Abdul Hanan Raja.Column

کیا ایران تبدیلی کی راہ پر ؟

کیا ایران تبدیلی کی راہ پر ؟

عبدالحنان راجہ

انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تاخیر اور پاکستان کی کوششوں کا مثبت جواب نہ ملنا اس لاوے کا اخراج ہے جو کئی سالوں سے اندر ہی اندر پک رہا تھا۔ یعنی اصلاح پسند بمقابلہ سخت گیر عناصر۔ اور اب ان کے مابین شدت اختیار کرتے اختلافات نہ صرف پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ضائع کر سکتے ہیں بلکہ خطہ کو ایسی جنگ میں دھکیل سکتے ہیں کہ جس سے انسانیت برسوں تک نکل نہیں پائے گی۔ مبینہ طور پر ایرانی اسپیکر باقر قالیباف کی مشیروں سے گفتگو سامنے آئی ہے جس میں ان عوامل کا کھل کر ذکر کر کے معاملہ طشت از بام کیا گیا ہے کہ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ؟۔ انہوں نے واضح طور پر اس کا ذمہ دار سخت گیر طبقہ قرار دیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسپیکر نے سلامتی کونسل کے دو اراکین امیر حسین ثابتی اور سعید جلیلی پر انتہا پسندی اور انہیں مذاکرات مخالفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اس روئیے سے ایرانی قوم پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹیں گے کہ جسے ہم مذاکرات کے ذریعے ٹالنے کی کوشش میں ہیں جبکہ پہلے ہی عوام 45سال سے کٹھن معاشی حالات سے دوچار اور ایران عالمی تنہائی کا شکار ۔ قالیباف و عراقچی سمیت اصلاح پسند یہ سمجھتے ہیں کہ اب جنگ کی فتوحات کو سفارتی کامیابی سے سمیٹنے کا وقت ہے۔ انہوں نے خدشہ کا اظہار کیا کہ انہیں اسپیکر کے عہدے سے ہٹانے جانے کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ جبکہ وزیر خارجہ بھی اس زد میں ہیں۔

ان حالات میں امریکی رجیم تبدیلی کا دعوی مضحکہ خیز نہیں کہ ابھی تک دنیا اس کے دعوے کو دیوانے کی بڑ قرار دے رہی تھی۔ تہران میں جاری طاقت کی کشمکش یہ پتہ دے رہی ہے کہ اقتدار کی جنگ فیصلہ کن مرحلہ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف اصلاح پسند جو عالمی تنہائی سے نکل کر عوام کی خوشحالی کے موقف پر جبکہ دوسرا دھڑا امریکہ سے مذاکرات کو انقلابی اصولوں کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اصلاح پسندوں اور سخت گیر عناصر کی کشمکش اور آپس کے گہرے ہوتے اختلافات ایران کو کسی نئے بحران کی طرف دھکیل دیں گے یا پاکستان کی کوششیں اور اہل پاکستان کی دعائیں رنگ لائیں گی۔ ؟ یہ ملین ڈالر سوال اور لگتا ہے کہ گزشتہ روز ایرانی سفیر نے وزیر اعظم سے ہنگامی ملاقات میں انہیں صورتحال سے آگاہی دی ہو گی۔

یہ تو طے ہے کہ اب تک کی جنگ کا فاتح ایران ہی ہے اب اس نے نہ صرف پاکستان بلکہ عرب ممالک حتی کہ یورپ کے عوام کی محبتیں بھی سمیٹیں ہیں۔ یورپ ہو یا خلیجی ممالک تمام اب جنگ تو کیا ہلکا سا عدم استحکام بھی نہیں چاہتے ایسے میں باقر قالیباف کی بات میں وزن اور مخالف عناصر کو سمجھا چاہیے کہ چار دہائیوں بعد ایران کو باوقار انداز میں ترقی کی راہ پر چلنے کا موقع ملا ہے تو اسے ضائع نہیں کرنے دینا چاہیے جبکہ ایران کے کم و بیش تمام مطالبات مانے بھی جا رہے ہیں۔ چند روزہ مزید جنگ کے بعد نہ تو مطالبات ایران کے ہوں گے اور نہ یہ عوامی ہمدردی کہ مذاکرات کی میز کو الٹانے کا الزام ایران کے سر ہی جائے گا۔

ایران میں طاقت کے ہر مرکز کو علم ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور کے دوران اسرائیل نے سب کچھ برباد کرنے کی سازش کی۔ بردار اسلامی ملک کو تخت و تاراج ہونے سے بچانے کی پاکستانی کوششیں بھلا اسرائیل کو کیسے ہضم ہوں مذاکرات کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل ایران کے اندر تک اپنا رسوخ استعمال کر رہا ہے جبکہ ایرانی قیادت کو راستے میں ختم کرنے کی مبہم اطلاعات تو تھیں ہی مگر یروشلم پوسٹ کی خبر نے راز کھولا کہ پاکستان سے واپسی پر اسرائیل ایرانی مذاکراتی ٹیم کو نشانہ بنانے کی مکمل پلاننگ کر چکا تھا۔ یہ تو مارخور نے سازش کی بو پا کر قبل از وقت نہ صرف سازش کو ناکام بنایا بلکہ اپنے مہمانوں کی آمد اور واپسی کا ایسا محفوظ انتظام کیا کہ دشمن ہاتھ ملتا ہی رہ گیا۔ اس کا مقصد جہاں ایک طرف پاکستان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر ایران پاکستان کے مابین تعلقات میں دراڑ پیدا کرنا تھا تو دوسری طرف پاکستان کی سفارتی کوششوں کو زیر و زبر کرنا تھا۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی غیر ملکی وفد کو اس کی سرزمین تک فضائی حصار فراہم کیا گیا ہو۔ اتنے محفوظ و مامون ماحول اور پر خلوص دوست کے اگر ایران مذاکرات کی میز نہیں سجاتا تو بدقسمتی ہی ہو گی۔ ایران کو علم نہیں کہ اس کے اگر امریکہ پر تحفظات ہیں بجا ہیں مگر امریکہ سمیت دیگر بشمول عرب ممالک بھی یہ سوچتے ہیں کہ اس کی گارنٹی کیا ہے کہ اگر ایران کے منجمد اثاثے بحال ، پابندیاں اٹھتی ہیں اور محدود حد تک یورینیم افزودگی کی سہولت بھی ملتی ہے تو وہ خطہ کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ نہیں بنے گا۔؟ اور نہ ایٹمی ہتھیاروں کی راہ پر چلے گا۔ ایرانی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ تحفظات صرف ایران کے ہی نہیں بلکہ دیگر پڑوسی مسلم ممالک کے بھی تو ہیں کہ ایران نے اپنے سخت رویہ اور پراکسیز کی وجہ سے عرب سمیت کئی مسلم اور یورپ کا اعتماد متزلزل کیا۔ پاکستان کے ساتھ بھی تلخ یادیں ہیں مگر اس کے باوجود دنیا کے ساتھ ہم قدم ہونے کا سنہری موقع ضائع کرنے والے کون ہو سکتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل اور اب امریکہ کے لیے سخت گیر عناصر راہ ہموار کر رہے ہیں۔ صاحب بصیرت اور حکیم قیادت ملک اور قوم کو بچانے کی سعی کرتی ہے نہ کہ استقامت کے نام پر آگ میں جھونکنے کی۔ اللہ ایرانی قوم پر کرم فرمائے۔

جواب دیں

Back to top button