پیپلز پارٹی کے بانی رکن سید قائم علی شاہ کون ہیں؟
پیپلز پارٹی کے بانی رکن سید قائم علی شاہ کون ہیں؟
تحریر : محمد شاہد کبر
سیاست ایک انتہائی مشکل کھیل ہے۔ لیکن جسے اس کھیل کے گرُ آتے ہوں، ان کے لیے اعلیٰ عہدوں پر رہنا دائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ یہی کچھ سندھ جیسے اہم صوبے کے تین مرتبہ وزیراعلیٰ رہنے والے قائم علی شاہ کے ساتھ بھی رہا۔17 اگست 1988ء کو ایک فضائی حادثے میں سابق فوجی آمر ضیاالحق کی ہلاکت کے بعد جب محترمہ بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس آئیں اور عام انتخابات میں حصہ لیا، تو ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی، جس کے بعد سید قائم علی شاہ نے بطور وزیراعلیٰ سندھ پہلی بار دو دسمبر 1988ء کو حلف لیا۔ مگر ان کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکی۔ اس وقت صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کی وفاقی حکومت برطرف کردی تھی، جس کے بعد سندھ حکومت بھی ختم ہوگئی۔ وہ اس عہدے پر تقریباً ایک سال، دو ماہ اور 23دن تک رہے اور 25فروری 1990ء کو ان کی حکومت ختم کردی گئی۔
بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008ء میں ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اکثریت سے جیت گئی، جس کے بعد سید قائم علی شاہ نے دوسری بار بطور وزیراعلیٰ سندھ چھ اپریل 2008ء کو حلف اٹھایا۔ ان کی حکومت تقریباً چار سال، 11ماہ اور 15دن تک جاری رہی اور ان کی آئینی مدت 21مارچ 2013ء تک رہی۔ تیسری بار وہ 30مئی 2013ء سے 25جولائی 2016ء تک وزیراعلیٰ سندھ رہے۔ کراچی میں بدامنی، تھر میں شیرخوار بچوں کی تواتر سے ہلاکتیں اور 2010ء کے تباہ کن سیلاب سمیت اپنی جماعت کے اندر اور باہر انہیں کئی مواقعوں پر ہٹائے جانے کا خطرہ پیدا ہوا، لیکن وہ اپنی وفاداری کی وجہ سے کامیاب رہے۔ انہیں آصف علی زرداری کا آشیرباد حاصل رہا۔ مگر ان کی تیسری حکومت اپنی مکمل آئینی مدت پوری نہ کر سکی۔ جولائی 2016ء میں پیپلز پارٹی نے اندرونی سیاسی فیصلے کے تحت انہیں ہٹا کر مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔
اس طرح تین بار وزیراعلیٰ سندھ رہنے والے سید قائم علی شاہ تینوں ادوار میں مجموعی طور پر قریباً نو سال، چار ماہ اور چند دن تک وزیراعلیٰ سندھ رہے۔ سید قائم علی شاہ کی ابتدائی زندگی اور سیاست میں شمولیت سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے سربراہ سید قائم علی شاہ، سندھ اسمبلی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق 13ستمبر 1933 ء کو سید رمضان علی شاہ جیلانی کے گھر خیرپور میرس میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا شمار خیرپور میرس کے بااثر اور تعلیم یافتہ خاندانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے خیرپور کے تاریخی ناز ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد ان کے والدین نے نوجوان قائم علی شاہ کی شادی ایک رشتہ دار لڑکی سے کرا دی۔ شادی کے بعد سید قائم علی شاہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری اور بعد میں سندھ مسلم گورنمنٹ لا کالج، کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
سید قائم علی شاہ کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ سابق فوجی آمر ایوب خان کے دور حکومت میں انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل خیرپور کے چیئرمین منتخب ہوکر باضابطہ سیاست کا آغاز کیا۔ ان کے چیئرمین منتخب ہونے کے کچھ عرصے بعد، 30نومبر 1967ء کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بنانے کا اعلان کیا، تو سید قائم علی شاہ نے اس میں بانی رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کرلی۔ سیاست میں باضابطہ سرگرمیاں1970ء کے انتخابات میں سید قائم علی شاہ نے خیرپور میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اپنے مخالفین، بشمول سید غوث علی شاہ اور عوامی نیشنل پارٹی ولی خان گروپ کے صوبائی صدر کامریڈ سید باقر علی شاہ کو قومی اسمبلی کی نشست پر شکست دے کر کامیابی حاصل کی، اور ان کی کامیابی بھٹو کو اتنی پسند آئی کہ بھٹو نے انہیں اپنی کابینہ میں شامل کرکے صنعت اور کشمیر امور کا وفاقی وزیر بنا دیا۔
