جبر، اختیار اور امرٌ بین الامرین
جبر، اختیار اور امرٌ بین الامرین
شہرِ خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسان کی تاریخِ فکر میں سب سے پیچیدہ، مسلسل جاری اور ہمہ جہت بحثوں میں سے ایک جبر و اختیار کا مسئلہ ہے۔ یہ محض ایک فلسفیانہ سوال نہیں بلکہ انسانی وجود، اس کی معنویت، اس کی اخلاقی حیثیت اور اس کے انجام سے جڑا ہوا ایک بنیادی قضیہ ہے۔ یہی سوال انسان کو اس کے رب، اس کے نفس، اور اس کے اعمال کے درمیان تعلق کو سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔
کیا انسان اپنے اعمال کا حقیقی خالق ہے یا محض ایک مجبور کردار؟
یہ سوال بظاہر سادہ مگر اپنے اندر گہرے فکری، کلامی اور روحانی پیچیدگیوں کو سموئے ہوئے ہے۔ اس کا تعلق نہ صرف فلسفہ کلام اور عقائد سے ہے بلکہ عملی زندگی، اخلاقی ذمہ داری، عدلِ الٰہی، نظامِ جزا و سزا اور انسانی رویّوں کی تشکیل سے بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اگر انسان کو مکمل مجبور مان لیا جائے تو جزا و سزا کا نظام بے معنی ہو جاتا ہے، اور اگر اسے مکمل مختار قرار دیا جائے تو پھر اللہ کی حاکمیت اور قدرتِ مطلقہ پر سوال اٹھتا ہے۔
اسی بنیادی سوال نے اسلامی فکر میں مختلف مکاتبِ فکر کو جنم دیا، اور ہر مکتب نے اپنے زاویے سے اس حقیقت کو سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کی۔ اس مضمون میں ہم معتزلہ، اشاعرہ، جبریہ، قرآنی تعلیمات، احادیثِ نبویؐ، اقوالِ حضرت علیؓ اور عملی مثالوں کی روشنی میں اس مسئلے کا جامع اور متوازن جائزہ لیں گے، تاکہ ایک ایسی حقیقت تک پہنچا جا سکے جو نہ صرف عقلی ہو بلکہ عملی زندگی میں بھی رہنمائی فراہم کرے۔
معتزلہ نے انسانی اختیار کو بنیادی حیثیت دی۔ ان کے نزدیک انسان ایک بااختیار اور ذمہ دار ہستی ہے جو اپنے اعمال کا خود خالق ہے۔ ان کا موقف یہ تھا: انسان مکمل طور پر مختار ہے، وہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے، عدلِ الٰہی کا تقاضا ہے کہ انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جائے، معتزلہ کے نزدیک اگر انسان مجبور ہو تو پھر اسے سزا دینا ظلم ہوگا، اور اللہ ظلم سے پاک ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان کو حقیقی اختیار حاصل ہو تاکہ جزا و سزا کا نظام عدل پر قائم رہ سکے۔
انہوں نے اپنے موقف کے حق میں قرآن مجید سے درج ذیل دلائل پیش کیے:
’’ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں‘‘۔
’’ اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی‘‘۔
’’ جو نیکی کرے گا اپنے ہی فائدے کے لیے کرے گا، اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہوگا‘‘۔
’’ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، چاہے وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا‘‘۔
یہ آیات واضح طور پر انسانی اختیار، ارادہ اور کوشش کو نمایاں کرتی ہیں۔
تاہم اس نظریے میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر انسان اپنے اعمال کا خود خالق ہے تو پھر اللہ کی مطلق قدرت کہاں باقی رہتی ہے؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں معتزلہ کا نظریہ تنقید کا شکار ہوتا ہے۔
معتزلہ کے مقابلے میں اشاعرہ نے اللہ کی قدرت اور مشیت کو مرکزی حیثیت دی۔
ان کے مطابق: ہر عمل کا حقیقی خالق اللہ ہے، انسان صرف ’’ کسب‘‘ کرتا ہے۔ یعنی وہ عمل کو اختیار کرتا ہے مگر اس کی تخلیق اللہ کے اختیار میں ہے۔
اشاعرہ کے دلائل بھی قرآن مجید سے ماخوذ ہیں:
’’ حالانکہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو بھی‘‘۔
’’ اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے‘‘۔
’’ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے‘‘۔
’’ اگر اللہ چاہتا تو وہ سب کو ہدایت دے دیتا‘‘۔
یہ آیات اللہ کی مطلق حاکمیت اور اس کی مشیت کی بالادستی کو واضح کرتی ہیں۔
لیکن اس نظریے میں ایک مشکل یہ پیش آتی ہے کہ اگر ہر عمل اللہ کی تخلیق ہے تو پھر انسان کی ذمہ داری کس حد تک باقی رہتی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو اس نظریے کو مکمل تسلی بخش نہیں رہنے دیتا۔
جبریہ نے اس بحث کو ایک انتہا تک پہنچا دیا۔ ان کے مطابق: انسان مکمل طور پر مجبور ہے، اس کا کوئی حقیقی اختیار نہیں، اس کے تمام اعمال پہلے سے طے شدہ ہیں۔ یہ نظریہ نہ عقل کے معیار پر پورا اترتا ہے اور نہ شریعت کے مطابق قابلِ قبول ہے، کیونکہ اگر انسان مکمل مجبور ہو تو پھر نہ نیکی کا کوئی مفہوم باقی رہتا ہے اور نہ گناہ کا، اور نہ ہی جزا و سزا کی کوئی معنویت باقی رہتی ہے۔
