پاکستان کا روشن مستقبل

پاکستان کا روشن مستقبل
تحریر : امتیاز احمد شاد
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور ترقی کا بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ اگر نوجوان جسمانی، ذہنی، تعلیمی اور معاشی طور پر مضبوط ہوں تو وہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج پاکستان کے نوجوان مختلف بیماریوں، پریشانیوں اور سماجی و معاشی مسائل کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں پوری طرح نکھر نہیں پاتیں اور وہ قومی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ موجودہ دور میں نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بیماریوں میں ذہنی دبائو، ڈپریشن، بے چینی، موٹاپا، ذیابیطس، دل کی بیماریاں، منشیات کا استعمال اور غذائی قلت شامل ہیں۔ تیز رفتار زندگی، تعلیمی دبائو، خاندانی مسائل، سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نوجوانوں میں ذہنی تنائو کو بڑھا رہی ہے۔ بہت سے نوجوان ڈپریشن اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، خود اعتمادی کم ہوجاتی ہے اور وہ مثبت سرگرمیوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی کے باعث موٹاپا اور ذیابیطس جیسے امراض نوجوان نسل میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ ان بیماریوں کی وجہ سے جسمانی توانائی میں کمی آتی ہے اور نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام نہیں کر پاتے۔ اس کے علاوہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بعض نوجوان دوستوں کی صحبت، معاشرتی دبائو، بے روزگاری یا ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے نشے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی صحت تباہ ہوتی ہے بلکہ ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
نوجوانوں کو درپیش مسائل صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی، معاشی اور سماجی نوعیت کے بھی ہیں۔ پاکستان میں بے روزگاری نوجوانوں کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں لیکن انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار میسر نہیں آتا۔ روزگار کے محدود مواقع، صنعتی ترقی کی سست رفتار، میرٹ کی کمی اور سفارش کے کلچر نے نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔ جب نوجوانوں کو مناسب ملازمت نہ ملے تو ان میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں کے بجائے غیر تعمیری کاموں میں صرف کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں۔ نصاب اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔ بہت سے نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن عملی مہارتوں، ٹیکنیکل تربیت اور جدید تقاضوں سے ناواقف رہتے ہیں، جس کے باعث انہیں ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور تحقیق کے شعبوں میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے۔
سماجی مسائل بھی نوجوانوں کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ غربت، آبادی میں تیزی سے اضافہ، خاندانی تنازعات، عدم مساوات اور تفریحی و تعمیری سرگرمیوں کی کمی نوجوانوں کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بہت سے نوجوان ایسے ماحول میں پرورش پاتے ہیں جہاں انہیں مناسب رہنمائی اور مثبت مواقع میسر نہیں ہوتے۔ سوشل میڈیا اگرچہ معلومات اور رابطے کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اس کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں میں وقت کے ضیاع، ذہنی دبائو، غیر حقیقی توقعات اور سماجی تنہائی کا سبب بھی بن رہا ہے۔ بعض نوجوان اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرکے احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، مہنگائی اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بھی نوجوانوں کی امیدوں اور خوابوں کو متاثر کرتی ہے۔ جب نوجوان اپنے مستقبل کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں تو ان کی محنت، تخلیقی صلاحیت اور قومی جذبہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔
ان مسائل کی کئی وجوہات ہیں جن میں ناقص تعلیمی منصوبہ بندی، صحت کے شعبے میں محدود سہولیات، نوجوانوں کے لیے روزگار کے ناکافی مواقع، خاندانی اور سماجی دبائو، کرپشن، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور حکومتی سطح پر نوجوانوں کی فلاح کے لیے موثر پالیسیوں کا فقدان شامل ہیں۔ بہت سے علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن نہیں ہو پاتا۔ اسی طرح ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہی، کیونکہ اکثر لوگ ذہنی بیماریوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور متاثرہ نوجوان مناسب مدد حاصل نہیں کر پاتے۔
ان تمام مسائل کے حل کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، والدین، میڈیا اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور نوجوانوں کے لیے جسمانی و ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ذہنی صحت کے مراکز قائم کیے جائیں جہاں نوجوانوں کو مشاورت اور رہنمائی فراہم کی جاسکے۔ کھیلوں کے میدان، تفریحی مراکز اور جسمانی سرگرمیوں کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ نوجوان صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر سکیں۔ تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے اور طلبہ کو عملی مہارتیں، فنی تربیت، کاروباری صلاحیتیں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائے۔ حکومت کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کرنے اور آسان قرضوں کی فراہمی جیسے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ نوجوان خود روزگار کے قابل بن سکیں۔ منشیات کے خاتمے کے لیے سخت قوانین کے ساتھ ساتھ آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بہتر رابطہ رکھیں، ان کے مسائل سنیں اور انہیں جذباتی تعاون فراہم کریں۔ میڈیا کو بھی مثبت کردار ادا کرتے ہوئے نوجوانوں کے لیے تعلیمی، تربیتی اور حوصلہ افزا مواد پیش کرنا چاہیے۔
مختصراً، پاکستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن بیماریوں، ذہنی دبائو، بے روزگاری، ناقص تعلیم، غربت اور دیگر سماجی مسائل نے ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ اگر ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے، نوجوانوں کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور مثبت ماحول فراہم کیا جائے تو یہی نوجوان پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے، لہٰذا نوجوانوں کی فلاح و بہبود دراصل پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔







