امن کیلئے پاکستان کا روشن کردار

امن کیلئے پاکستان کا روشن کردار
وزیرِاعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ پاکستان کے ثالثی کردار نے لاکھوں انسانی جانوں کو بچایا، اں کے اس کے پس منظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی وہ روایت بھی موجود ہے جس میں ملک نے ہمیشہ تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان تنا نے پورے خطے کو بے یقینی صورت حال سے دوچار رکھا۔ ایسے میں اگر پاکستان نے واقعی سفارتی سطح پر کوئی کردار ادا کیا ہے تو یہ نہ صرف اس کی سفارتی کامیابی ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم اس دعوے کی مکمل تفصیلات اور شفافیت بھی ضروری ہے تاکہ عوام اور عالمی برادری کو واضح انداز میں معلوم ہوسکے کہ پاکستان نے کس حد تک موثر کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن پر مبنی رہی ہے۔ ایک طرف امریکا کے ساتھ تعلقات اور دوسری جانب ایران جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ روابط کو برقرار رکھنا ایک مشکل مگر ضروری توازن ہے۔ اگر پاکستان اس توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے تو یہ اس کی سفارتی مہارت کی عکاسی کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ داخلی استحکام کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ وزیراعظم کے بیانات کا دوسرا اہم پہلو توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور عوامی سہولتوں سے متعلق ہے۔ پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران، مہنگی بجلی اور لائن لاسز جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں آسانی کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں کو فروغ دیا جائے گا، ایک مثبت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ڈیجیٹلائزیشن سے بنیادی مسائل حل ہو جائیں گے؟ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ایک پیچیدہ اور طویل المدتی عمل ہے۔ اسحاق ڈار، احد خان چیمہ اور دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں ہونے والے اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ تاہم ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کے درمیان ایک واضح خلا موجود رہا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں استحکام، لائن لاسز میں کمی اور بجلی چوری کا خاتمہ وہ نکات ہیں جن پر ہر حکومت زور دیتی ہے، مگر عملی طور پر ان میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس کی بڑی وجہ انتظامی کمزوریاں، سیاسی مصلحتیں اور کرپشن جیسے عوامل ہیں۔ اگر موجودہ حکومت واقعی ان مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے تو اسے سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے ہوں گے، جن میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا اولین شرط ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کی ہدایت بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ دنیا تیزی سے روایتی توانائی کے ذرائع سے ہٹ کر شمسی، ہوا اور دیگر متبادل ذرائع کی طرف جا رہی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں سورج کی روشنی اور ہوا کے وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں، یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو مقامی وسائل سے پورا کرے۔ تاہم اس کے لیے سرمایہ کاری، پالیسی تسلسل اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ضروری ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے صنعتی ترقی کے لیے بلاتعطل توانائی کی فراہمی پر زور بھی قابلِ توجہ ہے۔ صنعت کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور اگر توانائی کی فراہمی متاثر ہو تو پیداوار، برآمدات اور روزگار سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا براہِ راست تعلق معاشی ترقی سے ہے۔ داخلی سطح پر سیکیورٹی اور کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے بھی وزیراعظم کی سرگرمیاں اہم ہیں۔ پاکستان سپر لیگ جیسے بڑے ایونٹس کا کامیاب انعقاد نہ صرف ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتا ہے بلکہ معیشت اور سیاحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سیکیورٹی اقدامات پر بریفنگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت ان معاملات پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم یہاں بھی اصل امتحان عمل درآمد کا ہے۔ پاکستان میں ماضی میں کئی بڑے منصوبے اور پالیسیاں کاغذوں تک محدود رہیں یا سست روی کا شکار ہوئیں۔ عوام اب نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ خارجہ پالیسی ہو، توانائی کے شعبے میں اصلاحات ہوں یا سیکیورٹی کے معاملات، ہر شعبے میں تسلسل، شفافیت اور موثر عمل درآمد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وزیراعظم کے بیانات امید افزا ضرور ہیں، مگر ان کی اصل قدر اس وقت سامنے آئے گی جب یہ اعلانات عملی اقدامات میں تبدیل ہوں گے۔ پاکستان کو اس وقت بیانات نہیں بلکہ ٹھوس اور دیرپا اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ملک عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور باوقار مقام حاصل کر سکے گا۔
یوم آزادی صحافت کا پیغام
پاکستان سمیت دُنیا بھر میں اتوار کو عالمی یوم آزادی صحافت منایا گیا، یہ دن صحافت ہمیں اس بنیادی حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ آزاد اور ذمے دار صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ دن نہ صرف صحافیوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے بلکہ اُن چیلنجز پر غور کرنے کا بھی تقاضا کرتا ہے جن کا سامنا پاکستانی صحافت کو آج بھی ہے۔ پاکستان میں صحافت نے ہمیشہ اہم قومی اور سماجی مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جمہوری اقدار کے فروغ، احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے اور عوامی آواز کو حکمرانوں تک پہنچانے میں میڈیا کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ تاہم اس سفر میں صحافیوں کو بے شمار مشکلات، دبائو اور خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ متعدد صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں ادا کرتے ہوئے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جو اس شعبے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ صحافت کے لیے یہ شہدا جھومر کی سی حیثیت رکھتے ہیں، جن کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج کے دور میں جہاں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو تیز اور آسان بنا دیا ہے، وہیں فیک نیوز، سنسنی خیزی اور غیر مصدقہ اطلاعات کا چیلنج بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں ذمے دار صحافت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ صحافیوں پر لازم ہے کہ وہ حقائق کی تصدیق کے بعد معلومات عوام تک پہنچائیں اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری کریں۔
دوسری جانب ریاستوں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کریں، اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنائیں اور میڈیا پر غیر ضروری دبائو سے گریز کریں۔ ایک مضبوط اور آزاد میڈیا نہ صرف جمہوریت کو مستحکم کرتا ہے بلکہ معاشرے میں شفافیت اور احتساب کو بھی فروغ دیتا ہے۔ یومِ آزادی صحافت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحافت کو آزاد، ذمے دار اور محفوظ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اگر صحافت مضبوط ہوگی تو جمہوریت بھی مضبوط ہوگی اور یہی ایک ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہے۔




