Column

پاکستان کا ابھرتا ہوا عالمی کردار اور معاشی چیلنجز

پاکستان کا ابھرتا ہوا عالمی کردار اور معاشی چیلنجز

تحریر : سید اقبال ہاشمی

 

موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا کردار تیزی سے نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ دنیا شائد تیسری عالمی جنگ کی جانب گامزن تھی جس کا رخ پاکستان نے اپنی بہترین سفارتی کاوشوں سے امن کی جانب موڑ دیا ہے۔ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ مستقل جنگ بندی وزیراعظم اور عسکری قیادت کی انتھک کوششوں سے ممکن ہو سکے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔ پاکستان نے اس نازک صورت حال میں متحارب ممالک کے درمیان ایک متوازن اور ذمہ دار کردار ادا کیا ہے۔ عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کا پاکستان کی کوششوں پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی درست سمت میں گامزن ہے۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران، سعودی عرب، چین اور روس جیسے اہم ممالک کے ساتھ بیک وقت بہتر تعلقات قائم رکھنا ایک بڑی سفارتی مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان کی یہ کوشش بھی قابلِ ذکر ہے کہ جنگ سے متاثرہ ممالک کے ساتھ مسلسل اعلیٰ سطحی رابطے برقرار رکھے جائیں تاکہ امن کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔ بیروت اور غزہ جیسے حساس علاقوں میں بھی مستقل امن کے قیام کی خواہش و کاوش پاکستان کے مثبت عالمی کردار کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں کچھ عناصر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پاکستان کی سفارتی کوششوں نے ایسے عناصر کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کو بھی دنیا کے سامنے موثر انداز میں پیش کیا ہے، جو کہ مستقبل میں معاشی اور تجارتی مواقع پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس مثبت سفارتی کردار کے باوجود پاکستان کو بعض داخلی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم معاشی کمزوری ہے۔ یہی کمزوری پاکستان کے عالمی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ بہترین معاشی ماہرین اور تجربہ کار کاروباری افراد پر مشتمل ایک مضبوط ٹیم تشکیل دی جائے، جو جنگ کے بعد پیدا ہونے والے معاشی محرکات میں مضبوط کردار ادا کر سکے۔ مزید یہ کہ پاکستان کو قرض اور امداد پر انحصار کم کر کے تجارت کے فروغ پر توجہ دینی ہوگی۔ خاص

طور پر بندرگاہوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دے کر اور بزنس فرینڈلی پالیسیوں کو فروغ دے کر ملک کو ایک اہم تجارتی مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانی افرادی قوت بھی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ عرب ممالک کے ساتھ ہنر مند افراد کی فراہمی کے معاہدے کر کے ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، جس سے ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات اس کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہیں۔ حالیہ اعلیٰ سطح کے دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف ان دونوں ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھ سکتا ہے بلکہ عالمِ اسلام میں ایک قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ تاہم ایسے تعلقات خصوصاً دفاعی معاہدوں میں احتیاط اور حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ قومی مفادات کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے پاس3 عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔ اگر ملک اپنی معاشی کمزوریوں پر قابو پا لے اور دانشمندانہ پالیسیوں کو اپنائے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں ایک مضبوط اور بااثر قوت بن سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button