Column

ایک سبق ایک انتباہ

ایک سبق ایک انتباہ
شاہد ندیم احمد
دنیا میں جنگ کہیں بھی ہورہی ہو گی، اس کے اثرات ساری دنیا پر ہی اثرانداز ہوتے ہیں ، اس مشرق وسطیٰ کی جنگ نے بھی خطے کو جہاں توانائی کے غیر معمولی خطرات میں ڈالا ہے، وہیں عالمی توانائی کے نظام کیلئے بھی ایک بھیانک منظر نامہ پیدا کر دیا ہے، اس امر یکہ ایران جنگ نے توانائی کی سپلائی اتنی کم کر دی ہے کہ دنیا بھر کے صارفین کو نہ صرف بھاری ادائیگی کرنی پڑے گی ، بلکہ اس کا استعمال بھی کم کرنا پڑے گا، اس کے باوجود توانائی کی قلت کے خدشات بڑھتے ہی جارہے ہیں، کیونکہ جنگ کا کوئی جلد نتیجہ نکلتا دکھائی دئیے رہا ہے نہ ہی جنگ کا خاتمہ ہوتا دکھائی دیے رہا ہے۔
اس جنگ کا پھیلائو کم ہو نے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس جنگ کے اثرات سے پاکستان بھی بچ نہیں پا رہا ہے ، پاکستان کے اندر توانائی کی سپلائی میں کمی کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، جو کہ عوام کیلئے ناقابل بر داشت ہوتا جارہا ہے ، حکومت کی جانب سے عوام کو اعتماد میں لینا اور در پیش مسائل کا سامنا کرنے کی حکمت عملی وضع کرنا ناگزیر ہے، ہمارے وزیر خزانہ کا بھی کہنا ہے کہ حکومت کی معاشی سکت لامحدود نہیں، جبکہ توانائی کی موثر بندش کی وجہ سے قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس صورتحال میں مناسب حکمت عملی اور بروقت اقدامات بحران کو کم کر سکتے ہیں، اس وقت حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ کم آمدنی والے طبقے پر بحران کا بوجھ کم سے کم ڈالے اور صنعتی پہیہ جمود کا شکار نہ ہو نے دئیے، اس کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی والی حکمت عملی صائب معلوم ہوتی ہے، مگر اس کی عملی طور پر کیا صورت ہو گی، اس حوالے سے کچھ کہنا قدرے مشکل ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے بھی کوئی عندیہ نہیں دیا جارہا ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کی عملی صورت کیا ہو گی ؟
اس وقت مسئلہ صرف ڈیزل اور پٹرول کا نہیں، قدرتی گیس کا بھی ہے، جو کہ صنعتوں کیلئے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے، ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی کا حل ایل این جی کی درآمد میں تلاش کیا گیا، مگر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے ردعمل میں خلیجی ریاستوں میں قدرتی گیس کے وسائل بھی نشانہ بنے لگے ہیں اور قطر کے سب سے بڑے ایل ا ین جی پلانٹس کے بارے تو یہ خدشات ہیں کہ انہیں معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، اس تشویشناک صورتحال کے اثرات ہمارے جیسی کمزور معیشتوں کیلئے زیادہ تشویش کا باعث ہیں، یہ توانائی کی مہنگائی معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دے گی اور ذرائع آمدنی پر گہرے اثرات کے اندیشے خارج از امکان نہیں ہیں، ماضی میں امریکہ کی شروع کی ہوئی جنگوں کے اثرات ایک علاقے یا ملک تک محدود رہے ، مگر اس جنگ نے تو پوری عالمی معیشت کو ہی جکڑ لیا ہے اور اس کے اثرات روز بروز شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔
اس معاشی تباہی، افلاس اور صنعتی کساد بازاری کے بھیانک اثرات سے بچانے کے لیے ایران امریکہ اسرائیل جنگ کا فی الفور خاتمہ کرنا ہو گا ، لیکن امر یکہ اسرائیل مان رہا ہے نہ ہی ایران پیچھے ہٹنے کیلئے تیار ہے ، ایران کا جتنا نقصان ہونا تھا ہو گیا ، ایر ان اب بدلے کی آگ میں جل رہا ہے ، وہ مارو یا مر جائو کی پوزیشن میں آیا ہوا ہے، جبکہ امر یکہ اسرائیل کی ساکھ بھی دائو پر لگی ہے، دو ایٹمی طاقتیں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر پا رہی ہیں، بلکہ دنیا بھر کے سامنے شکست سے دوچار ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، اس شر مندگی میں امر یکہ اور اسرائیل کوئی بڑا قدم بھی اُٹھا سکتے ہیں، اس سے پہلے ہی کچھ اہم ممالک کو ثالثی کی کوئی صورت نکالنا ہی ہو گی ، سعودی عرب ،ترکیہ اور پاکستان بڑی کاوشیں کر رہے ہیں ،لیکن اس میں متحرک کردار ادا کرنے کہ ابھی مزید ضرورت ہے۔
ان مصالحتی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں پر حملے پانچ روز کیلئے موخر کر دیئے ہیں اور بات چیت کے دروازے کھو لے ہیں، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جاری بات چیت کی کامیابی سے مشروط ہے ، اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے تو مزید پیش رفت متوقع ہے، دوسری صورت میں ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جائے گا،اس پرایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اگربجلی نظام کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیلی بجلی گھرسمیت امریکی اڈوں کوبجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس کونشانہ بنائیں گے اور خلیج فارس میں تمام مواصلاتی راستوں کو بارودی سرنگوں سے بھر دیں گے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کو نقشے سے مٹانے کا وہم دشمن کی مایوسی کا ثبوت ہے، دھمکیاں اور دہشتگردی کے حربے ایرانی قوم کو کمزور نہیں مزید مضبوط کررہے ہیں۔
اگر دیکھا جائی تویہ جنگ ایک سبق اور ایک انتباہ بھی ہے،اس میں سبق ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ اتحاد، حکمت اور عزم میں ہوتی ہے، اور انتباہ ہے کہ اگر امت مسلمہ نے اپنی موجودہ حالت پر غور نہ کیا اور اس امتحان سے متحد ہو کر نہ نکلے تو وہ مستقبل میں بھی ایسے ہی بحرانوں میں بے بس تماشائی بنی رہیں گے اور یہ بات ان ممالک کی مکمل تباہی تک بھی جاسکتی ہے،اس لیے اتحاد و یکجہتی کی مضبوط رسی کو تھامنا ہو گا اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا ، ورنہ ایک ایک کر کے سارے ہی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔

جواب دیں

Back to top button