Column

توانائی اصلاحات، سبسڈی اور چیلنجز

توانائی اصلاحات، سبسڈی اور چیلنجز

پاکستان کا توانائی شعبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسے پیچیدہ مسائل کا شکار رہا ہے جنہوں نے نہ صرف قومی معیشت کو متاثر کیا بلکہ عام شہری کی زندگی کو بھی مشکلات سے دوچار کیا۔ بجلی کی بلند قیمتیں، گردشی قرضے، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات، مہنگے پیداواری معاہدے اور سبسڈی کے غیر موثر نظام نے اس شعبے کو مسلسل دبا میں رکھا۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی حالیہ پریس کانفرنس کئی اہم سوالات اور امید افزا اشاروں کو سامنے لاتی ہے۔ حکومت کا یہ موقف کہ 200یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے مستحق صارفین کی سبسڈی ختم نہیں کی جارہی، بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں لاکھوں کم آمدن والے خاندانوں کے لیے بجلی کا بل ادا کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگر حکومت واقعی مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے تو یہ ایک خوش آئند اقدام ہوگا۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے شفافیت، درست اعداد و شمار اور موثر نگرانی ناگزیر ہیں۔ حکومت نے تمام بجلی صارفین کے میٹروں کو کیو آر کوڈ سے منسلک کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کا بنیادی مقصد سبسڈی کے نظام کو زیادہ منظم اور ہدفی بنانا بتایا جارہا ہے۔ اصولی طور پر یہ ایک جدید اور قابلِ ستائش قدم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی سماجی تحفظ اور سبسڈی کے نظام کو ڈیجیٹل ذرائع سے زیادہ مثر بنایا جاتا ہے، تاکہ وسائل صرف ان لوگوں تک پہنچیں جو واقعی اس کے مستحق ہوں۔ پاکستان میں بھی اگر اس نظام کو شفاف انداز میں نافذ کیا جائے تو نہ صرف سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جاسکتا ہے بلکہ مالی بوجھ میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے بعض خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں ڈیجیٹل نظاموں کے نفاذ کے دوران اکثر تکنیکی خامیاں، معلومات کے اندراج میں غلطیاں اور عوامی آگاہی کی کمی مسائل پیدا کرتی رہی ہیں۔ اگر کیو آر کوڈ نظام کو جلد بازی میں نافذ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ بہت سے مستحق صارفین سبسڈی سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ عوام کو اس نئے نظام کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرے اور کسی بھی غلطی کی صورت میں شکایات کے فوری ازالے کا موثر طریقہ کار بھی وضع کرے۔ اویس لغاری کی جانب سے یہ انکشاف بھی اہم ہے کہ بجلی سبسڈی کا حجم 199ارب روپے سے بڑھ کر 423ارب روپے تک پہنچ چکا جب کہ زرعی اور گھریلو شعبوں کو مجموعی طور پر 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست اب بھی توانائی کے شعبے میں بھاری مالی ذمے داریاں اٹھا رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب قومی خزانہ شدید دبائو کا شکار ہے، سبسڈی کے نظام کو موثر اور منصفانہ بنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ وزیر توانائی نے بڑے سولر سسٹمز نصب کرکے 200یونٹ سے کم استعمال ظاہر کرنے والے صارفین کے حوالے سے بھی توجہ دلائی۔ اگر واقعی ایسے افراد کم آمدن والے صارفین کے لیے مختص سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو یہ نظام کی کمزوری ہے جسے دُور کرنا ضروری ہے۔ ریاستی وسائل کا مقصد کمزور طبقے کی مدد کرنا ہے، نہ کہ ایسے افراد کو فائدہ پہنچانا جو مالی طور پر مستحکم ہیں۔ تاہم اس مسئلے کا حل بھی شفاف اور غیر جانبدار ہونا چاہیے، تاکہ حقیقی مستحقین متاثر نہ ہوں۔ پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے حکومت کے دعوے بھی توجہ کے مستحق ہیں۔ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی سے 3500ارب روپے کی بچت، تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی سے 193ارب روپے کی بچت اور گردشی قرضے میں 780ارب روپے کی کمی جیسے اعداد و شمار توانائی شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کیے جاسکتے ہیں۔ ماضی میں یہی شعبہ قومی معیشت کے لیے سب سے بڑے مالی خطرات میں شمار ہوتا تھا۔ اس لیے کسی بھی اصلاحی عمل کے مثبت نتائج کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح مختلف صارفین کے لیے بجلی نرخوں میں کمی کے حکومتی دعوے بھی عوامی دلچسپی کا موضوع ہیں۔ پروٹیکٹڈ صارفین کے نرخوں میں 31فیصد، گھریلو صارفین کے لیے 16فیصد اور صنعتی شعبے کے لیے 33فیصد کمی واقع ہوئی ہے تو اس کے اثرات معیشت پر مثبت انداز میں مرتب ہونے چاہئیں۔ صنعتی شعبے کے لیے توانائی کی کم لاگت پیداوار اور برآمدات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے حوالے سے بھی حکومتی وژن حوصلہ افزا دکھائی دیتا ہے۔ سال 2035تک کلین انرجی کا حصہ 90فیصد تک لے جانے اور مقامی وسائل سے پیداوار بڑھانے کے اہداف پاکستان کو توانائی کے شعبے میں زیادہ خودمختار بنا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ماحول دوست توانائی کی جانب تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے اور پاکستان کے لیے بھی یہ راستہ ناگزیر ہے۔ شمسی، ہوا اور پن بجلی جیسے ذرائع نہ صرف ماحول کے لیے بہتر ہیں بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم کرتے ہیں۔ تاہم توانائی شعبے میں اصل کامیابی کا پیمانہ عام صارف کو ملنے والا حقیقی ریلیف ہے۔ اگر بجلی کی قیمتیں عوام کی قوتِ خرید کے مطابق نہ ہوں تو اصلاحات کے دعوے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان ہیں اور کاروباری طبقہ توانائی لاگت کو اپنی سب سے بڑی مشکلات میں شمار کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت توانائی اصلاحات کے عمل کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائے، سبسڈی کے نظام کو شفاف اور منصفانہ بنائے، بجلی چوری اور لائن لاسز کے خلاف موثر کارروائی کرے اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو قومی ترجیح بنائے۔ اسی صورت میں توانائی کا شعبہ قومی معیشت کے لیے بوجھ کے بجائے ترقی اور استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ عوام کو بھی امید ہے کہ حکومتی دعوے عملی نتائج میں تبدیل ہوں گے اور بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات بالآخر انہیں مستقل اور حقیقی ریلیف فراہم کریں گی۔

