
جگائے گا کون؟
جنگ کی طوالت، سٹیک ہولڈرز کی منافقت
تحریر: سی ایم رضوان
یو اے ای اور دبئی کے شہری ڈھانچے پر ایران کی جانب سے کیے گئے تازہ میزائل اور ڈرون حملوں کی پاکستان سمیت خطے اور دنیا بھر کے حکمرانوں نے شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’x‘‘ پر اپنے پیغام میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، خطے میں پائیدار امن کے لئے جاری جنگ بندی کا احترام کرنے اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ اس جارحیت کے خلاف دیگر ممالک نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔ سعودی عرب، کویت اور بحرین نے الگ الگ بیانات میں ایرانی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ وہ یو اے ای کی سلامتی کے دفاع میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عرب لیگ اور جی سی سی تنظیموں نے اسے خطے کے استحکام کے لئے براہِ راست خطرہ قرار دیا اور عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے فجیرہ میں ہونے والے ان حملے کی مذمت کی، جس میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے تھے۔ مغربی ممالک میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ان حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بحری ٹریفک کے لئے فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا۔ یو اے ای کی وزارتِ دفاع کے مطابق، 4مئی 2026ء کو ایران کی جانب سے داغے گئے 12 بیلسٹک میزائل، 3کروز میزائل اور 4ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں فجیرہ کے آئل انڈسٹری زون میں کچھ شہری زخمی ہوئے، جن میں مختلف قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔
پاکستان اس پورے تنازع میں ایک غیر جانبدار مگر فعال سفارت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں ایک طرف وہ ایران کی خود مختاری پر حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے، وہیں خلیجی بھائیوں کی سلامتی پر کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کرتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے ایران، امریکہ کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے پاکستان کے مصالحانہ کردار پر اہم بیانات ریکارڈ پر ہیں۔ اپریل کے آخری ہفتے اور مئی کے آغاز میں وفاقی کابینہ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور پاکستان مستقل حل کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے، یہ 47سالوں میں پہلی بار ہوا کہ دونوں ممالک کے وفود آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کرنے پر راضی ہوئے۔ تاہم شہباز شریف نے اس تنازع کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ اور کشیدگی نے پاکستان کی معاشی ترقی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تنازع کی وجہ سے پاکستان کا تیل کا درآمدی بل 300ملین ڈالر سے بڑھ کر 800ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس سے ملکی معیشت پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک ’’ مخلص سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے کو پائیدار امن کی طرف لے جایا جا سکے۔ انہوں نے اس کامیابی کا کریڈٹ سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت ( فیلڈ مارشل عاصم منیر) کو بھی دیا، جن کے تعاون سے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اب اسلام آباد میں ان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کے لئے بھی پر امید ہیں۔