قرآن مجید اس مسئلے کو کسی ایک انتہا پر نہیں لے جاتا بلکہ ایک متوازن حقیقت پیش کرتا ہے۔ ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ’’ پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے‘‘۔ اور دوسری جگہ فرمایا گیا: ’’ اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے‘‘۔
یہ دونوں آیات بظاہر متضاد محسوس ہوتی ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔
پہلی آیت انسان کے اختیار کو بیان کرتی ہے، جبکہ دوسری آیت اس اختیار کی حد کو واضح کرتی ہے۔
گویا: انسان کو انتخاب کا حق حاصل ہے، مگر یہ انتخاب اللہ کی مشیت کے دائرے میں ہوتا ہے۔
نبی اکرمؐ کا ارشاد ہے: ’’ عمل کرو، ہر ایک کو وہی آسان کیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے‘‘۔
یہ حدیث عمل اور تقدیر کے درمیان ایک نہایت لطیف ربط کو واضح کرتی ہے۔ اس میں: انسان کو عمل کا حکم دیا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ نتائج اللہ کے علم اور مشیت کے تابع ہیں۔
اس پیچیدہ مسئلے کو کتنے احسن طریقے سے باب مدینتہ العلم نے سمجھایا ہے ۔
’’ نہ مکمل جبر ہے، نہ مکمل اختیار، بلکہ دونوں کے درمیان ایک درمیانی حقیقت موجود ہے‘‘۔ فرمایا: ’’ اگر جبر ہوتا تو سزا ظلم ہوتی، اور اگر مکمل اختیار ہوتا تو اللہ کی قدرت ختم ہو جاتی‘‘۔
یہ اقوال اس مسئلے کے حقیقی توازن کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کرتے ہیں۔
امرٌ بین الامرین، توازن کی حقیقت
یہی وہ مقام ہے جہاں امرٌ بین الامرین کا تصور سامنے آتا ہے، جو نہ صرف ایک نظریہ بلکہ ایک مکمل فکری اور عملی نظام ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے: انسان فاعل ہے: وہ ارادہ کرتا ہے، نیت بناتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے، مگر وہ خالقِ فعل نہیں: اس کی قوت، وسائل اور نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں۔
یہ نظریہ انسان کو نہ غرور میں مبتلا ہونے دیتا ہے اور نہ مایوسی میں گرتا ہے۔
فرض کریں ایک شخص سے کہا جائے: ایک پائوں اٹھائو، وہ اٹھا لیتا ہے، یہ اس کا اختیار ہے۔ دوسرا پائوں اٹھائو، وہ نہیں اٹھا سکتا، یہ اس کی حد ہے۔
یہ سادہ مثال ایک گہری حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان نہ مکمل آزاد ہے اور نہ مکمل مجبور۔
اس بحث کا ایک نہایت اہم نچوڑ یہ ہے: جہاں انسان پر تنقید ممکن ہو، وہاں وہ مختار ہے اور جہاں تنقید بے معنی ہو، وہاں وہ مجبور ہے۔
اسی اصول کی بنیاد پر: اختیار کے دائرے میں: جھوٹ، ظلم، خیانت
جبر کی دائرے میں: پیدائش، جسمانی کمزوریاں
یہ تقسیم انسانی اخلاق، شریعت اور عدلِ الٰہی کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
حضرت علیؒ کا ایک اور فرمان ہے: ’’ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کی شکست سے پہچانا‘‘۔
یہ جملہ اس حقیقت کو نہایت گہرائی سے بیان کرتا ہے کہ: ارادہ انسان کا ہوتا ہے، مگر نتیجہ اللہ کی مشیت کے تابع ہوتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو اپنی حقیقت اور اپنے رب کی عظمت کا ادراک ہوتا ہے۔
معتزلہ اختیار پر زور دیتے ہیں۔ اشاعرہ مشیتِ الٰہی کو نمایاں کرتے ہیں، جبریہ جبر کی انتہا پر کھڑے ہیں، مگر امرٌ بین الامرین ان سب کے درمیان ایک ایسا متوازن نقطہ پیش کرتا ہے، جو نہ صرف عقلی بلکہ عملی اور روحانی طور پر بھی قابلِ قبول ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے: انسان اپنے انتخاب میں آزاد ہے، مگر اپنے نتائج اور حالات میں پابند ہے۔ جہاں سوال اٹھتا ہے وہاں اختیار ہے، جہاں سوال اٹھانا ظلم ہو وہاں جبر ہے۔
یہی وہ اصول ہے جو: عدلِ الٰہی کو محفوظ رکھتا ہے، اللہ کی حاکمیت کو برقرار رکھتا ہے اور انسان کی ذمہ داری کو قائم رکھتا ہے۔
یہ نظریہ نہ صرف فلسفہ کلام کی سطح پر مضبوط ہے بلکہ عملی زندگی، اخلاق اور روحانیت کے لیے بھی ایک روشن راہ فراہم کرتا ہے۔
انسان اس کے ذریعے: اپنی ارادی قوت کو پہچانتا ہے، اپنی حدود کو تسلیم کرتا ہے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے اور یہی توازن انسان کو نہ صرف جواب دہ بناتا ہے بلکہ اسے امید، خوف، اور معرفت، تینوں سے ہم کنار کرتا ہے۔





