ColumnQadir Khan

لبنان، اسرائیل جنگ بندی کا مستقبل

لبنان، اسرائیل جنگ بندی کا مستقبل
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
لبنان اور اسرائیل کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے معاہدے کا مستقبل کسی پائیدار امن کی نوید سنانے کے بجائے ایک ایسی کمزور اور نازک جنگ بندی کا منظرنامہ پیش کر رہا ہے جس کی بنیادیں ریت پر رکھی گئی ہیں۔ سفارتی ایوانوں میں تیار کی گئی،دستاویزات وقتی طور پر بڑے پیمانے پر ہونے والی خونریزی کو تو روک سکتی ہیں، لیکن جب تک حزب اللہ کے علاقائی کردار، اسرائیل کی عسکری حکمت عملی اور لبنانی ریاست کی کھوکھلی ہوتی ہوئی صلاحیتوں میں کوئی بنیادی اور گہری تبدیلی نہیں آتی، یہ جنگ بندی محض ایک وقفہ ثابت ہوگی۔
تاہم، اس بظاہر خوبصورت سفارتی خاکہ میں سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ حزب اللہ، جس کے تعاون پر اس پوری جنگ بندی کی کامیابی کا دارومدار ہے، وہ براہ راست ان مذاکرات کا فریق ہی نہیں ہے۔ اس نے ان نئی شرائط کی تاحال کوئی عوامی سطح پر توثیق نہیں کی ہے۔ مزید برآں، یہ معاہدہ ان بنیادی سوالات کا جواب دینے سے بھی قاصر ہے کہ آیا اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے ان حصوں سے کب اور کیسے مکمل انخلاء کریں گی جن پر وہ اس وقت قابض ہیں؟ اور اگر کوئی فریق اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کی تحقیقات اور سزا کے لیے کون سا غیر جانبدار اور مضبوط میکانزم موجود ہوگا؟ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو 2024ء سے لے کر اب تک ہونے والی جنگ بندیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ رہے ہیں۔ نومبر 2024ء میں امریکہ اور فرانس کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایک سالہ کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701کے تحت لبنانی فوج اور یونیفل(UNIFIL) کی مدد سے جنوب کو حزب اللہ سے پاک کیا جائے۔ مگر عملی طور پر کیا ہوا؟ اسرائیلی فضائی حملے، دراندازی اور پروازیں بلا روک ٹوک جاری رہیں اور حزب اللہ بھی اپنے ہتھیاروں کے ساتھ وہیں موجود رہی۔ اوائل 2026 تک یونیفل نے لبنان کی فضائی حدود کی 10ہزار سے زائد اسرائیلی خلاف ورزیوں اور 14سو کے قریب عسکری سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا۔
زمینی حقائق یہی ہیں کہ کسی جنگ بندی نے جنگ کو کبھی روکا ہی نہیں، کیونکہ اسرائیل نے پیشگی سیلف ڈیفنس کے نام پر حملے کرنے کی آزادی کو برقرار رکھا، جبکہ یہ طے کرنے کا کوئی معتبر اور غیر جانبدار طریقہ کار موجود نہیں تھا کہ آیا نشانہ بننے والے واقعی حزب اللہ کے ٹھکانے تھے یا نہیں۔ اس سفارتی منافقت کا نتیجہ مارچ 2026ء میں ایک نئی اور ہولناک جنگ کی صورت میں نکلا جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹوں اور ڈرونز کی برسات کر دی۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے ہزاروں فضائی حملے کیے اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے جنوبی لبنان میں 8سے 10کلومیٹر اندر تک گھس کر ایک نیا ’’ سیکیورٹی زون‘‘ قائم کر لیا۔ وسط اپریل میں 10روزہ جنگ بندی نے ایک عارضی سکوت تو پیدا کیا، لیکن اسرائیل نے اس بفر زون میں اپنی فوجیں برقرار رکھیں اور طاقت کے استعمال کا حق بھی محفوظ رکھا، جس نے اس بندوبست کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کر دیا۔ یہ تمام واقعات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندیاں تنازعے کو ختم کرنے کے بجائے محض کشیدگی کو وقتی طور پر سنبھالنے کا ایک آلہ رہی ہیں، جو عموماً چند ماہ میں ہی دم توڑ دیتی ہیں۔
