
*پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا اہم سنگِ میل: فٹ بال کی ترقی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز متحد*
لاہور: پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے ملک میں فٹ بال کے استحکام، فروغ اور ترقی کے لیے مکمل اتحاد اور عزم کا اظہار کیا ہے۔ پی ایف ایف ہیڈ کوارٹرز لاہور میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران نائب صدور حافظ ذکا اللہ اور نوید اسلم لودھی، سی او او شاہد نیاز کھوکھر اور دیگر اعلیٰ حکام نے میڈیا کو بریفنگ دی۔
پریس کانفرنس میں صدر پی ایف ایف، جناب سید محسن گیلانی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ عالمی فٹ بال برادری نے پاکستان کے وژن پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ فیفا کانگریس میں پاکستان کی شرکت نے کھلاڑیوں، کوچز اور حکام کے لیے بین الاقوامی تعاون اور ترقی کے نئے راستے کھول دیے ہیں، جس سے دنیا بھر میں پاکستان کے ‘سافٹ امیج’ کو تقویت ملی ہے۔
سی او او شاہد نیاز کھوکھر نے بتایا کہ فیفا اور ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کی قیادت نے پاکستانی فٹ بال میں استحکام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات پر متفق ہیں کہ کھیل کی پائیدار ترقی کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔
نائب صدر حافظ ذکا اللہ نے واضح کیا کہ بین الاقوامی حکام، حکومتی اسپورٹس باڈیز اور کارپوریٹ سیکٹر پی ایف ایف میں استحکام کے خواہاں ہیں اور فیڈریشن کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش یا مہم جوئی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں اور خواتین کے لیے تبادلہ پروگرامز پاکستانی فٹ بال کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
پریس کانفرنس کے دیگر شرکاء نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک مشترکہ وژن کے تحت پاکستان میں فٹ بال کو علاقائی اور عالمی سطح پر اعلیٰ ترین مقام تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔
پی ایف ایف کے وفد نے کینیڈا کے شہر وینکوور میں 76 ویں فیفا کانگریس اور 36 ویں اے ایف سی کانگریس کے موقع پر عالمی فٹ بال قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔
عالمی تعاون: کینیڈا، آسٹریلیا، سعودی عرب، جرمنی، ترکی اور چین سمیت متعدد ممالک نے پاکستان میں فٹ بال کی ترقی، کوچنگ، ریفرینگ اور ویمن فٹ بال کے لیے تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
جرمنی نے پاکستانی کھلاڑیوں اور کوچز کو تربیت کے لیے مدعو کیا ہے، جبکہ کینیڈا نے نچلی سطح (گراس روٹ) پر فٹ بال کی ترقی اور دوستانہ میچز کی سیریز میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
سی او او شاہد نیاز کھوکھر اور نائب صدر حافظ ذکا اللہ نے واضح کیا کہ فیفا اور اے ایف سی کی قیادت نے پاکستانی فٹ بال میں ادارہ جاتی استحکام کو ترقی کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فیڈریشن کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی مہم جوئی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ملاقاتوں کے دوران یوتھ ڈویلپمنٹ، ویمن فٹ بال، فٹسال اور ریفری ٹریننگ جیسے اسٹریٹجک شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ پی ایف ایف کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ ایک دہائی کی مشکلات کے بعد اب پاکستان فٹ بال عالمی شراکت داری کے ذریعے ایک پائیدار اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہے۔







