لکی مروت دھماکا، پولیس اہلکاروں سمیت 9افراد شہید

اداریہ۔۔۔۔
لکی مروت دھماکا، پولیس اہلکاروں سمیت 9افراد شہید
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ہونے والا ہولناک دھماکا ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کا ناسور ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ نورنگ ریلوے پھاٹک کے قریب ہونے والے اس دھماکے میں معصوم شہریوں سمیت ٹریفک پولیس اہلکاروں کی شہادت نے پورے ملک کو غم زدہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے میں موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک مجرمانہ کارروائی ہے بلکہ انسانیت، امن اور معاشرتی استحکام پر حملہ بھی ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہماری افواج، پولیس، سیکیورٹی اداروں اور عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب، ردُالفساد اور دیگر کامیاب کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑی گئی، مگر حالیہ برسوں میں ایک مرتبہ پھر دہشت گرد عناصر نے نرم اہداف کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ سرائے نورنگ کا سانحہ بھی اسی سلسلے کی ایک افسوسناک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں جب میدان میں شکست کھاتی ہیں تو وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے بازاروں، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں تاکہ معاشرے میں خوف، بے یقینی اور عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سرائے نورنگ جیسے پُرامن علاقے میں دھماکے کا مقصد بھی عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانا اور ریاستی اداروں کو دبائو میں لانا ہوسکتا ہے۔ تاہم پاکستان کے عوام ماضی کی طرح آج بھی اس قسم کے بزدلانہ حملوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں۔ اس واقعے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کی شہادت اس امر کی علامت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑے ہیں۔ پولیس اہلکار محدود وسائل کے باوجود اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر عوام کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ داخلی سلامتی صرف فوج یا خفیہ اداروں کی ذمے داری نہیں بلکہ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور عوام سب کو مل کر اس جنگ میں کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے واقعے کی مذمت، شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور فوری تحقیقات کی ہدایات ایک ضروری حکومتی ردعمل ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی کو مزید موثر بنایا جائے۔ انٹیلی جنس شیئرنگ، بارڈر مینجمنٹ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مقامی سطح پر نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں دہشت گرد عناصر دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہاں ریاستی رٹ کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی صرف سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، نظریاتی اور معاشی چیلنج بھی ہے۔ جب تک نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مثبت مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گی، شدت پسند عناصر کمزور ذہنوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہیں گے۔ لہٰذا حکومت کو صرف فوجی کارروائیوں پر انحصار کرنے کے بجائے سماجی و معاشی ترقی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی انتہاپسندی کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوسکتی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردی کے واقعات کے بعد بعض اوقات غیر مصدقہ اطلاعات اور اشتعال انگیز بیانیے معاشرے میں مزید خوف اور انتشار پیدا کرتے ہیں۔ قومی ذمے داری کا تقاضا ہے کہ اطلاعات کی ترسیل ذمے داری، احتیاط اور تصدیق کے ساتھ کی جائے تاکہ دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ سرائے نورنگ کے اس سانحے نے ایک مرتبہ پھر قوم کو متحد ہونے کا پیغام دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاسکتی بلکہ قومی اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد سے ہی کامیابی ممکن ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر دہشت گردی جیسے حساس معاملات بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہوجاتے ہیں، جس سے قومی بیانیہ کمزور پڑتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی و سماجی قوتیں ایک صفحے پر آکر دہشت گردی کے خلاف واضح اور غیر متزلزل موقف اپنائیں۔ سرائے نورنگ کے شہداء کی قربانی رائیگاں نہیں جانی چاہیے۔ ان معصوم جانوں کا خون ریاست سے یہ تقاضا کر رہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف وقتی ردعمل نہیں بلکہ دیرپا اور جامع حکمت عملی اختیار کی جائے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی دہشت گردی کو شکست دی ہے اور اگر قومی عزم برقرار رہا تو مستقبل میں بھی دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنائے جاسکتے ہیں۔ یہ وقت متحد ہونے کا ہے۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی اپنی افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہی قومی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے اور اسی قوت کے ذریعے امن، استحکام اور ترقی کا خواب حقیقت میں بدلا جاسکتا ہے۔
شذرہ۔۔۔
آئی پی پیز اور معیشت کا بحران
پاکستان میں توانائی کا شعبہ برسوں سے بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور مہنگے معاہدوں کا شکار رہا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں یہ انکشاف کہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو سالانہ 3400 ارب روپے تک ادائیگیاں کی جارہی ہیں، نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ ملکی معیشت پر ایک بڑے بوجھ کی نشان دہی بھی کرتا ہے۔ یہ رقم ایسے وقت میں ادا کی جارہی ہے جب ملک شدید مالی بحران، مہنگائی اور بجلی کے بڑھتے نرخوں سے دوچار ہے۔آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں ’’ کپیسٹی پیمنٹس‘‘ سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، نجی پاور کمپنیوں کو ادائیگی کی پابند ہے۔ نتیجتاً عوام مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ صنعتیں بھی پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث مشکلات کا شکار ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کے بل عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی جانب سے جامشورو پاور پلانٹ میں اوور انوائسنگ کے الزامات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگر واقعی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو اس کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ توانائی کے شعبے میں کرپشن اور غیر منصفانہ معاہدوں نے قومی خزانے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ نیپرا حکام کی یہ وضاحت کہ کپیسٹی اور انرجی ادائیگیاں ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں، کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر ریگولیٹری ادارے مکمل نگرانی نہیں کر رہے تو پھر عوامی مفاد کا تحفظ کون کرے گا؟ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی تمام ادائیگیوں کی رپورٹ طلب کرنا ایک مثبت قدم ہے، تاہم صرف رپورٹس کافی نہیں، عملی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ آئی پی پیز معاہدوں پر ازسرِ نو نظرثانی کری، شفافیت کو یقینی بنائے اور متبادل توانائی ذرائع کی جانب توجہ دے۔ جب تک توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، عوام مہنگی بجلی اور معاشی مشکلات کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے۔





