
جھنگ میں پاسپورٹ آفس آنے والے ایک شہری نے انتظامات اور عملے کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق شہری کا کہنا ہے کہ وہ صبح 9 بجے تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ پاسپورٹ بنوانے کے لیے دفتر پہنچا، جہاں ابتدائی طور پر رش کم تھا، تاہم بعد ازاں شہریوں کی تعداد بڑھتی گئی جبکہ اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔
شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شدید گرمی کے باوجود دفتر کے باہر انتظار کرنے والے مرد و خواتین کے لیے نہ بیٹھنے کا مناسب انتظام تھا، نہ پنکھوں اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کی سہولت فراہم کی گئی۔
شہری کے مطابق کچھ دیر بعد سیکیورٹی اہلکار نے انتظار کرنے والے افراد کو بتایا کہ سسٹم عارضی طور پر بند ہے، جس کے باعث تمام درخواست گزاروں کو انتظار کرنا ہوگا۔ پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہریوں کی جانب سے بہتر انتظامات کی درخواست پر بعض عملے نے غیر مناسب رویہ اختیار کیا، جس پر کئی افراد مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سسٹم بحال ہونے کے بعد پاسپورٹ کی کارروائی چند منٹ میں مکمل ہو گئی، تاہم طویل انتظار اور عملے کے رویے نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا رکھا۔
متاثرہ شہری نے ضلعی انتظامیہ، متعلقہ حکام اور پاسپورٹ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جھنگ پاسپورٹ آفس کے انتظامات، شہری سہولیات اور عملے کے رویے کا جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور باوقار ماحول میں خدمات فراہم کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزامات ایک شہری کی سوشل میڈیا پوسٹ پر مبنی ہیں، جن کی متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔







