ناقدری
ناقدری
شہر خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
رات کا آخری پہر تھا، جب خاموشی بھی بولنے لگتی ہے۔ شہرِ خواب کی روشنیاں مدھم پڑ چکی تھیں، مگر میرے کمرے کی دیواروں پر لٹکتے سائے جیسے مجھ سے ہمکلام تھے۔ ہوا میں دن بھر کی تپش کے بعد اب ایک عجیب سی خنکی تھی، مگر میرے سینے کے اندر ایک جوالا مکھی لاوا بن کر پک رہا تھا۔ میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور اپنی زندگی کے اوراق پلٹنے لگا۔ ایک عجیب سی بے چینی تھی جو روح کی گہرائیوں میں پنجے گاڑے ہوئے تھی۔
میں نے ہمیشہ سوچا کہ دنیا نے میری قدر نہیں کی۔ میں نے خود کو ایک ’’ مظلوم‘‘ کے طور پر پیش کیا، جس کی قربانیوں کا صلہ اسے کبھی نہیں ملا۔ مگر اس رات، جب ضمیر کی عدالت لگی، تو کٹہرے میں کوئی دوسرا نہیں، بلکہ میں خود کھڑا تھا۔
میں نے آہستہ سے اپنے خالی کمرے کی وسعتوں میں کہا: ’’ میری قدر نہیں کی گئی‘‘۔۔۔
الفاظ میرے ہونٹوں سے نکلے تو ضرور، مگر فضا میں بوجھل ہو کر معلق ہو گئے۔ جیسے قدرت ان الفاظ کو قبول کرنے سے انکاری ہو۔ اسی لمحے، میرے وجود کے کسی نہاں خانے سے ایک صدا ابھری، ایسی صدا جو کانوں سے نہیں، روح سے سنی جاتی ہے: ’’ اے ناقدری کا رونا رونے والے! ذرا یہ تو بتا، کیا تو نے کبھی خود کسی کی قدر کی ہے؟‘‘۔ یہ سوال ایک تازیانہ تھا جس نے میرے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ میرے سامنے ایک آئینہ نمودار ہوا، جس میں ماضی کے دھندلے عکس اب واضح ہونے لگے۔
پہلا عکس ’’ ماں‘‘ کا تھا۔ وہی نحیف سی صورت، ممتا سے لبریز آنکھیں اور وہ ہاتھ جو ہمیشہ میرے لیے دعا میں اٹھے رہتے تھے۔ مجھے یاد آیا، وہ سرد راتیں جب میں بیمار ہوتا تھا اور ماں اپنی نیند قربان کر کے میرے سرہانے بیٹھی رہتی تھی۔ اس کی جوانی میری خدمت کی نذر ہو گئی، اس کی آنکھوں کی جوت میرے مستقبل کے خواب بنتے بنتے ماند پڑ گئی۔ اور میں؟ میں نے کیا کیا؟ میں نے اسے ’’ فریضہ‘‘ سمجھ کر نظر انداز کیا۔ میں نے اسے وہ وقت نہ دیا جس کی وہ حقدار تھی۔ اس کی باتوں کو ’’ پرانے قصے‘‘ کہہ کر ٹال دیا۔ آج اس کا وہ خاموش چہرہ میرے سامنے تھا، جیسے پوچھ رہا ہو:’’ بیٹا! کیا میری محبت کی اتنی ہی قدر تھی؟‘‘۔ میری پیشانی پر پسینے کی بوندیں ابھرنے لگیں۔
پھر عکس بدلا اور ’’ باپ‘‘ کا تصور سامنے آیا۔ وہ شخص جس نے کڑی دھوپ میں مشقت کی تاکہ میرے سر پر چھائوں رہے۔ اس کے چہرے کی جھریاں دراصل میری آسائشوں کی قیمت تھیں۔ اس نے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹا تاکہ میری ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ مجھے یاد آیا، جب اس کے قدم لڑکھڑانے لگے تھے اور اسے سہارے کی ضرورت تھی، تو میں اپنی مصروفیات کا لبادہ اوڑھ کر دور جا کھڑا ہوا۔ میں نے اس کے تجربے کو ’’دقیانوسی‘‘ قرار دیا اور اس کی شفقت کو اپنا حق سمجھا، احسان نہیں۔ میری سانس بوجھل ہونے لگی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کمرے کی ہوا کم پڑ رہی ہو۔پھر ’’ بیوی‘‘ کا خیال آیا۔ وہ شریکِ حیات جو اپنا گھر بار چھوڑ کر میرے نام کی مالا جپنے آئی تھی۔ اس کی وہ خاموش قربانیاں، وہ بے لوث محبت، وہ دن بھر کی تھکن کے بعد میری ایک مسکراہٹ کے لیے منتظر رہنا، سب کچھ میرے ذہن کے پردے پر لہرا گیا۔ میں نے اسے ہمیشہ ’’ گھر کی ضرورت‘‘ سمجھا، ایک انسان نہیں جس کے اپنے ارمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کی دبے ہوئے آنسو اور وہ مسکراہٹ جو صرف گھر کے سکون کو بچانے کے لیے تھی، آج مجھے ایک مجرم کی طرح گھور رہی تھیں۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
