ایران کے صدر کا دورہ پاکستان

اداریہ۔۔
ایران کے صدر کا دورہ پاکستان
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا حالیہ دورہ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت پورا خطہ مختلف سیاسی، سفارتی اور سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، پاکستان اور ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں نے نہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار کی ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے حوالے سے بھی مثبت توقعات کو جنم دیا ہے۔ پاکستان اور ایران دو ہمسایہ برادر اسلامی ممالک ہیں، جن کے تعلقات صرف جغرافیائی قربت تک محدود نہیں، بلکہ مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور معاشرتی بنیادوں پر بھی استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان صدیوں پر محیط روابط موجود ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اسلام آباد اور تہران نے باہمی احترام اور اعتماد کے رشتے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی صدر نے اپنی گفتگو میں پاکستان کو صرف ہمسایہ نہیں بلکہ دوست اور برادر ملک قرار دے کر اسی تاریخی حقیقت کو اجاگر کیا۔ صدر مسعود پزشکیان کا یہ بیان کہ ’’ پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں‘‘، دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت کو بخوبی بیان کرتا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی روابط نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔اس دورے کی ایک اہم جہت پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی اور سفارتی ہم آہنگی کا فروغ بھی ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل مذاکرات، افہام و تفہیم اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ حالیہ عرصے میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیش رفت نے بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات کو تقویت دی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے مفاہمت اور امن کے لیے ادا کیے گئے کردار کو ایرانی قیادت کی جانب سے سراہا جانا ایک مثبت سفارتی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکراتی عمل کی کامیابی اور امن کوششوں کے لیے نیک تمناں کا اظہار اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام اور تنازعات کے پُرامن حل کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم جزو سمجھتا ہے۔ پاکستان کی یہ پالیسی نہ صرف اس کے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے ایک ذمے دار ریاست کے طور پر متعارف کراتی ہے۔ دورے کے دوران ہونی والی اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں اقتصادی تعاون کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی امکانات انتہائی وسیع ہیں، لیکن مختلف وجوہ کی بنا پر دونوں ممالک اپنی حقیقی معاشی استعداد سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ سرحدی تجارت، توانائی کے شعبے میں تعاون، ٹرانسپورٹ روابط اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایران توانائی کے وسیع ذخائر رکھنے والا ملک ہے جبکہ پاکستان توانائی کی ضروریات میں مسلسل اضافے کا سامنا کررہا ہے۔ اگر دونوں ممالک باہمی اعتماد اور عملی اقدامات کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دیں تو نہ صرف تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ممکن ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس ضمن میں دونوں حکومتوں کو طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ سیاسی تعلقات معاشی شراکت داری میں بھی تبدیل ہوسکیں۔صدر پزشکیان کی صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں بھی اس دورے کی اہم خصوصیات میں شامل رہیں۔ خصوصاً فوجی قیادت اور ایرانی صدر کے درمیان ہونے والی گفتگو اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال میں سیکیورٹی تعاون اور باہمی رابطوں کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔ دہشت گردی، سرحدی جرائم اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز ایسے مسائل ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان موثر تعاون ناگزیر ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک نے تنازعات کے پُرامن حل اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ آج کی دنیا میں طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور باہمی احترام پر مبنی پالیسی ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔اس دورے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے پاکستان کی سفارتی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنی کی کوشش کی ہے۔ ایران، سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ بیک وقت مثبت تعلقات برقرار رکھنا پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ایک روزہ دورہ مختصر تھا، تاہم اس کے اثرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملاقاتوں اور اعلانات عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ بلاشبہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک مثبت سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دورہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان اور ایران نہ صرف قریبی ہمسائے ہیں بلکہ خطے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ مفاد میں ایک دوسرے کے اہم شراکت دار بھی ہیں۔
شذرہ۔۔
صحت کے بہتر انتظامات کی ضرورت
ملک کے مختلف شہروں خصوصاً کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ تشویش ناک صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے۔ شدید گرمی، آلودہ پانی، غیر معیاری خوراک اور عیدالاضحیٰ کے بعد قربانی کے گوشت کے غیر محتاط استعمال نے صحتِ عامہ کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا بڑھتا ہوا رش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوامی صحت کے شعبے کو فوری اور موثر توجہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہر سال گرمیوں کے موسم کے دوران گیسٹرو، اسہال اور دیگر معدے کی بیماریوں کے کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، مگر افسوس کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ پیشگی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ نتیجتاً اسپتالوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے، طبی عملہ دبا کا شکار ہوتا ہے اور عام شہریوں کو علاج معالجے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحت کے شعبے میں منصوبہ بندی کی کمی اور بنیادی سہولتوں کا فقدان اس صورت حال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صحتِ عامہ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کریں۔ اسپتالوں میں ادویات، طبی عملے اور بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، تاکہ ہنگامی حالات میں مریضوں کو بروقت سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ آلودہ پانی متعدد بیماریوں کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہمات کا بھی انعقاد ناگزیر ہے۔ شہریوں کو خوراک کو محفوظ رکھنے، صفائی کا خیال رکھنے، ابلا یا صاف پانی استعمال کرنے اور باسی یا غیر معیاری کھانوں سے پرہیز کے بارے میں موثر انداز میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خوراک کے معیار کی نگرانی کرنے والے اداروں کو بھی فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بازاروں، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دیگر جگہوں پر حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا سکے۔ غیر معیاری خوراک فروخت کرنے والوں کے خلاف مثر کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑھتے ہوئے گیسٹرو اور اسہال کے کیسز ایک وارننگ ہیں کہ صحتِ عامہ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف اسپتالوں پر دبائو بڑھے گا بلکہ عوام کی صحت اور قومی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ ایک صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتا ہے، اس لیے حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام سب کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔







