Column

نوجوانوں کی ترقی اور چیلنجز

نوجوانوں کی ترقی اور چیلنجز
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی عنصر ملک کے مستقبل کا سب سے اہم سرمایہ بھی ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس، جس میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے جاری منصوبوں اور آئندہ منصوبہ بندی کا جائزہ لیا گیا، اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نوجوانوں کو معیشت کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے پالیسی سطح پر سرگرم ہے۔ اجلاس میں مختلف آسان قرضہ سکیموں کو ایک چھتری تلے لانے، تعلیم و ہنر کی بہتری اور روزگار کے مواقع بڑھانے جیسے اقدامات پر زور دیا گیا جو بظاہر ایک جامع وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت نوجوانوں کو محض تعلیمی ڈگری تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ہنر، روزگار اور کاروباری مواقع سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آج کے عالمی معاشی منظرنامے میں وہی ممالک ترقی کی دوڑ میں آگے ہیں، جو اپنی نوجوان آبادی کو ہُنرمند افرادی قوت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ ناگزیر ہے۔ اجلاس میں آئی ٹی تعلیم کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے اور جامعات میں اصلاحات کی ہدایت اسی سمت ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ ڈیجیٹل معیشت مستقبل کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ اسی طرح وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت قرضہ سکیموں میں نمایاں پیش رفت بھی سامنے آئی ہے، جس کے مطابق لاکھوں نوجوانوں کو کاروبار اور زراعت کے لیے آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف انفرادی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، بلکہ مجموعی طور پر معیشت میں بھی ایک متحرک رجحان دیکھنے کو ملا ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار درست اور موثر نتائج کے ساتھ منسلک ہیں تو یہ ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کسی بھی ترقی پذیر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا یہ سکیمیں واقعی ان نوجوانوں تک پہنچ رہی ہیں جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں؟ پاکستان میں اکثر حکومتی پروگرامز کے حوالے سے یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ رسائی، شفافیت اور میرٹ کے مسائل ان کی افادیت کو محدود کر دیتے ہیں۔ اگر قرضہ سکیمیں واقعی وسیع پیمانے پر اثر ڈال رہی ہیں تو پھر ان کے اثرات کو آزادانہ اور شفاف طریقے سے جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کتنے کاروبار واقعی پائیدار بنیادوں پر قائم ہوئے ہیں
اور کتنے وقتی نوعیت کے ثابت ہوئے۔ اجلاس میں ڈیجیٹل یوتھ ہب، سپورٹس اور ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا، جو نوجوانوں کو غیر روایتی شعبوں میں مواقع فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ کھیل، ای اسپورٹس اور فنی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو متحرک کرنا ایک جدید اور مثبت سوچ ہے، کیونکہ آج کی دنیا میں کامیابی صرف روایتی تعلیم تک محدود نہیں رہی۔ تاہم ان پروگرامز کی کامیابی کا دارومدار ان کے تسلسل، شفافیت اور ادارہ جاتی مضبوطی پر ہے۔ اگر یہ منصوبے وقتی تشہیر تک محدود رہیں تو ان کے دیرپا اثرات پیدا ہونا مشکل ہو جائے گا۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری، مہنگائی اور محدود مواقع جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں حکومتی پروگرامز اگرچہ امید کی کرن ہیں، لیکن اصل چیلنج ان کی موثر عمل درآمدی حکمت عملی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پالیسی سطح پر منصوبے تو مضبوط ہوتے ہیں مگر زمینی حقیقت میں ان کا اثر محدود رہ جاتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، آئی ٹی اور ہنر کی تعلیم پر زور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں فری لانسنگ، ریموٹ ورک اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے روزگار کے انداز بدل دئیے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف ملکی معیشت میں حصہ ڈال سکتے ہیں بلکہ زرمبادلہ کے حصول کا بھی اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے تعلیمی اداروں، نجی شعبے اور حکومت کے درمیان مضبوط ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ اسی طرح مختلف قرضہ اسکیموں کو ایک چھتری تلے لانے کا فیصلہ اگرچہ انتظامی لحاظ سے درست سمت میں قدم ہے، لیکن اس کے لیے ایک مضبوط اور شفاف مانیٹرنگ نظام کی ضرورت ہوگی۔ ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے تمام قرضہ پروگرامز کو منسلک کرنا اور ان کی نگرانی کو شفاف بنانا ایک موثر حل ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کی سب سے بڑی ضرورت مواقع کی منصفانہ تقسیم اور صلاحیتوں کے مطابق رہنمائی ہے۔ اگر حکومتی پالیسیاں واقعی میرٹ، شفافیت اور نتائج پر مبنی ہوں تو یہ نوجوان نسل ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور اس سے منسلک اقدامات ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر اصل امتحان ان کا تسلسل، شفافیت اور عملی نتائج ہیں۔ نوجوانوں کو محض قرضوں یا اسکیموں کی نہیں بلکہ ایک مضبوط نظام کی ضرورت ہے جو انہیں تعلیم سے روزگار اور کاروبار تک ایک واضح راستہ فراہم کرے۔ اگر یہ نظام موثر طور پر قائم ہوجائے تو پاکستان کی نوجوان آبادی واقعی ایک معاشی طاقت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
بارکھان آپریشن: 7دہشت گرد
ہلاک، 5جوان شہید
ضلع بارکھان میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کے مشترکہ آپریشن میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، تاہم اس کارروائی کے دوران میجر توصیف بھٹی سمیت پانچ جوانوں کی شہادت ایک بڑا سانحہ ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل قربانیاں دے رہا ہے اور یہ جنگ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر منظم نیٹ ورک کے تحت سرگرم ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے ممکنہ نقصان کو روک دیا، تاہم اس کی قیمت ہمارے بہادر جوانوں کی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔ شہید میجر توصیف احمد بھٹی کا تعلق پاکپتن سے تھا جب کہ نائیک فدا حسین، سپاہی ذاکر حسین، سپاہی سہیل احمد اور سپاہی ایاز نے بھی فرض کی راہ میں اپنی جان قربان کی۔ یہ شہداء اس بات کی روشن مثال ہیں کہ وطن کے دفاع کے لیے ہماری افواج ہر وقت تیار اور پرعزم ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، مگر مختلف علاقوں میں اب بھی دہشت گرد عناصر سرگرم ہو جاتے ہیں۔ بارکھان کا واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو مزید موثر بنایا جائے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ’’ عزمِ استحکام‘‘ کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ فوج، انٹیلی جنس ادارے اور سول انتظامیہ کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ دہشت گردوں کو کسی بھی جگہ محفوظ پناہ نہ مل سکے۔ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا موقف واضح ہے اور عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ تاہم اصل کامیابی داخلی استحکام اور موثر حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ شہداء کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی طرف اپنا سفر جاری رکھے گا۔

جواب دیں

Back to top button