ColumnImtiaz Ahmad Shad

ٹیکس اصلاحات سے عوامی اعتماد تک

ذرا سوچئے

ٹیکس اصلاحات سے عوامی اعتماد تک

امتیاز احمد شاد

دنیا کے ہر مہذب اور منظم معاشرے میں ٹیکس ریاستی نظام کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ حکومتیں عوام سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن کے ذریعے دفاع، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، امن و امان اور دیگر عوامی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ اس لیے اصولی طور پر ٹیکس کسی بھی ریاست کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر ریاستی امور چلانا ممکن نہیں۔ تاہم ٹیکسوں کی افادیت اور قبولیت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کا نظام کتنا منصفانہ، متوازن اور شفاف ہے۔ جب ٹیکس عوام کی استطاعت، معاشی حالات اور بنیادی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے عائد کیے جائیں تو وہ ریاستی ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے عوام کے لیے ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔ آج پاکستان کو بھی اسی چیلنج کا سامنا ہے جہاں ٹیکسوں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن موجودہ نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا اس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو رہا ہے یا نہیں۔

پاکستان میں عام شہری کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ بجلی کے بل ہوں، پٹرولیم مصنوعات، موبائل فون سروسز، بینکنگ لین دین یا روزمرہ استعمال کی اشیائ، ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس شامل ہے۔ اس صورتحال نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدنی کے ماحول میں اضافی مالی بوجھ عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ مسئلہ صرف ٹیکسوں کی موجودگی نہیں بلکہ ان کے بوجھ کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ ملک میں ایسے شعبے اور طبقات بھی موجود ہیں جو اپنی حقیقی آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کرتے، جبکہ تنخواہ دار طبقہ اور رجسٹرڈ کاروبار نسبتاً زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں۔

ایک منصفانہ ٹیکس نظام کی بنیاد اس اصول پر ہونی چاہیے کہ ہر صاحبِ استطاعت شہری اپنی آمدنی اور مالی حیثیت کے مطابق ریاستی خزانے میں حصہ ڈالے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہی اصول کامیاب ٹیکس نظام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ آمدنی والے افراد نسبتاً زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ کم آمدنی والوں کو ریلیف دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر غریب اور امیر دونوں سے ایک ہی شرح سے بالواسطہ ٹیکس وصول کیے جائیں تو اس کا زیادہ بوجھ کمزور طبقات پر پڑتا ہے۔ پاکستان میں بالواسطہ ٹیکسوں کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے یہی مسئلہ نمایاں نظر آتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس پالیسی میں توازن پیدا کیا جائے اور براہِ راست ٹیکسوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے تاکہ قومی آمدنی میں اضافہ بھی ہو اور سماجی انصاف بھی قائم رہے۔

بنیادی ضروریات زندگی پر کم سے کم ٹیکس عائد کرنا ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ خوراک، ادویات، تعلیم اور بنیادی گھریلو ضروریات ایسی اشیاء ہیں جن پر اضافی مالی بوجھ عوام کی زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ اگر ایک عام شہری اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف ضروریات زندگی پوری کرنے پر خرچ کر دے تو اس کے پاس بچت، سرمایہ کاری یا معیار زندگی بہتر بنانے کے مواقع محدود ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بنیادی اشیاء پر ٹیکس میں رعایت دیتے ہیں یا انہیں مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو عام آدمی کو فوری ریلیف فراہم کر سکیں۔

معاشی ترقی کا ایک اہم ستون کاروبار اور صنعت ہوتے ہیں۔ جب کاروباری طبقے پر ضرورت سے زیادہ مالی دبا ڈالا جاتا ہے تو پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور روزگار کے مواقع محدود ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں معاشی سرگرمی سست پڑ جاتی ہے اور حکومت کو بھی محصولات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک متوازن ٹیکس پالیسی کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، نئی صنعتوں کو فروغ دیتی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھاتی ہے۔ اگر صنعت اور تجارت ترقی کریں گی تو روزگار بڑھے گا، آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ریاست کو بھی زیادہ محصولات حاصل ہوں گی۔ اس لیے حکومت کو ٹیکسوں کے ذریعے محض فوری آمدنی حاصل کرنے کے بجائے طویل المدتی معاشی ترقی کو ترجیح دینی چاہیے۔

ٹیکس نظام میں شفافیت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ محصولات کا حصول۔ عوام اس وقت زیادہ رضامندی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ ان کا پیسہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہو رہا ہے۔ اگر سڑکیں بہتر ہوں، سرکاری سکول معیاری تعلیم فراہم کریں، ہسپتالوں میں مناسب سہولیات موجود ہوں اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہو تو عوام ٹیکس کو ایک ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک سرمایہ کاری بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن جب انہیں اپنے ادا کردہ ٹیکس کے بدلے خاطر خواہ سہولیات نظر نہ آئیں تو اعتماد میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت کو مالی شفافیت کو فروغ دینا ہوگا، عوام کو یہ بتانا ہوگا کہ محصولات کہاں خرچ ہو رہے ہیں اور ان سے کیا نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز کا حل صرف نئے ٹیکس لگانے میں نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں پوشیدہ ہے۔ لاکھوں افراد اور کاروبار ایسے ہیں جو معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے باوجود ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ اگر حکومت جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور مثر نگرانی کے ذریعے ان شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرے تو محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اس طرح موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومتی اخراجات میں نظم و ضبط بھی ناگزیر ہے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کفایت شعاری اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ غیر ضروری اخراجات، سرکاری وسائل کا ضیاع اور خسارے میں چلنے والے اداروں پر مسلسل مالی بوجھ نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت بھی پیدا کرتا ہے۔ اگر حکومت مالی نظم و ضبط کو یقینی بنائے تو محصولات کا زیادہ موثر استعمال ممکن ہوگا اور عوامی اعتماد بھی بحال ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جو محصولات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف، کاروباری ترقی اور عوامی فلاح کے اصولوں پر بھی قائم ہو۔ ہر صاحبِ استطاعت شہری کو اپنا منصفانہ حصہ ادا کرنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالے، بنیادی ضروریات کو تحفظ دے اور ٹیکس آمدن کو عوامی خدمت میں استعمال کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوامی ریلیف، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ جب ٹیکس نظام انصاف، توازن اور شفافیت پر مبنی ہوگا تو نہ صرف ریاست مضبوط ہوگی بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا وہ رشتہ بھی قائم ہوگا جو کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button