Column

حکیم بابر کیس میں غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت

حکیم بابر کیس میں غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت

تحریر: رفیع صحرائی

سوشل میڈیا کے اس دور میں شہرت حاصل کرنا بعض اوقات اتنا آسان اور پرکشش ہو جاتا ہے کہ لوگ چند لمحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات بھی کر گزرتے ہیں جن کا تصور ماضی میں مشکل تھا۔ ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کی خواہش نے ایک نئی نفسیات کو جنم دیا ہے جہاں سچ، جھوٹ، حقیقت اور ڈرامہ اکثر ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر زیر بحث آنے والا حکیم بابر مبینہ زہر خوری کیس بھی کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

حکیم بابر اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچے جب بڑھاپے میں ان کی ایک کم عمر خاتون سے شادی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ عمر کے نمایاں فرق کے باعث یہ شادی نہ صرف موضوعِ بحث بنی بلکہ اس کے بعد میاں بیوی کی متعدد ویڈیوز بھی مسلسل سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ بعض لوگوں نے اسے محبت کی مثال قرار دیا جبکہ کئی حلقوں نے اسے شہرت حاصل کرنے کی ایک کوشش سمجھا۔

اب حکیم بابر کی جانب سے مبینہ زہر خوری کا الزام سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں ایک خاندان قانونی اور سماجی دبا کا سامنا کر رہا ہے۔ دوسری طرف نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر نے سامنے آ کر تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سارا معاملہ سوشل میڈیا پر ویوز اور شہرت حاصل کرنے کے لیے رچایا گیا ڈرامہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتال کی رپورٹ میں زہر دئیے جانے کے شواہد موجود نہیں اور ان کے خاندان کی حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کی دشمنی بھی نہیں۔

یہاں چند اہم سوال پیدا ہوتے ہیں، جن کے جوابات صرف غیر جانبدارانہ تحقیقات ہی دے سکتی ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ اگر واقعی زہر دیا گیا تو اس کا محرک کیا تھا؟ اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق فریقین کے درمیان کسی پرانی دشمنی، مالی تنازع یا ذاتی رنجش کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اگر واقعی ایسا کوئی پس منظر موجود نہیں تو پھر ایک بظاہر خوشحال اور صاحبِ حیثیت خاندان کسی ایسے اقدام کا خطرہ کیوں مول لے گا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر زہر خوری کا دعویٰ درست نہیں تو پھر اس الزام کا مقصد کیا تھا؟ کیا واقعی یہ محض سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش تھی؟ کیا میاں بیوی نے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی نیا تنازع کھڑا کیا؟ یا پھر اس معاملے کے پیچھے کوئی اور حقیقت پوشیدہ ہے جو ابھی منظر عام پر نہیں آئی؟

تیسرا سوال بلیک میلنگ کے امکان سے متعلق ہے۔ اگر دشمنی موجود نہیں اور الزام بھی ثابت نہیں ہوتا تو کیا کسی مرحلے پر مالی یا دیگر مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی؟ یہ سوال بھی تحقیقات کا حصہ بننا چاہیے تاکہ کسی بے گناہ کو نقصان نہ پہنچے اور اگر کوئی مجرم ہے تو وہ قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا کی عدالت اکثر ریاستی اداروں سے پہلے فیصلہ سنا دیتی ہے۔ ایک فریق کو ہیرو اور دوسرے کو مجرم قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے درکار شواہد اور قانونی تقاضے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں جذبات کے بجائے حقائق کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

پولیس، ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کیس کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ میڈیکل رپورٹس، فرانزک شواہد، عینی گواہوں کے بیانات اور تمام دستیاب حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ اگر زہر دئیے جانے کا واقعہ ثابت ہوتا ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے اور اگر الزام بے بنیاد ثابت ہو تو جھوٹا مقدمہ قائم کرنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

معاشرے کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ویوز، لائکس اور فالوورز کی دوڑ میں اگر جھوٹ، ڈرامہ بازی اور سنسنی خیزی کو فروغ دیا گیا تو اس کا نقصان صرف چند افراد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا سماج عدم اعتماد کا شکار ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکیم بابر کیس میں جذباتی نعروں یا سوشل میڈیا ٹرائل کے بجائے قانون اور حقائق کو فیصلہ کرنے دیا جائے تاکہ سچ پوری طرح سامنے آ سکے۔

جواب دیں

Back to top button