ٹوٹتےخاندان، بکھرتا معاشرہ

ٹوٹتے خاندان، بکھرتا معاشرہ
تحریر : امتیاز احمد شاد
انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ تنہائی میں نہیں بلکہ رشتوں، محبت، تعاون اور باہمی ذمہ داریوں کے ماحول میں اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اسی لیے دنیا کی ہر تہذیب میں خاندان کو بنیادی اکائی کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں تو خاندان صرف ایک سماجی ادارہ نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت، مذہب اور قومی شناخت کا اہم ستون ہے۔ اسلام نے بھی خاندان کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک پرامن، باوقار اور مضبوط معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اگر خاندان مضبوط ہو تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے، اور اگر خاندانی نظام کمزور پڑ جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
آج کی جدید دنیا میں ترقی، آزادی اور انفرادی زندگی کے تصورات نے کئی معاشروں میں خاندانی نظام کو متاثر کیا ہے۔ بعض ممالک میں مشترکہ خاندانی نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے، شادی کی شرح کم ہو رہی ہے، طلاق کے واقعات بڑھ رہے ہیں، اور بہت سے لوگ تنہا زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ممالک میں خاندان بالکل موجود نہیں، بلکہ یہ کہ وہاں روایتی اور مضبوط خاندانی ڈھانچے کی جگہ زیادہ انفرادی طرزِ زندگی نے لے لی ہے۔ اس تبدیلی نے جہاں کچھ سہولتیں پیدا کی ہیں، وہیں کئی سماجی اور نفسیاتی مسائل بھی جنم لیے ہیں، جن پر خود ان معاشروں میں بھی بحث جاری ہے۔
پاکستان کا معاشرہ خاندانی رشتوں کی مضبوطی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ یہاں والدین، بہن بھائی، دادا دادی، نانا نانی، چچا، ماموں، پھوپھیاں اور خالائیں صرف رشتے نہیں بلکہ زندگی کا سہارا سمجھے جاتے ہیں۔ خوشی ہو یا غم، بیماری ہو یا معاشی مشکل، خاندان ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو ہمارے معاشرے کو دنیا کے بہت سے معاشروں سے ممتاز بناتی ہے۔
اسلام نے خاندانی نظام کو صرف سماجی ضرورت نہیں بلکہ دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا بار بار حکم دیا گیا ہے۔ صلہ رحمی، یعنی رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھنا، اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔ نبی کریم ٔ نے فرمایا کہ بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔ یہ تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جہاں محبت، احترام، ذمہ داری اور ایثار خاندان کی بنیاد ہوں۔خاندان انسان کی پہلی درسگاہ ہے۔ بچہ سب سے پہلے بولنا، چلنا، اخلاق، آداب، سچائی، احترام اور ذمہ داری اپنے گھر سے سیکھتا ہے۔ اگر گھر کا ماحول محبت، برداشت اور تربیت سے بھرپور ہو تو بچے معاشرے کے ذمہ دار شہری بنتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر خاندان بکھرا ہوا ہو، والدین کے درمیان مسلسل اختلافات ہوں یا بچوں کو مناسب توجہ نہ ملے تو ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایک مضبوط خاندانی نظام معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں اکثر خاندان ایک دوسرے کی مالی مدد کرتے ہیں۔ بے روزگاری، بیماری یا کسی ہنگامی صورتحال میں رشتہ دار ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خاندانی تعاون بہت سے لوگوں کو شدید مشکلات سے بچا لیتا ہے۔ مغربی ممالک میں اگرچہ ریاستی فلاحی نظام نسبتاً مضبوط ہے، لیکن اس کے باوجود تنہائی، ذہنی دبائو اور سماجی لاتعلقی جیسے مسائل نمایاں ہیں، جنہیں صرف مالی سہولیات سے مکمل طور پر حل نہیں کیا جا سکتا۔