مارچ اور اپریل کی لڑائی میں اسرائیل نے 3500سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا اور قریباً 10لاکھ 50ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ جنگ بندی کے فوراً بعد ہی خلاف ورزیاں شروع ہو جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ یہاں ایک مسلسل کم درجے کا تشدد موجود رہتا ہے جو کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم میں بدل سکتا ہے۔ اس معاہدے کے مستقبل کا تعین کرنے والے ساختی عوامل کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلا عنصر حزب اللہ کی طاقت، اس کا نقصان اور اس کے محرکات ہیں۔2024ء کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں نے حزب اللہ کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے، جس میں ایلیٹ رضوان یونٹس اور سینئر کمانڈرز سمیت ایک ہزار سے زائد جنگجوئوں کی ہلاکت شامل ہے۔ تاہم، حزب اللہ آج بھی دسیوں ہزار راکٹوں اور جنوبی لبنان میں اپنی گہری عوامی حمایت کے ساتھ ایک طاقتور فریق ہے۔ وہ کسی صورت غیر مسلح ہونے یا اپنی ’’ مزاحمت‘‘ کے بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحت وقتی طور پر تو جنگ بندی کی پابندی کر سکتی ہے، لیکن کم درجے کے حملوں کا آپشن وہ اپنے پاس محفوظ رکھے گی۔
دوسرا اہم عنصر اسرائیل کی فارورڈ ڈیفنس کی پالیسی اور اس کی ملکی سیاست ہے۔ اسرائیلی قیادت کھلے عام اپنے مقاصد میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور لبنان کے اندر اپنے لیے ایک دفاعی جگہ بنانا شامل بتاتی ہے۔ اسرائیلی فوج کا لیطانی دریا کو پار کرنا اور مغربی سیکٹر میں گہرائی تک جانا اس امر کی دلیل ہے کہ اسرائیل کا سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ شمالی آبادیوں کے تحفظ کے لیے پیشگی حملوں اور لبنان کے اندر فوج کی موجودگی کو ضروری سمجھتا ہے۔ اگر اسرائیل کی یہ پالیسی جاری رہی تو کوئی بھی رسمی جنگ بندی زمینی سطح پر ایک غیر مستحکم اور مسلح صلح ہی نظر آئے گی۔ تیسرا عامل لبنانی ریاست کی صلاحیت اور فوج کا کردار ہے۔ گو کہ لبنانی فوج عسکری طور پر جنوب میں تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن سیاسی طور پر وہ حزب اللہ سے محاذ آرائی میں انتہائی محتاط ہے۔ لبنان کا معاشی دیوالیہ پن، بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی اور شدید سیاسی تقسیم ریاست کے سبب وہ اندرونی خانہ جنگی کا خطرہ مول لیے بغیر کوئی بڑا قدم اٹھا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ پائلٹ زونز‘‘ کا قیام محض کاغذوں تک محدود رہنے یا انتہائی سست روی کا شکار ہونے کا قوی امکان ہے۔
چوتھا عنصر مانیٹرنگ اور قانون کا نفاذ ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی خلاف ورزیوں پر سزا دینے یا غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کا کوئی موثر عالمی یا علاقائی نظام متعارف نہیں کرایا گیا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور چند یورپی ممالک اسے خطے کے وسیع تر امن اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اہم سمجھتے ہیں، لیکن بیرونی سفارت کاری مقامی سطح پر طاقت کے نفاذ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ اس معاہدے کا مستقبل محض امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے الفاظ پر نہیں، بلکہ خطے میں طاقت کے بدلتے ہوئے ان توازن، سیاست اور علاقائی سفارت کاری پر منحصر ہے جو ابھی تک کسی ٹھوس اور مثبت نتیجے تک پہنچنے میں یکسر ناکام رہے ہیں۔ اصل امن ابھی کوسوں دور ہے اور موجودہ حالات صرف ایک منظم مگر انتہائی غیر مستحکم مسلح جنگ بندی کی ہی تصویر کشی کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button