تمباکو نوشی، خاموش قاتل

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ تمباکو نوشی پاکستان کے لیے صرف ایک صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی اور سماجی بحران بھی بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال قریباً ایک لاکھ چونسٹھ ہزار پاکستانی تمباکو کے استعمال کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ تعداد کئی مہلک بیماریوں اور حادثات سے ہونے والی اموات سے بھی زیادہ ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ تمباکو صنعت سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن کو اکثر اس شعبے کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر تمباکو مصنوعات سے اربوں روپے حاصل ہوتے ہیں تو دوسری جانب علاج، پیداواری صلاحیت میں کمی، بیماریوں اور قبل از وقت اموات کی صورت میں کہیں زیادہ مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی معاشی نقصان قریباً اٹھارہ سو ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو قومی معیشت پر ایک بھاری بوجھ ہے۔ مزید افسوس ناک بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی کا رجحان اب صرف بالغ افراد تک محدود نہیں رہا۔ بچے اور نوجوان بھی تیزی سے سگریٹ، نسوار اور ویپنگ جیسی مصنوعات کی جانب مائل ہورہے ہیں۔ کم عمری میں اس عادت کا آغاز مستقبل میں صحت کے مسائل، تعلیمی نقصان اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ حکومت، تعلیمی اداروں، والدین اور سماجی تنظیموں کو اس مسئلے کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ، اشتہارات پر سخت پابندی، فروخت کے قوانین پر موثر عمل درآمد اور نوجوانوں میں آگاہی مہمات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ساتھ ہی ایسے افراد کے لیے معاون پروگرام بھی متعارف کرانے چاہئیں جو تمباکو نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن محض ایک رسمی تقریب نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی عزم کی علامت بنانا ہوگا۔ جب تک ریاست اور معاشرہ مل کر اس خاموش قاتل کے خلاف موثر اقدامات نہیں کرتے، انسانی جانوں اور قومی وسائل کا یہ نقصان جاری رہے گا۔ صحت مند پاکستان کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سنجیدگی سے روکنے کے لیے عملی اور مستقل اقدامات کیے جائیں۔

جواب دیں

Back to top button