بزرگوں کا احترام بھی مضبوط خاندانی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ ہمارے معاشرے میں بزرگ تجربے، حکمت اور دعا کا سرچشمہ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ نئی نسل کی رہنمائی کرتے ہیں اور خاندان کو جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا کے بعض معاشروں میں بڑی تعداد میں بزرگ تنہا رہتے ہیں یا نگہداشت کے مراکز میں زندگی گزارتے ہیں۔ اگرچہ ان مراکز میں سہولیات موجود ہوتی ہیں، لیکن اولاد اور خاندان کی محبت کا نعم البدل کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
آج سوشل میڈیا، مصروف طرزِ زندگی، معاشی دبائو اور تیزی سے بدلتی ہوئی اقدار نے ہمارے خاندانی نظام کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد گھنٹوں موبائل فون استعمال کرتے ہیں مگر ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ والدین روزگار کی مصروفیات میں اور بچے ڈیجیٹل دنیا میں گم ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر ہم نے اپنے خاندانی رشتوں کو وقت نہ دیا تو رفتہ رفتہ وہ کمزور ہو سکتے ہیں۔
مضبوط خاندان صرف جذباتی سکون ہی نہیں دیتے بلکہ جرائم کی روک تھام، اخلاقی تربیت، ذہنی صحت اور سماجی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جن بچوں کو محبت، توجہ اور رہنمائی ملتی ہے، ان کے مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس خاندانی ٹوٹ پھوٹ نوجوانوں کو مختلف سماجی مسائل کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ سماجیات بھی خاندان کو معاشرتی استحکام کی بنیادی اکائی قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مضبوط خاندانی نظام کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خاندان میں موجود غلط روایات یا ناانصافیوں کو برقرار رکھا جائے۔ اسلام نے خاندان کے ہر فرد کے حقوق متعین کیے ہیں۔ عورت کو عزت، تعلیم، وراثت اور باوقار زندگی کا حق دیا گیا ہے۔ بچوں کے حقوق کی حفاظت اور بزرگوں کے احترام کے ساتھ ساتھ عدل، مشاورت اور باہمی احترام بھی خاندانی نظام کی بنیاد ہیں۔ ایک مثالی خاندان وہی ہے جہاں محبت کے ساتھ انصاف بھی موجود ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو خاندانی رشتوں کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، مشترکہ کھانے کی روایت کو فروغ دیں، بزرگوں کی خدمت کریں، رشتہ داروں سے رابطہ برقرار رکھیں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی عادت اپنائیں۔ جدید ٹیکنالوجی کو رشتوں کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ ان سے دوری پیدا کرنے کے لیے۔
پاکستان کی اصل طاقت صرف اس کی آبادی، وسائل یا جغرافیہ نہیں بلکہ اس کا مضبوط خاندانی نظام بھی ہے۔ اگر ہم اس نعمت کی حفاظت کریں، اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور محبت، برداشت اور باہمی احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو نہ صرف ہمارے خاندان بلکہ پورا معاشرہ زیادہ پرامن، خوشحال اور مضبوط بن سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مضبوط خاندان ایک مضبوط قوم کی پہچان ہوتے ہیں۔ دنیا کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، جدید ٹیکنالوجی کتنی ہی سہولتیں کیوں نہ فراہم کر دے، انسان کو محبت، اپنائیت، احساسِ تحفظ اور خلوص کی ضرورت ہمیشہ رہے گی، اور یہ تمام نعمتیں سب سے زیادہ خاندان ہی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے خاندان کی حفاظت، رشتوں کی پاسداری اور باہمی محبت کو عبادت کا درجہ دیا ہے۔ اگر ہم اپنے خاندانی نظام کو مضبوط رکھیں گے تو ہماری آئندہ نسلیں بھی اخلاق، کردار، اعتماد اور باہمی تعاون کی دولت سے مالا مال رہیں گی، اور یہی کسی بھی مہذب، خوشحال اور پائیدار معاشرے کی اصل بنیاد ہے۔







