Abdul Hanan Raja.Column

ہاتھی کی ضمانت

ہاتھی کی ضمانت
عبدالحنان راجہ
آخر کار ہاتھی کے گلے میں وہ گھنٹی بندھ ہی گئی کہ جس کا دنیا کو تھا انتظار۔ گزرے وقتوں میں دنیا بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی بات کرتی تھی مگر ٹرمپ کی چیرہ دستیوں کے خلاف فیلڈ مارشل کی کوششوں نے محاورہ تبدیل کیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ صدی کمزور مگر معدنی وسائل سے مالا مال ممالک کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہو رہی ہے۔ مہذب دنیا نے پانچ ممالک کو ویٹو کا اختیار دیکر کثرت رائے و اجتماعی دانش کا سر عام گلا گھونٹا اور سفاک ممالک کو قتل عام کا غیر علانیہ استثنیٰ بھی اقوام متحدہ کے قیام کی صدی نے ہی دیا۔
گرچہ اسرائیلی خونخوار بلی نے 1967ء میں ہی مسلم حکمرانوں کو اپنے ناپاک عزائم سے آگاہ کر دیا تھا مگر چوہے بلوں میں گھسے ایک دوسرے کو ہی کترنے کترانے میں ہی مشغول رہے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسرائیل کے خالق اور سرپرست امریکہ کی مکارانہ چھتری تلے خود کو محفوظ سمجھے بیٹھے ہیں بلکہ کچھ تو پڑوسی مسلم ملک سے زیادہ اسرائیل کے خیر خواہ۔
گرچہ نیٹو، یورپین ،مسلم ممالک سمیت بے جان اقوام متحدہ سبھی جنگ کے پھیلائو سے خائف مگر مشکل وہی ہاتھی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والی کہ اس مشکل ترین کام میں سب سے بڑا خطرہ عزت کا تھا کہ ٹرمپ دنیا کے بڑے اور طاقتور ممالک کے سربراہان کو کھڑے کھڑے بے عزت کر دینے میں جری، مگر بفضل تعالیٰ یہ اعزاز پاکستان کے حصہ میں آیا۔ برادر خلیجی ملک میں بیٹھ کر عربوں کو اسرائیلی سازش کے خطرات سے آگاہ کرتے فیلڈ مارشل نے وہ معرکہ بھی سر کیا جس کے سبھی خواہشمند۔ خوشی بختی یہ کہ ہاتھی نے سونڈ ماری اور نہ بدمست ہوا کہ مستی کافی حد تک ایران نکال چکا تھا۔ امریکی صدر کے روئے کا حال یہ کہ انہیں اپنی ترجیحات کی فکر ہے اور نہ امریکی ساکھ کی۔ ابھی چند ہفتے قبل ہی امریکی صدر ٹرمپ نے نئی امریکی نیشنل سیکورٹی پالیسی 2026ء جاری کی جس میں امریکی صدر نے مشرق وسطی اور یورپ سے بتدریج نکلنے اور اپنی توجہ مستقبل کے ہدف چین پر مرکوز رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کاروباری ذہن کے حامل ٹرمپ معاشی دائو پیچ کے ذریعے ڈانواں ڈول امریکی معیشت اور پیٹرو ڈالر کو لاحق ممکنہ خطرہ کو بھانپتے ہوئے معاشی و عالمی اقتصادی میدان میں چین کو قابو رکھنے کا عزم کیے بیٹھے تھے مگر شیطان نیتن کے جھانسے میں آ خر امریکی نیشنل سیکورٹی پالیسی کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے پی امریکی بربادی کی بنیاد رکھ دی۔
وہ تنازع کہ جس نے ایک طرف دنیا کی معیشت کو تہہ و بالا کر دیا تو دوسری طرف انسانیت کی سسکیاں لے رہی ہے۔ ایسے میں کٹر دشمنوں کو آمادہ بر مذاکرات کر لینا ہی کامیابی کہ جب صیہونی و ہندوستانی مسلم دنیا کو کمزور بلکہ تباہ کرنے کے درپے اور بدقسمتی سے کئی مسلم ممالک ان کے سانجھے دار۔ اب تنا کم یا ختم ہوتا ہے نہیں الگ بات، مگر اہم یہ کہ اقوام متحدہ اور چین و روس جیسی عالمی طاقتوں کے ہوتے ہوئے پاکستان مرکز نگاہ بنا اور پوری دنیا اور عالمی میڈیا پاکستان کی غیر معمولی اور حکیمانہ و دانش مندانہ سفارت کاری پر حیران و پریشان اور اسے ماننے پر مجبور۔ فنانشل ٹائمز، اکنامک ٹائمز، بلوم برگ، سی این این، رائٹرز سمیت تمام مغربی میڈیا پاکستان کی حکمت عملی اور ایران، امریکہ جنگ کو رکوانے میں اس کے کردار کا معترف۔ یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوتی پے بات چیت کے کتنے ادوار چلتے ہیں جنگ بندی ہوتی پے یا سیز فائر یہ الگ معاملہ ہمارے لیے فخر کی بات یہ کہ جب کوئی بھی سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے کو تیار نہ تھا اس وقت جنرل عاصم منیر پوری دنیا کی آواز بنے۔ افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قوم بنتی ہے۔ ریاستیں قائم رہتی ہیں مگر افراد کا کردار امر رہتا ہے اچھا یا برا۔ یہ بھی درست کہ ٹرمپ جیسے ناقابل اعتماد صدر سے معاملات کرنا آسان نہیں کہ وہ پہلے ہی ایران کو مذاکرات کے نام پر دھوکہ دے چکا اور اب ایران دوبارہ اس چکمہ میں آنے کو تیار نہیں۔ معاہدہ اگر طے پانے کے بعد بھی سب سے بڑا خطرہ اور سوال ٹرمپ کی طرف سے پاسداری کی ضمانت کا ہی رہے گا اور یقینا ایران سمیت عالمی دنیا کا یہ خدشہ فیلڈ مارشل سمیت صدر اردوان اور مصری صدر کو بھی پریشان کر رہا ہو گا۔
گو کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریقین نے اپنے اپنے مطالبات پاکستان کی وساطت سے ایک دوسرے تک پہنچا دئیے۔ مگر میرا سوال یہ کہ امریکہ کا بڑا مطالبہ ایرانی افزودہ یورینیم کی حوالگی کا ہے تو کیا یہی مطالبہ اسرائیل سے بھی ہے ؟ دوئم ایران کو میزائل پروگرام بند کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا پے تو کیا عالمی برادری نے غزہ میں سفاکیت اور ایران پر بلاجواز حملوں کے باوجود اسرائیل سے یہ مطالبہ کرتی نظر آتی ہے۔ ؟
کیا ایسی یک طرفہ مطالبات انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور کیا عالمی دنیا کے انصاف کا یہی پیمانہ ہے۔ ؟ کیا اس میں کوئی شک اب بھی باقی کہ اسرائیل دنیا کے کئی مسلم ممالک کو تہہ و بالا کر چکا اور لاکھوں مسلمانوں کے خون سے اس کے ہاتھ ہی نہیں پورا جسم رنگین۔ مگر اس کے باوجود دنیا ہر بار اسرائیلی مظالم اور اس کی غیر قانونی ایٹمی قوت سے صرف نظر کیوں کرتی ہے۔ اتنی خون ریزی کے بعد بھی وقت نہیں آیا کہ ظالم کے ہاتھ روکے اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔ ؟
کیا اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں خون مسلم کو یورپ میں جانوروں کے حقوق سے بھی کم تر سمجھتے ہیں۔ ؟
دوسری طرف ایران کے لیے بھی ناصحانہ کلمات کہ ایرانی قیادت اور عوام کو بخوبی علم ہے کہ ماضی میں پاکستان کے خلاف بھارتی چیرہ دستیوں اور حملوں پر ایرانی قوم اور حکومت کی طرف سے اس طرح کا رد عمل کبھی دیکھنے کو نہیں ملا جس طرح پاکستان ایرانی قوم کے لیے کھڑا ہوا۔ بھارت سے ایران کے تعلقات کی دنیا میں مثالیں پیش کی جاتی تھیں مگر ان سب کے باوجود پاکستان اور ایران اسلامی جذبہ اخوت میں جڑے ہیں۔ رہبر ایران اور قیادت کو ادراک ہے کہ اس وقت بشمول اسلامی دنیا واحد پاکستان ہی اسکی آواز اور اس کی سالمیت کے لیے کھڑا ہے۔ اور اس نے خلیجی ممالک کو بھی ایران کے خلاف جانے سے روک رکھا ہے۔ سو اسے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سنجیدہ لینا ہو گا کہ جب دنیا کا کوئی ملک بھی امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کو تیار نہ تھا پاکستان خون مسلم کو مزید بہنے، ایرانی عوام کو قتل و غارت گری سے بچانے اور ایران کے حصے بخرے کرنے جیسی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے متحرک اور فعال ہے۔ کہ فہمیدہ قیادت ڈٹ تو جاتی ہے مگر اکڑتی نہیں کہ معاملات مذاکرات ہی سے حل ہوتے ہیں اور ریاستیں دانش مندی سے چلتی ہیں۔ ایرانی قیادت کو اس بارے بھی سوچنا ہو گا کہ وہ خطے کے مسلم ممالک کے مسائل میں اضافہ کی پالیسی ترک کر کے جسد واحد بنانے کی سعی کرے کہ ان سے خوش گوار اور بہترین تعلقات ہی انہیں امریکہ سے فاصلے پر رکھنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
پاکستان پائندہ باد !

جواب دیں

Back to top button