وہ تین بار طویل عرصے تک پیپلز پارٹی سندھ کے صدر بھی رہے۔ پہلی بار 1973ء سے 1977ء تک، دوسری بار 1987ء سے 1997ء تک، جبکہ تیسری بار 2004ء میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر رہے۔ جنرل ضیا کی آمریت1977ء میں سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا، تو بھٹو کے کئی قریبی ساتھیوں کے ساتھ سید قائم علی شاہ کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ ضیاء الحق کی جانب سے پیپلز پارٹی کارکنان پر ظلم و ستم کے بعد پیپلز پارٹی کے کئی اہم رہنما، بشمول غلام مصطفیٰ کھر، مخدوم خلیق الزماں، غلام مصطفیٰ جتوئی اور دیگر نے یا تو پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی یا سیاسی سرگرمیوں کو محدود کر دیا، مگر سید قائم علی شاہ پارٹی سے وفادار رہے۔
جنرل ضیاء الحق کے 11سالہ فوجی دور حکومت میں سید قائم علی شاہ اور ان کے رشتہ داروں کو قید و بند اور تشدد برداشت کرنا پڑا۔ سید قائم علی شاہ کو جنرل ضیاء الحق حکومت کی جانب سے مراعات دینے کی کئی پیشکشیں ہوئیں، مگر انہوں نے بھٹو اور پیپلز پارٹی سے اپنی وفاداریاں نہیں بدلیں۔ فوجی حکومت کی جانب سے ان پر کئی مقدمات قائم کیے گئے، تاہم ان کے سالے اے کے ( اللہ بخش کریم بروہی) کے ضیاء الحق سے قریبی تعلقات کے باعث انہیں نظربندی کے نام پر اپنی رہائش گاہ میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان کے بینک اکانٹس بند کیے گئے، زمینیں ضبط کی گئیں اور انہیں سرگرم سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔
سید قائم علی شاہ کے سیاسی طور پر انتہائی سرگرم بھانجے سید پرویز علی شاہ کو جہاز ہائی جیکنگ کیس میں گرفتار کیا گیا۔ 1981ء میں کراچی سے پشاور جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 326کو شدت پسند تنظیم الذوالفقار نے ہائی جیک کرکے پہلے کابل اور بعد میں شام کے دارالحکومت دمشق لے جایا تھا، جہاں تمام مسافروں کو 13دن تک یرغمال رکھا گیا۔ پرویز علی شاہ کو گرفتار کرکے کراچی کے لانڈھی میں قائم ٹارچر سیل اور بعد میں سی آئی اے سینٹر کے عقوبت خانوں میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں پانچ سال کراچی اور خیرپور جیل میں قید رکھا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی 1985ء کی رپورٹ میں سید پرویز علی شاہ کو ’’ ضمیر کا قیدی‘‘ قرار دیا، کیونکہ وہ پانچ سال تک جنرل ضیاء الحق حکومت کے ٹارچر سیلوں میں رہے۔ پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اپنی سوانح عمری ’’ ڈاٹر آف دی ایسٹ‘‘ میں سید پرویز علی شاہ کی جدوجہد کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ سید قائم علی شاہ کو 1990 ء کی دہائی میں جام صادق علی کی حکومت کی جانب سے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ دو ماہ جیل میں رہے، بعد میں ضمانت پر رہا ہوئے اور کچھ عرصے کے لیے مفرور بھی رہے۔
خیرپور کے جیلانی خاندان میں سب سے پہلے سید قائم علی شاہ اور ان کے بھانجے سید پرویز علی شاہ پیپلز پارٹی سے وابستہ ہوئے۔ پہلے ذوالفقار علی بھٹو اور بعد میں بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی رہے، جبکہ جیلانی خاندان کے دیگر افراد سن 2000کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ قائم علی شاہ کو تحریک بحالی جمہوریت میں کی گئی جدوجہد کا صلہ ملا۔ سات فروری 1981ء کو بیگم نصرت بھٹو نے شیر باز مزاری، محمود علی قصوری، معراج محمد خان، نوابزادہ نصراللہ خان اور دیگر رہنماں کے ساتھ 70کلفٹن کراچی میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریک بحالی جمہوریت، ایم آر ڈی، کا اعلان کیا۔ سید قائم علی شاہ نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ سید قائم علی شاہ 1990ء میں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے۔ وہ 1997ء میں سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔2008ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد جب پیپلز پارٹی کی قیادت نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کیا تو لوگوں کو حیرت ہوئی۔ اسی طرح 74سالہ سید قائم علی شاہ کو دوبارہ وزیراعلیٰ سندھ نامزد کیے جانے پر بھی پارٹی کے بعض رہنما خوش نہیں تھے، مگر پارٹی قیادت نے سید قائم علی شاہ کی وفاداریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں نہ صرف 2008ء بلکہ 2013ء میں بھی وزیراعلیٰ سندھ مقرر کیا۔ اس وقت ان کی عمر 80برس کے قریب تھی اور بہت سے لوگوں کے خیال میں انہیں اتنا اہم عہدہ مزید نہیں دیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایک انٹرویو میں قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ وہ اب بھی ’’ جوان اور توانا‘‘ ہیں۔ بعد میں پارٹی کے اندر شدید اختلافات کے بعد پارٹی قیادت نے جولائی 2016 ء میں انہیں وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے سے ہٹا کر سید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ مقرر کر دیا، مگر سید قائم علی شاہ وزارتِ اعلیٰ سے ہٹنے کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ کی قیادت کرتے رہے۔
قائم علی شاہ کی وزارتِ اعلیٰ کی کارکردگی پر سوالات
سید قائم علی شاہ کے دور حکومت میں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت دیگر صوبوں کی طرح سندھ کے بجٹ میں اضافہ ہوا، مگر اس کے باوجود ان کی حکومت پر صحت، تعلیم، امن و امان، قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی امداد اور طرز حکمرانی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھے۔ ان کی حکومت پر کرپشن کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے، تاہم سید قائم علی شاہ یا ان کے خاندان سے متعلق کوئی بڑا اسکینڈل ثابت نہیں ہوا۔ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں کمسن بچوں اور حاملہ خواتین کی بڑے پیمانے پر اموات کے بعد امدادی اقدامات میں ناکامی پر ان کی حکومت شدید تنقید کی زد میں رہی۔ قائم علی شاہ دریائے سندھ پر ڈیموں کی تعمیر کے بڑے مخالفسید قائم علی شاہ وفاق کی جانب سے سندھ کو وسائل میں جائز حصہ نہ دینے اور پنجاب کی جانب سے مبینہ طور پر سندھ کا پانی چوری کرنے کے شدید مخالف رہے۔ وہ سندھ میں پانی کے مسئلے پر پنجاب مخالف احتجاجوں میں صف اول میں کھڑے رہے۔ جنوبی پنجاب کے خوشاب، بھکر، لیہ اور جھنگ اضلاع کی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے محکمہ آبپاشی پنجاب کے متنازع جہلم چشما لنک کینال سے ایک اور متنازع گریٹر تھل کینال منصوبے کا جب اگست 2001ء میں اس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف نے 30ارب روپے کی لاگت سے افتتاح کیا، تو سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ اس منصوبے کے خلاف جون 2003ء میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سماجی رہنماں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے حیدرآباد سے متصل کوٹری کے قریب دریائے سندھ کے خشک حصے میں بیٹھ کر علامتی بھوک ہڑتال کی۔ اس دوران ’’ اینٹی گریٹر تھل کینال ایکشن کمیٹی‘‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس بھوک ہڑتال میں دیگر رہنماں کے ساتھ قائم علی شاہ بھی موجود تھے۔ بعد میں انہوں نے کمیٹی کے اجلاسوں اور احتجاجوں میں بھی شرکت کی۔
قائم علی شاہ کی ’’ زبان پھسلنے‘‘ کی شہرت
سید قائم علی شاہ اپنے مزاج میں خوش مزاج اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک ہیں۔ انہیں بھولنے کی عادت اور زبان پھسلنی کے کئی واقعات کی وجہ سے بھی شہرت ملی۔ وہ اکثر اسمبلی میں اپنی نشست بھول کر کسی اور رکن کی نشست پر بیٹھ جاتے تھے اور بعد میں متعلقہ رکن کے آنے پر اپنی نشست پر واپس چلے جاتے تھے۔ ان کی زبان پھسلنے کے کئی واقعات مشہور ہوئے۔ 2018ء میں سندھ کے شہر ٹنڈو الہ یار میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کے قصیدے پڑھتے ہوئے ان کی زبان پھسلی اور جوشِ خطابت میں زرداری کو ’’ درباری‘‘ کہہ دیا۔ وہ اکثر آصف علی زرداری کو صدر کی بجائے وزیراعظم کہہ جاتے تھے۔ جون 2016ء میں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے طویل خطاب میں انہوں نے امجد صابری کی جگہ غلطی سے جنید جمشید کا نام لے لیا۔ بعد میں اسپیکر سے ’’ بور تو نہیں ہورہے؟‘‘۔ پوچھنے کے بعد انہوں نے ساحر لدھیانوی کا مشہور شعر ’’ خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا‘‘، کی جگہ ’’ خون پھر خون ہے، گرتا ہے تو تھم جاتا ہے‘‘ پڑھ دیا۔ انٹرنیٹ پر سید قائم علی شاہ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان سے متعلق ہزاروں میمز موجود ہیں۔
ذاتی زندگی
جیلانی خاندان کے ذرائع کے مطابق سید قائم علی شاہ نے تین شادیاں کیں۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد کم عمری میں ہی ان کی پہلی شادی خاندان میں کردی گئی تھی۔ کراچی میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد خاندانی روایت کے تحت ان کی دوسری شادی حُسن افروز بروہی سے کی گئی۔ حُسن افروز بروہی معروف قانون دان، ادیب اور سیاست دان اے کے بروہی کی بہن تھیں۔ اے کے بروہی 1960ء میں ایک سال تک بھارت میں پاکستان کے سفیر بھی رہے۔ وہ سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان تھے اور جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ انہیں ’’ دی انٹلیکچوئل بی ہائنڈ جنرل‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ وہ جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں وفاقی وزیر قانون بھی رہے۔ حُسن افروز بروہی 1970ء کی دہائی کے آخر میں چھاتی کی کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کرگئیں، جبکہ ان کی پہلی اہلیہ بھی کچھ عرصے بعد وفات پا گئیں۔ وہ کئی سال تک اکیلے رہے، مگر بعد میں اہل خانہ اور دوستوں کے اصرار پر تیسری شادی کرلی۔سید قائم علی شاہ کے چار بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے سید مظفر علی شاہ وفاقی حکومت میں ملازم تھے اور پورٹ قاسم میں بڑے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ سید مظفر علی شاہ اگست 2020ء میں انتقال کرگئے۔ان کے دوسرے بیٹے سید لیاقت علی شاہ ماہر امراض چشم ہیں اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، خیرپور، رہ چکے ہیں۔ سید اسد علی شاہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں، جبکہ سید افضل علی شاہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں۔ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ناہید شاہ دُرانی جنرل ضیاء الحق دور میں سی ایس ایس افسر بنیں اور وفاقی حکومت میں خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ نگہت شاہ ڈاکٹر ہیں۔ ان کی ایک بیٹی نجمہ شاہ کینسر کے باعث فروری 2021ء میں انتقال کر گئیں۔ سید قائم علی شاہ کی ایک اور بیٹی نصرت شاہ بھی ڈاکٹر ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے کلچرل اینتھروپولوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والی، سابق صحافی اور سیاست دان نفیسہ شاہ خیرپور میرس کی ضلعی ناظمہ رہ چکی ہیں۔ وہ 2008ء ، 2013ء اور 2018 ء میں قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ سید قائم علی شاہ کی ایک بیٹی نزہت شاہ جسمانی معذوری کا شکار ہیں، جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی مونا شاہ نے کچھ عرصہ قبل کینیڈا سے بی ڈی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے۔







