ColumnImtiaz Aasi

امریکہ اب عالمی مرکز نہیں رہے گا

امریکہ اب عالمی مرکز نہیں رہے گا

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

یہ بھی پڑھیے

امریکہ، ایران حالیہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے عشروں سے لگی پابندیاں ایرانی قوم کے سامنے رائی کا پہاڑ ثابت ہوئیں۔ ایرانی قوم دنیا میں ایک مثال بن کر سامنے آئی ہے، اقتصادی پابندیاں اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں۔ امریکی صدر ٹرمپ جو مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران پر فضائی حملوں کی دھمکیاں دے رہا تھا، نے از خود جنگ بندی میں توسیع کردی۔ حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا طاقت کا مرکز اب واشنگٹن نہیں رہے گا۔ سوال ہے جو قوم 47سال کی پابندیوں کا مقابلہ کرکے زندہ رہ سکتی ہے وہ امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے ؟۔ امریکہ ایران مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ بس دو نکات پر اختلاف ہے، ایک جوہری پروگرام اور دوسرا آبنائے ہرمز، جس پر ایران کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان کی سفارت کاری اپنی جگہ، لیکن کوئی ملک اپنی آزادی کا سودا کیسے کر سکتا ہے۔ ایران کا موقف درست ہے، اسرائیل اور دیگر ممالک جوہری پروگرام جاری رکھیں تو ٹھیک ہے، ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟۔

اگرچہ امریکی صدر جنگ بندی میں توسیع کو فیلڈ مارشل کی کاوشوں کا نتیجہ ہی قرار دے رہے ہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا جنگ بندی میں توسیع امریکہ کی مجبوری بن گئی تھی۔ ایران مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہیں کرتا اگر امریکہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں نہیں کرتا۔ ایک طرف عارضی جنگ بندی، دوسری طرف آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، امریکی صدر کے دوہرے معیار کا عکاس ہے۔ امریکہ، ایران کی جنگ سے خلیجی ملکوں میں ایک نئی تحریک پیدا ہوئی ہے، جس سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا جن ملکوں نے امریکہ کو اپنے ہاں اڈے فراہم کئے ہوئے تھے امریکیوں سے راہ فرار اختیار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ نے ان ملکوں میں اڈے اپنے مفادات کے لئے قائم کر رکھے تھے دوسری طرف ان اڈوں کے اربوں ڈالر کے اخراجات انہی ملکوں کو برداشت کرنا پڑ رہے تھے۔ امریکہ ایران جنگ سے یہ با ت سامنے آگئی ہے امریکی اڈے خلیجی ملکوں کی حفاظت کی بجائے کسی اور مقصد کے لئے قائم کئے گئے تھے۔ ایک خبر یہ بھی ہے امریکہ نے ایران، ترکیہ اور متحدہ امارات کی بہت سی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جو ڈرونز کے پرزہ جات کی نقل وحمل میں ملوث ہیں۔ تازہ ترین صورت حال میں ایک طرف ایرانی قیادت کو پاسداران انقلاب کا دبائو اور دوسری طرف امریکیوں کا ایران کو جوہری پروگرام بند کرنے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی بالادستی قبول نہ کرنے جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی پاکستان کی کوششوں کے باوجود ابھی تک ایران کی طرف سے اسلام آباد آنے کی حامی نہ بھرنے سے مذاکرات کی امیدیں ماند پڑ رہی ہیں۔ گو صدر ٹرمپ کا یہ کہنا ہے جنگ میں اسے فتح ہوئی ہے کسی خواب سے کم نہیں۔ بھلا وہ کہتے رہیں ایران کا امریکہ نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے اس کے برعکس ایران قائم و دائم ہے اور امریکہ کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ عجیب تماشہ ہے ایک طرف امریکہ مذاکرات کی بات کرتا ہے دوسری طرف آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی چھوڑنے کو تیار نہیں ایسے ماحول میں ایران کیسے مذاکرات کر سکتا تھا۔

دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان تنہا دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے لئے سرگرم ہے عرب ملکوں کو بھی چاہیے وہ امریکہ پر دبائو ڈالیں کہ دونوں ملکوں کے مابین جنگ بندی مستقل رہے اور مستقبل قریب میں جنگ کا کوئی امکان نہ رہے۔ جنگ بندی میں پاکستان کی سفارت کاری سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر امریکی صدر کو اند ر سے بھی جنگ کے خلاف دبائو کا سامنا ہے۔ حالات سے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار رہے گی اور امریکہ اس جنگ میں اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لئے کوئی محفوظ راست تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔ پاکستان کی موجودہ جنگ کے دوران سفارت کاری کی کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، ایسی مثالیں موجود ہیں، اس طرح کی سفارت کاری کی کوششیں ناکام بھی ہوئی ہیں جیسا کہ اوسلو امیں اسرائیل فلسطین کے مابین مذاکرات ناکام ہوئے تھے اسی طرح عمان میں ایران امریکہ مذاکرات ہو رہے تھے کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا لہذا یہ ضروری نہیں جنگ بندی کے لئے سفارت کاری کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ امریکہ کے دوہرے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاہدہ 1994ء میں مشہد میں ہوا تھا اس مقصد کے لئے پاکستان سے ایڈیشنل پٹرولیم ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے پاکستان کی نمائندگی۔ امریکہ سے ہمارا اچھا تعلق ہوتا وہ ایران پر پابندیوں کے باوجود ہمیں گیس لینے کی اجازت دے دیتا۔ اب بھی وقت ہے پاکستان کی حکومت امریکی صدر سے بہتر تعلقات کی روشنی میں ایران سے گیس لینے کی رضامندی کے لے لے تو ہمارے ملک کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

قرآن پاک میں باری تعالیٰ کا وہ فرمان واضح ہے یہود اور ہنوز مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی ہے امریکہ ہمارا کیسے دوست ہو سکتا ہے۔ ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کو امید تھی چند روز میں رجیم چینج ہو جائے گا مگر امریکی صدر کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب پاسداران انقلاب نے امریکیوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ امریکی حملے کے بعد ایرانی قوم نے اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ ہو لئے جو امریکہ کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ امریکہ کو امید تھی جنگ میں حکومت مخالفت عناصر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور رجیم چینج ہو جائے گا۔ مگر ہوا اس کے برعکس حکومت کے حامی اور مخالفت یکجا ہو کر سڑکوں پر امریکہ کے خلاف نکل پڑے۔ ایرانیوں نے دنیا کی سب سے بڑی قوت کے سامنے سرنگوں ہونے کی بجائے سینہ تان کر کھڑے ہوئے۔ کم از کم چالیس ہزار ایرانی بے گھر ہو چکے ہیں ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت نے ایرانی قوم میں ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button