افسوس کہ اسرائیل کی لگائی ہوئی ایران امریکہ آگ جنگ بندی کے باوجود ٹھنڈی نہیں ہو رہی اور تازہ کارروائیوں میں ایک طرف سے ٹرمپ کی بدگوئی نے ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کی ناممکن دھمکی دی ہے تو دوسری طرف سے ایران نے یو اے ای اور دبئی پر بلا اشتعال حملے کر دیئے ہیں۔ ان حالات میں تازہ حرکتیں انتہائی حساس اور پیچیدہ صورتحال کا پتہ دیتی ہیں جس کے آنی والے دنوں میں عالمی سیاست و معیشت پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر موجودہ حالات اور ریاستوں کے رویوں کا تجزیہ تھوڑا سیاسی نقطہ نظر سے بھی کریں تو چلو اس بحث کو یہاں سے شروع کر لیتے ہیں کہ عالمی سیاست میں اکثر سخت بیانی کو ایک نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ امریکی صدر کے کسی ملک کو ’’ نقشے سے مٹا دینے‘‘ جیسے تازہ بیان کے الفاظ عموماً دبائو بڑھانے اور حریف کو دفاعی پوزیشن پر مجبور کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن پھر بھی، بین الاقوامی قانون اور موجودہ عالمی نظم میں ایسی کارروائی کی دھمکی کے نتائج اتنے بھیانک ہو سکتے ہیں کہ کوئی بھی ذمہ دار طاقت اسے پہلے آپشن کے طور پر نہیں دیکھتی۔ دوسری طرف اگر ایران کا ردِعمل دیکھا جائے تو بے ساختہ سوال یہی سامنے آتا ہے کہ اگر علاقائی تنصیبات ( جیسے یو اے ای یا دبئی) کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو یہ ایران کی طرف سے پیغام ہے کہ وہ تنہا نہیں گرے گا، وہ عالمی معیشت ( خاص طور پر تیل کی ترسیل) کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں کل کلاں اگر طویل اور ہمہ گیر جنگ شروع ہوتی ہے تو دنیا سنگین چیلنجز سے دوچار ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز پر تھوڑی سی بھی کشیدگی عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ یو اے ای اور دبئی جیسے تجارتی مراکز پر حملے عالمی سرمایہ کاری اور سیاحت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، ان حالات میں اگر ایک طرف سے ٹرمپ کے بیانات آگ لگانے والے ہیں تو کیا ایران کے ہمسایہ ممالک پر حملے محتمل طاقتوں والا رویہ ہے؟ سیاسی ماہرین کے مطابق، بڑی طاقتوں کا اصل امتحان بحران کا انتظام ہوتا ہے۔ لیکن اگر بڑی طاقتیں کشیدگیوں کے جواب میں اشتعال انگیز بیانات اور شہری یا معاشی مراکز کو نشانہ بنانا شروع کر دیں تو کیا یہ سفارتی راستوں کی ناکامی کی علامت نہ سمجھا جائے گا۔ ایسے حالات میں ایسی صورت حال پیدا ہونا ہی خطرناک کھیل ہوتا ہے جہاں دونوں فریق تباہی کے دہانے تک جاتے ہیں تاکہ دوسرا پیچھے ہٹ جائے۔ حالانکہ ایک ذمہ دار ریاست وہ ہوتی ہے جو اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بھی عالمی امن کو دائو پر نہ لگائے۔ موجودہ حالات میں اشتعال انگیزی چاہے زبان سے ہو یا میزائل سے، اسے تعمیری اور سنجیدہ روش قرار دینا مشکل ہے۔
ایران امریکہ جنگ میں پچھلے دو روز کی خطرناک پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ محسوس ہو رہا ہے کہ دونوں متحارب طاقتوں میں امن کا قیام ’’ تزویراتی صبر‘‘ اور کسی بڑے حادثے کے درمیان کہیں چھپا ہوا ہے۔ عام حالات میں زیادہ تر امکان یہی نظر آتا ہے کہ یہ صورتحال برسوں تک طویل ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں حکومتوں نے اپنے عوام کے سامنے ایک ایسا بیانیہ بنا لیا ہے جہاں پیچھے ہٹنا یا جھکنا سیاسی خود کشی کے مترادف ہے۔ امریکہ کے لئے ایران کو خوف کی علامت بنا کر رکھنا، خلیجی ممالک کو اسلحہ بیچنے اور خطے میں اپنی موجودگی کا جواز فراہم کرتا ہے۔ ایران کے لئے امریکہ دشمنی کا نعرہ داخلی اتحاد برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ گو کہ ایران نے پابندیوں کے باوجود جینے کا طریقہ سیکھ لیا ہے ( مثلاً چین کو تیل کی فروخت)، اس لئے وہ کسی ایسی ڈیل کے لئے جلدی میں نہیں ہے جو اسے کمزور کرے۔ یعنی بالفرض اگر یہ جمود ٹوٹتا بھی ہے تو وہ ہوش مندی سے زیادہ مجبوری کی وجہ سے ٹوٹے گا۔ جو کہ قابل تعریف ہر گز نہ ہو گا۔ اگر ایران کی معاشی حالت اس نہج پر پہنچ جائے جہاں عوامی غیظ و غضب قابو سے باہر ہو جائے، تو قیادت بقا کے لئے نرم رویہ اختیار کر سکتی ہے ورنہ نہیں۔ اسی طرح کل کلاں اگر امریکہ کو لگے کہ چین یا روس کے محاذ پر اسے ایران سے کہیں بڑا خطرہ درپیش ہی تو وہ جنگ کے اس باب کو بند کرنے کے لئے غیر متوقع رعایتیں دے سکتا ہے۔ البتہ اگر پاکستان اور سعودی عرب مل کر کوئی ایسا فارمولا نکالیں جس میں دونوں فریقوں کی ’’ عزت‘‘ محفوظ رہے تو ایک درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔
ثالثی کی اس شطرنج میں اس وقت چند محدود مگر انتہائی اہم ’’ کارڈز‘‘ موجود ہیں، جو اگر صحیح وقت پر درست انداز میں کھیلے جائیں تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ تاہم، مسئلہ یہ ہے کہ ان کارڈز کو استعمال کرنے والے ممالک اپنے اپنے مفادات کے ترازو میں تلے ہوئے ہیں اور منافقت سے کام لے رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کا جغرافیائی اور اثر و رسوخ والا کارڈ قابل استعمال ہے۔ پاکستان اس وقت خطہ کا واحد ملک ہے جس کے فریقین کے ساتھ فعال تعلقات ہیں۔ پاکستان کے پاس ایران کے ساتھ طویل سرحد، امریکہ کو خطے میں دہشتگردی کے خلاف تعاون اور ایران کے ساتھ کسی بھی بڑی جنگ کو روکنے کے لئے پاکستان کی ضرورت ہے۔ تاہم پاکستان کی اپنی معاشی حالت اسے کسی ایک فریق کی طرف جھکنے سے روکتی ہے۔ یوں وہ صرف پیغام رسانی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ پاکستانی قیادت بڑی دلیری اور امن پسندی کے ساتھ سفارتی کوششیں کر رہا اور منافقت سے کام نہیں لے رہا۔ اس ضمن میں چین کا معاشی لائف لائن کارڈ بھی موثر ہو سکتا ہے کیونکہ چین اس کھیل کا سب سے بڑا خاموش کھلاڑی ہے۔ اس کارڈ کی نوعیت یہ ہے کہ ایران کی معیشت کا بڑا حصہ چین کو تیل کی فروخت پر منحصر ہے۔ چین کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے معاشی دبائو ڈال سکے یا امریکہ کو یہ باور کرا سکے کہ پابندیاں ناکام ہو رہی ہیں لیکن اس کارڈ کے استعمال میں بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ چین اس تنازع کو امریکہ جیسے بدقماش کو مشرقِ وسطیٰ میں الجھائے رکھنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین میں اس پر دبائو کم ہو۔ ایک تیسرا کارڈ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس خطہ میں کشیدگی کم کرانے کے لئے اثر انداز ہونے کا کارڈ ہے کیونکہ یہ خلیجی ممالک اب براہِ راست جنگ کے حق میں نہیں ہیں اور ان کی تمام تر معاشی اصلاحات ( جیسے سعودی ویژن 2030) امن سے وابستہ ہیں۔ اگر سعودی عرب ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں مزید بہتری لاتا ہے، تو امریکہ کے پاس ایران کے خلاف عرب اتحاد کا جواز ختم ہو جائے گا۔ یہ کارڈ ایران کو تنہائی سے نکال سکتا ہے اور امریکہ کو اپنی سخت پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ چوتھا کارڈ عالمی توانائی کارڈ ہے۔ یہ کارڈ کسی ملک کے پاس نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ کے پاس ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 150۔200ڈالر تک پہنچ جاتی ہیں، تو یہ امریکہ میں انتخابی سال کے دوران صدر ٹرمپ کے لئے سیاسی خود کشی کے مترادف ہو گا۔ یہ دبائو امریکہ کو لچک دکھانے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن موجودہ ڈیڈ لاک کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ تمام کارڈز تو موجود ہیں، لیکن جن قوتوں کے ہاتھ میں یہ کارڈ ہیں ان کی مصلحتوں کے باعث یہ کارڈ کیش نہیں ہو پا رہے کیونکہ اس کھیل کا سب سے بڑا سٹیک ہولڈر خود امریکہ بھی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ دبا کی پالیسی ( پابندیاں) بالآخر ایران کو گھٹنوں پر لے آئیں گی جبکہ ایران سمجھتا ہے کہ اس کا اسٹریٹجک صبر اور علاقائی پراکسی کارڈز امریکہ کو تھکا دیں گے۔ القصہ اس وقت سب سے مضبوط کارڈ چین اور سعودی عرب کے پاس ہے، لیکن وہ اسے صرف اس وقت استعمال کریں گے جب ان کے اپنے مفادات کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو گا۔ البتہ کوئی ایسا غیر متوقع واقعہ غیر معمولی طور پر اس جنگ کی طوالت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔





