ColumnImtiaz Aasi

وفاقی سیکرٹری ایسے بھی ہوتے ہیں

وفاقی سیکرٹری ایسے بھی ہوتے ہیں

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

دیکھا جائے تو حکومتی امور چلانے میں وفاقی وزراء کی بجائے وفاقی سیکرٹریوں کو اختیارات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایک وفاقی وزیر کے مقابلے میں سیکرٹریوں کو لامحدود مالی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ شائد اسی لئے سیاست دان اقتدار میں آنے کے بعد اپنے من پسند سیکرٹریوں کو اپنا پرنسپل سیکرٹری اور اہم عہدوں پر فائز کرتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت بیوروکریٹس کی جو کھیپ ہمارے حصے میں آئی راست بازی کی اعلیٰ مثالیں چھوڑ گئے جنہیں لوگ آج بھی شاندار الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ اب تو ایسا وقت آگیا ہے اگر کوئی افسر گریڈ بیس سے اگلے گریڈ کے لئے اہل نہیں سمجھا جاتا تو سیاست دان اقتدار میں آنے کے بعد انہیں سنیٹر بنوا کر وزارت پر فائز کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائیوں کا وتیرہ رہا ہے بعض ایسے ایسے بیوروکریٹس کو اپنے قریب رکھا جنہوں نے بڑی بڑی جائیدادیں اور بیرون ملک اثاثے بنائے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے ایک بھائی دوسرے بھائی کو بعض بیوروکریٹس اور سیاست دانوں سے دوستی رکھنے سے منع کرتا ہے جب کہ دوسرا بھائی انہی کو اپنی زندگی کا اثاثہ تصور کرتا ہے۔ تعجب ہے جن بیوروکریٹس کے خلاف مقدمات قائم ہوئے انہی کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا۔ بلاشبہ سیاست دانوں کا اقتدار میں آنے کے بعد بیوروکریسی کے بغیر کام نہیں چلتا مگر نوازنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ایک دوست بتا رہے تھے ایک گریڈ بیس کے بیوروکریٹ کے خلاف پنجاب میں جب مقدمات قائم ہوئے تو اس نے اپنے ایک کلاس فیلو سے ملاقات کے دوران بتایا اسے ملازمت سے کوئی دل چسپی نہیں ہے اس نے اتنے پیسے کما لئے ہیں لہذا نوکری کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ اگر میں نام لوں تو بھونچال آجائے مگر حفظ مراتب کا تقاضا ہے کہ پردہ پوشی بہت ضروری ہے۔ دراصل معاملہ کچھ اس طرح ہے سیاست دانوں کی اکثریت لکھنے پڑھنے سے عاری ہوتی ہے ۔آپ یقین کریں ایک وزیراعظم کو ایک پروفسیر نے بی اے کے پرچے گھر پر حل کرائے تھے۔ جب اس طرح کے لوگ عوام پر مسلط کئے جائیں گے تو انہیں بیوروکریسی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں بیوروکریٹس کی جو کھیپ آئی اس میں جناب مظہر رفیع اور لطف اللہ مفتی ایسے اعلی افسران نے راست بازی کی اعلیٰ مثالیں چھوڑی ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک روز میں نے جناب مظہر رفیع سے پوچھ لیا سر آپ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات کے عہدے سے کیوں تبدیل کئے گئے۔ کہنے لگے میں دو مرتبہ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات کے عہدے پر رہا جب کہ تیسری مرتبہ نگران دور میں مولانا کوثر نیازی نے انہیں سیکرٹری اطلاعات کی آفر کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر میں نے پوچھ لیا آپ چیئرمین سی ڈی اے بھی رہے وہاں سے کیوں تبدیل کئے گئے تو بتانے لگے جب وہ سیکرٹری اطلاعات و نشریات تھے آئے روز وفاقی وزیر اطلاعات کسی نہ کسی صحافی کو نوازنے کے لئے انہیں پیسے دینے کی خواہش ظاہر کرتے۔ چنانچہ ایک روز انہوں نے وزیر صاحب سے کہہ دیا جناب ان پیسوں کا حساب تو کل مجھے دینا پڑے گا جس کے بعد انہوں نے اپنا تبادلہ کرا لیا۔ چیئرمین سی ڈی اے کی بات کرتے ہوئے بتانے لگے اسلام آباد میں ایک ہوٹل کے لئے اراضی درکار تھی ۔ کابینہ نے جو کمیٹی اس سلسلے میں بنائی اس کے وہ سیکرٹری تھے۔ سی ڈی اے بائی لاز کے مطابق جتنی جگہ مل سکتی تھی انہوں نے سمری کابینہ اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو بھیج دی۔ اگلے روز وزیراعظم کے سپیشل اسٹنٹ جنرل نصیر اللہ خان بابر کا فون آیا کہ ہوٹل کے لئے جگہ زیادہ ضرورت ہے۔ جس کے جواب میں انہوں نے بتایا سی ڈی اے بائی لاز کے مطابق جو اراضی مل سکتی تھی اس سے زیادہ میں نہیں دے سکتا۔ نصیر اللہ خان بابر کہنے لگے وہ سمری واپس کرتے ہیں آپ دوبارہ نئی سمری بنا لیں جس پر انہوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ چند منٹ کے بعد حاکم علی زرداری صاحب کا فون آگیا وہ سمری واپس کرتے ہیں آپ جگہ زیادہ دے دیں جس پر انہوں نے پھر انکار کر دیا۔ مظہر رفیع صاحب بتانے لگے بات چیت ختم ہونے کے بعد انہوں نے اپنی میز کی درازیں صاف کر لیں، کیونکہ انہیں اس بات کا پوری طرح ادراک تھا وہ کل چیئرمین نہیں رہیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اگلے روز وہ او ایس ڈی بنا دیئے گئے۔ جناب مظہر رفیع اور جناب لطف اللہ مفتی سے اس ناچیز کے قریبی روابط رہے۔ جناب مظہر رفیع تو اگلے جہان کو سدھار گئی، جبکہ جناب لطف اللہ مفتی حیات ہیں حق تعالیٰ انہیں صحت والی لمبی زندگی دے، آمین۔ لطف اللہ مفتی دو مرتبہ وفاقی سیکرٹری وزارت مذہبی امور رہے، وہ وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کے کہنے کے باوجود سرکاری اخراجات پر حج و عمرہ پر جانے پر رضا مند نہیں ہوئے۔ سعودی عرب میں قائم پاکستان حج مشن میں ڈائریکٹر جنرل اور رابطہ آفیسر کی اسامیوں کو انہی کے دور میں ختم کیا گیا۔ جنا ب مفتی ان اسامیوں کو ہمیشہ غیر ضروری سمجھتے تھے، لیکن بعض طالع آزمائوں نے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کو دوبارہ بحال کرا لیا۔ ایک روز میں ان کے آفس میں بیٹھا تھا کہ ایک معروف سیاست دان جن کا تعلق ایک مذہبی جماعت سے ہے انہیں فون کیا کہ مکہ مکرمہ میں کسی صاحب کی عمارات حاجیوں کے لئے کرایوں پر لے لیں لیکن سیکرٹری صاحب نے انہیں جواب دیا وہ ڈائریکٹر حج کا اختیار ہے ان کے دائرہ کار سے باہر ہے لہذا آپ ڈائریکٹر حج سے رابطہ کریں۔ لطف اللہ مفتی سیاست دان کو ممنون کرنا چاہتے تو انہیں صرف ایک کال کرنے کی ضرورت تھی مگر مفتی صاحب کبھی کسی کی سفارش نہیں کرتے تھے۔ عبداللہ صاحب کا تعلق ہر ی پور سے تھا وہ ڈائریکٹر جنرل حج تعینات ہوئے تو سعودی وزیر حج عبدالوہاب عبدالوسع نے انہیں عمارات کرایوں پر لینے کی سفارش کی تو عبداللہ صاحب نے موقع پر ہی معذرت کر لی۔ جناب مشکور احمد خان سپیشل سیکرٹری عملہ ڈویژن لگے تو ایک وزیراعظم نے انہیں رانا مقبول کو آئی جی بنانے کی سفارش کی تو مشکور صاحب نے انکار کرتے ہوئے جواب دیا وہ سینیارٹی میں سب سے آخر میں ہے، لہذا اسے آئی جی نہیں بنایا جا سکتا ۔ پھر ایک وقت آیا وزیراعظم صاحب نے رانا مقبول کو آئی جی کے ساتھ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد سینیٹر بھی بنوا دیا، یہی تو آج کے سیاست دانوں کی خوبیاں ہیں۔

جواب دیں

Back to top button