پھر بہن اور بیٹی کے معصوم چہرے سامنے آئے۔ ان کی وہ بے غرض محبت، وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جو میری ایک توجہ کی طالب تھیں۔ میں نے انہیں ہمیشہ ’’ معمول‘‘ سمجھا، جیسے ان کا ہونا کوئی بڑی بات نہ ہو۔ آج ہر رشتہ، ہر رت، ہر قربانی مجھ سے حساب مانگ رہی تھی۔
میرا دم گھٹنے لگا۔ میں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ ٹک ٹک کرتی سوئی جیسے میرے دل پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ ’’ وقت‘‘، جو میرا سب سے بڑا اثاثہ تھا، میں نے اسے کن فضولیات میں گنوا دیا؟ ’’ جوانی‘‘، جو ایک قیمتی امانت تھی، میں نے اسے انا اور تکبر کی نذر کر دیا۔ دولت، مواقع، آسائشیں، سب ایک ایک کر کے سامنے سے گزرنے لگے۔ یہ سب اللہ کی نعمتیں تھیں، مگر میں نے انہیں اپنی محنت کا ثمر سمجھ کر تکبر کیا۔
میں کرسی سے اٹھا، مگر میرے قدم لڑکھڑا گئے۔ مجھے دیوار کا سہارا لینا پڑا۔ میرا پورا وجود پسینے میں شرابور تھا۔ وہی صدا اب دوبارہ گونجی، مگر اب کی بار وہ اور بھی زیادہ سخت اور فیصلہ کن تھی: ’’ تم یہ کہتے رہے کہ لوگوں نے تمہاری قدر نہیں کی، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے خود کسی نعمت کی قدر نہیں کی۔ تم نے رشتوں کو پامال کیا، وقت کو قتل کیا، اور سب سے بڑھ کر‘‘۔۔۔
میرا دل رک سا گیا۔
’’ سب سے بڑی ناقدری تو تم نے اپنے رب کی کی ہے!‘‘۔
یہ جملہ ایک بجلی بن کر میرے وجود پر گرا۔ میں ساکت رہ گیا۔ چہرے پر خوف، ندامت اور مکمل شکست کے آثار تھے ۔ جس رب نے مجھے عدم سے وجود بخشا، جس نے مجھے بن مانگے سب کچھ دیا، جس نے میری پردہ پوشی کی، میں نے اسی کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ میں نے مخلوق سے تو قدر دانی چاہی، مگر خالق کے سامنے سر جھکانا بھول گیا۔
یہ صرف ایک احساس نہیں تھا، یہ ایک روحانی دھماکہ تھا۔ میرا غرور، میرا تکبر، میری انا، سب ایک لمحے میں ریزہ ریزہ ہو گئے۔ میں سر پکڑ کر فرش پر بیٹھ گیا۔ میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا، کوئی عذر نہیں تھا، کوئی صفائی نہیں تھی۔چند لمحے گزرے، یا شاید صدیاں۔ پھر اچانک، میری روح کی گہرائیوں سے ایک نئی تڑپ اٹھی۔ ایک ایسی تڑپ جو ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ جوڑ دیتی ہے۔ میری آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب رواں ہو گیا۔ یہ آنسو ندامت کے تھے، یہ آنسو واپسی کے تھے۔
میں یکدم اٹھا۔ میرے لب کپکپا رہے تھے۔ میں نے ایک لمبا سانس لیا اور میرے وجود کے ریشے ریشے سے ایک پکار نکلی: ’’ اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر!‘‘
یہ نعرہ مستانہ تھا۔ یہ ایک اعتراف تھا کہ بڑا صرف وہی ہے، قادر صرف وہی ہے، اور قدر دان بھی صرف وہی ہے۔ میں نی اللہ کی بڑائی کا اعتراف کیا اور اپنی اوقات کو پہچان لیا۔ میں زمین پر جھکا اور میرا سر سجدے میں گر گیا۔
یہ میری زندگی کا وہ سجدہ تھا جس میں الفاظ کی ضرورت نہیں تھی۔ میرے آنسو فرش کو بھگو رہے تھے اور ہر قطرہ گواہی دے رہا تھا کہ بندہ اپنے رب کی طرف لوٹ آیا ہے۔ اس سجدے میں وہ ساری بوجھل یادیں، وہ ناقدریاں، وہ پچھتاوے، سب دھل کر صاف ہو رہے تھے۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میرا رب مجھے کہہ رہا ہو: ’’ اگرچہ تو نے سب کی ناقدری کی، مگر میں تیری اس توبہ کی قدر کرتا ہوں‘‘۔
جب میں سجدے سے اٹھا، تو کمرہ وہی تھا، دیواریں وہی تھیں، مگر میں وہ نہیں تھا جو چند لمحے پہلے تھا۔ ناقدری کا وہ سیاہ بوجھ اتر چکا تھا اور اس کی جگہ ’’ شکر گزاری‘‘ کی ایک روشن لہر نے لے لی تھی۔ اب مجھے دوسروں سے شکوہ نہیں تھا، اب مجھے صرف اپنے رب سے لو لگانی تھی۔
شہرِ خواب جاگ رہا تھا، اور میں بھی جاگ چکا تھا، ایک نئی زندگی کے لیے۔





