
اگر آبنائے ہرمز غیر فعال رہے اور اس کے ساتھ ساتھ اہم سمندری گزرگاہ باب المندب بھی بند کر دی جائے، تو دنیا کی توانائی کی ترسیل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور ایشیاء سے یورپ جانے والی برآمدات کا بڑا حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے اتحادی باب المندب کی بحری گزرگاہ کو بھی اسی طرح بند کر سکتے ہیں جس طرح تہران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو محدود کیا ہے۔
باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتا ہے اور عالمی تیل کی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے امن کے زمانے میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی تھی، اس کی بندش کے بعد اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ایران کے سابق وزیرِ خارجہ علی اکبر ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خبردار کیا کہ مزاحمتی محاذ کی متحدہ قیادت باب المندب کو بھی ہرمز کی طرح دیکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وائٹ ہاؤس نے اپنی احمقانہ غلطیاں دہرائیں، تو اسے جلد ہی احساس ہو جائے گا کہ عالمی توانائی اور تجارت کی روانی کو ایک ہی اقدام سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔
بعد ازاں ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بھی اس بیان کی تصدیق کی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولے تو وہ رواں ہفتے سے ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز اُن ممالک کے لیے کھلی ہے جو محفوظ گزرگاہ پر بات چیت کریں، تاہم امریکا اور اسرائیل اس میں شامل نہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر باب المندب بھی بند ہو گیا تو اس کے اثرات صرف جاری تنازع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر میں صنعت، گھریلو صارفین اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑیں گے







