Column

پاک، ترکیہ دوستی، ترقی کا نیا سفر

پاک، ترکیہ دوستی، ترقی کا نیا سفر
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات محض دو دوست ممالک کے سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ یہ مشترکہ تاریخ، تہذیبی قربت، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد پر استوار ایک ایسا رشتہ ہیں جس نے ہر آزمائش میں اپنی مضبوطی کا ثبوت دیا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے ترکیہ کی جنگِ آزادی میں بھرپور حمایت ہو یا قدرتی آفات اور مشکل حالات میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا، اس رفاقت کی جڑیں محض مفادات نہیں بلکہ اخوت اور اعتماد میں پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دور، ترکیہ اور صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ پاک۔ ترک تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ اس ملاقات کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ دونوں ممالک نے روایتی دوستی کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پانچ ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی حجم کا ہدف بلاشبہ بلند ہے، لیکن اگر دونوں حکومتیں سنجیدگی، تسلسل اور عملی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں تو اس کا حصول ناممکن نہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بندرگاہوں کی ترقی، بنیادی ڈھانچے اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات رکھتے ہیں۔ ان امکانات سے بھرپور استفادہ نہ صرف دونوں معیشتوں کو تقویت دے سکتا ہے بلکہ خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ حکومتِ پاکستان نے گزشتہ عرصے میں معاشی استحکام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔ مالی نظم و ضبط، کاروباری ماحول میں بہتری، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔ ترک کاروباری اداروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی خواہش اسی اعتماد کا مظہر ہے۔ حکومت کی یہ کوشش قابلِ تحسین ہے کہ اس نے سفارتی تعلقات کو اقتصادی فوائد سے ہم آہنگ کرنے کی سمت میں سنجیدہ پیش رفت کی ہے۔ وزیراعظم کی ترک صنعت کاروں اور کاروباری رہنماں سے ملاقاتیں بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ دنیا کی مضبوط معیشتیں صرف حکومتی معاہدوں سے نہیں بلکہ نجی شعبے کی فعال شراکت سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر پاکستانی اور ترک کاروباری برادری مشترکہ منصوبوں، صنعتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی تربیت جیسے شعبوں میں موثر انداز میں آگے بڑھتی ہے تو اس کے ثمرات دونوں ممالک کے عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور معدنی وسائل ایسے شعبے ہیں جہاں پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کا ایک اہم پہلو باہمی اعتماد بھی ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کا احترام کیا ہے اور اہم بین الاقوامی معاملات پر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کی ہے۔ یہی اعتماد اس رشتے کو دیگر سفارتی تعلقات سے ممتاز بناتا ہے۔ موجودہ عالمی حالات، علاقائی کشیدگی اور معاشی بے یقینی کے ماحول میں ایسے مضبوط اور قابلِ اعتماد تعلقات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ بلند اہداف صرف اعلانات سے حاصل نہیں ہوتے۔ پانچ ارب ڈالر کی تجارتی منزل تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کو ترجیحی تجارتی معاہدوں پر موثر عمل درآمد، سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے، بینکاری روابط کے فروغ، کاروباری ضوابط میں آسانی اور نجی شعبے کے لیے مزید سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ پاکستان کو بھی پالیسیوں کے تسلسل، شفاف طرزِ حکمرانی، قانونی تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو پوری سنجیدگی سے آگے بڑھانا ہوگا تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔ بلاشبہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی وقت کی ہر کسوٹی پر پوری اتری ہے، مگر اب وقت کا تقاضا ہے کہ اس تاریخی رفاقت کو نئی معاشی جہتوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اگر حالیہ ملاقاتوں میں کیے گئے اعلانات عملی اقدامات کی صورت اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار، صنعتی ترقی اور علاقائی خوشحالی کے نئے در بھی کھلیں گے۔ حکومتِ پاکستان کی یہ کوشش کہ برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کو اقتصادی تعاون میں ڈھالا جائے، درست سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ پیش رفت عملی نتائج کی صورت میں دونوں ممالک کے عوام کے لیے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بنے گی۔ اس کے مثبت اثرات دونوں مُلکوں کے لیے بہتر ثابت ہوں گے۔
ایک عظیم رہنما کا آخری سفر
گزشتہ مہینوں آیت اللہ علی خامنہ ای اس دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن اس وقت اُن کی آخری رسوم کا مرحلہ دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا اثر ان کی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا نام، کردار اور خدمات طویل عرصے تک لوگوں کے دلوں اور اجتماعی شعور میں زندہ رہتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کے آخری سفر میں بے شمار افراد کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کے دلوں میں ایک منفرد مقام بنایا۔ ہر انسان کی زندگی کا اختتام موت پر ہوتا ہے، مگر کچھ زندگیاں اپنے پیچھے ایسی فکری، دینی اور قومی میراث چھوڑ جاتی ہیں جو نسلوں تک زیرِ بحث رہتی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کئی دہائیوں تک ایران کی قیادت کرتے ہوئے اپنے ملک کے نظریاتی تشخص، خودمختاری اور مذہبی شناخت کو اپنی جدوجہد کا محور بنائے رکھا۔ ان کے چاہنے والوں کی نظر میں وہ استقامت، سادگی، علم دوستی اور اصول پسندی کی علامت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آخری رسوم محض ایک تدفینی تقریب نہیں بلکہ عقیدت، احترام اور وفاداری کے اظہار کا منظر پیش کررہی ہیں۔ تدفین کے مراحل میں عوام کی غیر معمولی شرکت اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ حقیقی قیادت صرف اقتدار سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور اخلاقی اثر سے جنم لیتی ہے۔ جب کوئی رہنما اپنے نظریات پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنی پوری زندگی ایک مقصد کے لیے وقف کردیتا ہے تو اس کی جدائی محض ایک فرد کی جدائی نہیں رہتی بلکہ ایک پورے عہد کے اختتام کی علامت بن جاتی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت کے مختلف پہلوں پر دنیا میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک اپنے ملک کی تاریخ، سیاست اور مذہبی فکر پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کے خطبات، تصانیف اور فکری رہنمائی آج بھی ان کے پیروکاروں کے لیے اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ یہی اثر و رسوخ ان کی آخری رسوم میں دکھائی دینے والے غیر معمولی عوامی جذبات سے بھی جھلکتا ہے۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ دنیا کا ہر منصب، ہر اختیار اور ہر شہرت بالآخر اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ باقی رہ جاتی ہے انسان کی نیت، اس کے اعمال اور وہ یادیں جو وہ لوگوں کے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کا آخری سفر بھی اسی ابدی حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ اقتدار عارضی ہے جبکہ کردار اور خدمت انسان کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ آج جب ان کی آخری رسوم کا مرحلہ جاری ہے تو یہ لمحہ صرف ایک شخصیت کو سپردِ خاک کرنے کا نہیں بلکہ ایک ایسے دور کو الوداع کہنے کا بھی ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین و عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین۔

جواب دیں

Back to top button