Column

ایثار کی وہ شمع جو زمانوں کو روشن کرتی ہے

ایثار کی وہ شمع جو زمانوں کو روشن کرتی ہے

تحریر: ثناء اللہ مجیدی

عید کی آمد ہر سال خوشیوں، امیدوں اور مسرتوں کی ایک نئی داستان رقم کرتی ہے، مگر حقیقت کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ ہر گھر اس خوشی میں برابر کا شریک نہیں ہوتا۔ کہیں بچوں کی ہنسی گونجتی ہے تو کہیں حسرتوں کی دبیز چادر تنی ہوتی ہے۔ کہیں نئے کپڑوں کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے تو کہیں پرانے لباس بھی نصیب نہیں ہوتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے صبر، برداشت اور ایثار کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

ہمارا معاشرہ بظاہر ترقی کی راہوں پر گامزن ہے، مگر باطن میں ایک عجیب سی بے حسی سرایت کر چکی ہے۔ ہم نے اپنی ذات کے گرد ایسے حصار قائم کر لیے ہیں کہ دوسروں کی تکلیف ہمیں چھو کر بھی نہیں گزرتی۔ حالانکہ انسانیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان صرف اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی خوشیوں اور غموں کو بھی محسوس کرے۔ تاریخ میں ایسے بی شمار واقعات ملتے ہیں جو ہمیں ایثار، قربانی اور اخلاص کا درس دیتے ہیں، مگر ایک واقعہ ایسا ہے جو اپنے اندر ایک مکمل معاشرتی فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔

معروف مورخ امام واقدی ایک نہایت ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ہم تین گہرے دوست تھے، ایک میں، دوسرا ہاشمی اور تیسرا نبطی۔ ہمارے درمیان محبت اور خلوص کا ایسا رشتہ تھا جس میں کسی مفاد کی آمیزش نہ تھی۔ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کے شریک تھے اور ایک دوسرے کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دینا ہمارے مزاج کا حصہ تھا۔ ایک مرتبہ عید کے ایام قریب آئے تو میں سخت تنگ دستی کا شکار ہو گیا۔ گھر میں فاقہ کشی کی کیفیت تھی، بچوں کی آنکھوں میں عید کی خوشیوں کے خواب تھے اور بیوی کی زبان پر شکوہ بھی تھا اور امید بھی۔ ایسے میں ایک باپ اور شوہر کے لیے سب سے کڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی ضروریات پوری نہ کر سکے۔ دل میں اضطراب تھا، پیشانی پر فکر کی لکیریں تھیں، اور حالات ایسے کہ کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ بالآخر میں نے اپنے دوست ہاشمی کو ایک خط لکھا۔ وہ خط دراصل میری مجبوری، بے بسی اور امید کا مجموعہ تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ میرا مخلص دوست ہے اور میرے حال کو سمجھ لے گا۔ چنانچہ اس نے بھی دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے بلا تاخیر ایک ہزار دینار کی تھیلی میرے پاس بھجوا دی۔ جب وہ تھیلی میرے ہاتھ میں آئی تو دل میں سکون کی ایک لہر دوڑ گئی ۔ یوں محسوس ہوا جیسے اندھیری رات میں اچانک روشنی کا کوئی چراغ جل اٹھا ہو۔ اب میں اپنے بچوں کی عید کی خوشیوں کو پورا کر سکتا تھا، بیوی کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتا تھا۔ مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا، کیونکہ اسی لمحے ایک اور امتحان میرا منتظر تھا۔ میرے تیسرے دوست نبطی کا خط آیا۔ اس کے الفاظ میں ایسی بے بسی اور درد تھا کہ دل لرز کر رہ گیا۔ اس نے لکھا تھا کہ وہ شدید فقر و فاقہ کا شکار ہے اور اس کے پاس عید کے دنوں میں کھانے تک کا انتظام نہیں۔ یہ خط پڑھتے ہی میرے دل میں ایک عجیب سی کشمکش پیدا ہو گئی۔ ایک طرف میرے اپنے گھر کی ضرورت تھی اور دوسری طرف میرے دوست کی فاقہ کشی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں انسان کے اندر چھپی خود غرضی اور ایثار آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ میں اگر چاہتا تو اس رقم کو اپنے لیے رکھ لیتا، کیونکہ میں بھی ضرورت مند تھا۔ مگر میرے ضمیر نے مجھے جھنجھوڑا اور کہا کہ تمہارا دوست تم سے زیادہ تکلیف میں ہے۔ چنانچہ میں نے بغیر کسی تاخیر کے وہی تھیلی نبطی کے پاس بھجوا دی۔ یہ فیصلہ بظاہر مشکل تھا، مگر درحقیقت یہی وہ لمحہ تھا جس نے میرے کردار کا تعین کیا۔ میں نے اپنی ضرورت کو پسِ پشت ڈال کر اپنے دوست کی ضرورت کو ترجیح دی، اور یہی اصل ایثار ہے۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ میرا دوست ہاشمی سامنے کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں وہی تھیلی ہے۔ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی اور لہجے میں سوال۔ اس نے کہا: ’’ یہ کیا معاملہ ہے؟ میں نے یہ تھیلی تمہیں بھیجی تھی، یہ نبطی کے پاس کیسے پہنچی اور پھر میرے پاس کیوں آ گئی؟‘‘۔ میں نے سارا واقعہ بیان کیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی، مگر آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے کہا: ’’ میرے بھائی! جب تمہارا خط آیا تو میرے پاس بھی یہی آخری رقم تھی، میں نے وہ تمہیں بھیج دی۔ پھر جب میں خود محتاج ہو گیا تو میں نے نبطی سے مدد مانگی، اور اس نے یہی تھیلی میرے پاس واپس بھیج دی‘‘۔ یہ سن کر دل ایک عجیب کیفیت سے بھر گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہم تینوں ایک ہی جذبے کے اسیر ہیں، ایثار کے اسیر، محبت کے اسیر، خلوص کے اسیر۔ بالآخر ہم نے فیصلہ کیا کہ اس تھیلی میں سے ایک سو دینار فوری ضرورت کے لیے رکھ لیے جائیں اور باقی رقم آپس میں برابر تقسیم کر لی جائے۔ یوں ہر ایک کے حصے میں تین سو دینار آئے۔ بظاہر یہ ایک معمولی تقسیم تھی، مگر درحقیقت یہ دلوں کی وسعت کی تقسیم تھی، محبت کی تقسیم تھی، اخلاص کی تقسیم تھی۔ یہ واقعہ جب خلیفہ بغداد تک پہنچا تو وہ اس ایثار سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے امام واقدی کو دربار میں طلب کیا اور خزانہ شاہی سے سات ہزار دینار عطا کیے۔ اس نے فرمایا کہ ایک ہزار دینار اپنے گھر کے لیے رکھو اور باقی اپنے دوستوں میں تقسیم کر دو۔ یہ انعام دراصل اس بات کا ثبوت تھا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ جو انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔

آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بے شمار ایسے لوگ نظر آئیں گے جو مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، بے روزگاری نے نوجوانوں کے خواب چکنا چور کر دئیے ہیں، اور سفید پوش طبقہ خاموشی سے اپنی عزت بچانے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایسے میں اگر ہم اس واقعے سے سبق حاصل کریں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل دولت مال و زر نہیں بلکہ دل کی وسعت ہے۔ اگر دل وسیع ہو تو تھوڑا بھی بہت بن جاتا ہے، اور اگر دل تنگ ہو تو بہت کچھ بھی کم محسوس ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر ایثار کا جذبہ پیدا کریں، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں، اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ تین دوست محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک زندہ پیغام ہیں۔ اگر ہم نے ان کے کردار کو اپنایا تو نہ صرف ہماری زندگی سنور سکتی ہے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا ہی ایثار، ایسی ہی محبت اور ایسا ہی خلوص عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

Back to top button