل ہوتی ہے اور پھر یہاں سے اس کا پانی بلوکی سلیمانکی لنک کینال کے ذریعے دریائے ستلج کے سلیمانکی ہیڈ ورکس تک جاتا ہے۔
تریموں ہیڈ ورکس دریائے چناب کا چوتھا ہیڈ ورکس ہے ۔ اس ہیڈ ورکس سے پہلے مدوکی کے مقام پر دریائے جہلم اپنا وجود ختم کر کے دریائے چناب میں ضم ہو جاتا ہے۔ تریموں ہیڈ ورکس سے تین نہریں نکالی گئی ہیں ۔ دریا کے دائیں کنارے سے نکالی گئی رنگ پور کینال ضلع جھنگ کے علاقوں سلطان باہو ، گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال وغیرہ کی زرعی زمینوں کو سیراب کرتی ہے۔ حویلی کینال کا پانی ضلع جھنگ میں دریا کے بائیں کنارے کے زرعی رقبوں کی آبیاری کرتا ہے جبکہ بائیں کنارے سے نکالی گئی تریموں سدھنائی لنک کینال کا پانی دریائے راوی کے ’’ سدھنائی ہیڈورکس‘‘ پر دریائے راوی میں گرتا ہے۔
ہیڈ تریموں کے بعد دریائے چناب پر آخری ہیڈ ورکس پنجند ہے۔ اس مقام پر دریائے سندھ کے تونسہ بیراج سے نکالی گئی تونسہ پنجند لنک کینال چناب میں گرتی ہے جبکہ اس ہیڈ ورکس سے نکالی گئی دو نہریں عباسیہ کینال اور پنجند کینال کا پانی ضلع بہاولپور اور رحیم یار خان کی زرعی زمینوں کی آبیاری کرتا ہے۔ پنجند کے مقام پر ہی دریائے ستلج دریائے چناب میں سما جاتا ہے۔ پنجند ہیڈ ورکس کے بعد دریائے چناب کوٹ مٹھن کے مقام پر عظیم دریائے سندھ کے پانیوں کا حصہ بن جاتا ہے۔
پانی کے بھارتی وزیر ، سی آر پٹیل نے کھلم کھلا یہ دھمکی دی ہے کہ بھارت، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو ملنے والے پانی کی ایک بوند بھی اسے حاصل نہیں کرنے دے گا۔ بھارت کی اپنے مقاصد میں کامیابی کا مطلب پاکستان میں بدترین قحط کا رونما ہونا ہے۔ بھارت اگر اپنے منصوبے پر بتدریج عمل کرتے ہوئے ہمیں دریائے چناب کے پانی سے محروم کرنے کا آغاز کرتا ہے تو اس کا نتیجہ ہماری زرعی معیشت کے لیے کس قدر تباہ کن ہوگا اس کا ٹریلر اس وقت دیکھا گیا جب ستمبر 2008ء میں بھارت نے بگلیہار ڈیم بنانے کے بعد اس سے 150میگا واٹ بجلی کی پیدا وار کے لیے اس میں پانی کا ذخیرہ کیا تو پاکستان کی طرف دریائے چناب میں پانی کا بہائو معمول سے کم ہونے کے نتیجے میں پنجاب کی زرعی پیداور پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ بگلیہار ڈیم کی تعمیر سے پہلے اور بعد ازاں بھی بھارت نے دریائے چناب اور اس کے معاون دریائوں پر ڈیم تعمیرکیے ۔ یہ ڈیم حالانکہ رن آف ریور ڈیم ہیں ، جن میں ذخیرہ کیا گیا پانی بجلی کی پیداوار لینے کے بعد واپس پاکستان کی طرف بہا دیا جاتا ہے لیکنجب ان ڈیموں میں پانی بھرا جاتاہے اس دوران پاکستان کی طرف دریائے چناب اور اس سے نکلنے والی نہروں میں پانی کے بہائو میں نمایاں کمی دیکھی جاتی ہے۔
جو ڈیم بھارت بنا چکا ہے یا بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، سندھ طاس معاہدے کی رو سے پاکستان کو ان کی تعمیر روکنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے جن رن آف ریور ڈیموں کی تعمیر سے بھارت کو روکا نہیں جاسکتا ، ان کی تعمیر سے دریائے چناب میں پانی کے بہائو میں آنے والی کمی سے پنجاب میں زرعی پیداوار پر جو منفی اثرات مرتب ہوئے اگر ہم اس کا ازالہ نہیں کرسکتے تو بھارت کی طرف سے چناب کا پانی مکمل بند کرنے سے پیدا ہونے والے قحط کا مقابلہ کیسے کر سکیں گے۔ بھارت ، ہمارے دریائوں کا پانی بند کر کے پاکستان اور خاص طور پر پنجاب میں قحط برپا کرنے کی جو کوششیں کر رہا ہے ، ہمیں ان کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنانا ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button