Column

جنگ بندی ایرانی شرائط پر

جنگ بندی ایرانی شرائط پر
صورتحال
سیدہ عنبرین
امریکہ کی طرف سے ایران پر حملے کرنے اور روکنے کیلئے ہر روز ایک نئی قلابازی لگائی جاتی ہے، سنجیدہ مزاج حلقے اب ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی بات پر اعتبار نہیں کرتے۔ سی آئی اے کے ایک سابق سربراہ جان برنین کہتے ہیں کہ وہ ٹرمپ کی بجائے ایران پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ ٹرمپ بار بار تھپڑ کھا کر بھی سچائی تسلیم نہیں کرتا۔ پانچ روزہ اٹیک بریک کا اعلان کئے ابھی چوبیس گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ امریکہ نے ایران پر ایک مرتبہ نئی تیاری کے ساتھ حملے شروع کر دیئے ۔ بات تو انتہائی تکلیف دہ ہے، لیکن امریکی صدر نے پلٹا کھانے کا ریکارڈ برقرار رکھا۔ پاکستان میں امریکی وظیفہ خوروں کا گروہ آج منہ چھپاتا پھرتا ہے، جس نے ایک غیر ملکی اخبار میں خاص مقاصد کے تحت ایک خبر شائع کرائی، پھر ازخود اختیارات کے تحت ڈھول پیٹنا شروع کر دیا کہ بس جنگ ختم، اب مذاکرات ہوں گے اور امریکہ کی شرط پر ہوں گے، اور اس کا سہرا ان کے سر بندھے گا۔ وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا، قیاس آرائیوں کو حتمی نہیں سمجھنا چاہئے۔ ایران کے لیڈروں نے کہا مختلف ذرائع سے پیغام ملے ہیں، لیکن مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے کیلئے بڑھ رہے تھے کہ ان سے یہی سوال کیا گیا انہوں نے مڑ کر بھی میڈیا نمائندوں کی طرف نہ دیکھا اور کان لپیٹے آگے بڑھ گئے، جبکہ پاکستان میں وظیفہ خوروں نے مذاکرات شروع بھی کرا دیئے، نتیجے بھی نکال لئے، ان کے بس میں ہوتا تو جنگ بندی کی تاریخ کا اعلان بھی کر دیتے، اور ایران کی حاصل کردہ کامیابیاں بھی چھین لیتے۔ بیشتر ممالک جنگ بندی چاہتے ہیں، لیکن جنگ بندی وہی کرا سکتے ہیں جو دونوں طرف یا تو تعلقات رکھتے ہوں یا پھر ان کی کوئی اہمیت ہو۔ وہ ملک جو دنیا کے دست نگر ہیں، ہوا میں معلق ہیں ، ان کے اپنے پائوں زمین پر نہیں، جو ہر لمحے پر آنے والے موقف کی تائید کرتے رہتے ہیں، وہ جنگ بند کرانے جیسے معاملے میں کوئی کردار نہیں رکھتے۔ باقی رہا معاملہ کس کا فون کس کو آیا، یا کس کو نہیں آیا، تو اس کی کوئی اہمیت نہیں، جنگ بندی جب بھی ہو گی بڑی طاقتوں کی شمولیت سے ہو گی۔ اس میں امریکہ کے علاوہ روس اور چین بھی نظر آئیں گے، لیکن یہ جنگ اس وقت تک یقیناً بند نہیں ہو گی جب تک امریکہ جھانسے دیتا رہے گا، اور اسرائیل جنگ بندی سے انکار کر کے حملے کرتا رہے گا۔ امریکہ جنگ بندی کی بات اخلاص سے نہیں کرتا اور درپردہ اسرائیل کو حملے جاری رکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اس کی پالیسیوں سے تنگ آ کر نیتن یاہو نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو جنگ بندی کی بات کرنے والے۔
پاکستانی وظیفہ خوروں کا گروہ آج ڈونلڈ ٹرمپ کو معصوم ثابت کرنے کیلئے سرگرم ہے، ان کے مطابق ٹرمپ کو نیتن یاہو نے ورغلایا اور جنگ میں کھینچ لایا، ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے عام امریکی لڑکی بلوغت کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ناجائز تعلقات استوار کر لیتی ہے، اور سب کچھ جانتے ہوئے ایک آدھ حرامی پلا بھی پیدا کر لیتی ہے، جو ازاں امریکی یتیم خانوں میں پلنے کے بعد امریکی فوج میں بھرتی کر لیا جاتا ہے۔ اسے یتیم خانے داخل کرانے کے بعد وہ دوسرے مرد کی تلاش میں مصروف ہو جاتی ہے۔ ٹرمپ اس امریکی لڑکی جتنی عقل نہیں رکھتا کہ ورغلایا جاتا ہے اور بار بار ورغلایا جاتا ہے، اب تو پورا امریکہ اور اس کے اپنے پارٹی ارکان کانگریس اس پر غرا رہی ہیں۔ امریکی صدر کو پانچ روزہ اٹیک بریک کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ وہ کسی اچانک اعصابی اٹیک کے نتیجے میں ڈاکٹروں کے زیر نگرانی چلے گئے تھے، جبکہ اسرائیل میں لاشوں کے ڈھیر لگ چکے تھے، انہیں دفنانے کیلئے کچھ وقفہ درکار تھا۔ اسرائیل کے پانچ بڑے شہروں میں سیکڑوں بلند و بالا عمارتیں، اہم دفاتر، حفاظتی بنکر تباہ ہو چکے ہیں، فضا میں دھواں ہے، اور بارود کی بو ہے۔ اسرائیلی مرد اور عورتیں خوراک کے حصول کیلئے لمبی لمبی لائنوں میں لگے ہیں، جبکہ مرنے والوں کے پالتو کتے جو ان کے ساتھ موت کے منہ میں نہیں گئے، خوراک کی تلاش میں ملبے میں دبی لاشوں کے بخیے ادھیڑ رہے ہیں۔ اندھیرے میں ڈوبے اسرائیلی شہر اس وقت روشن ہو جاتے ہیں جب ایرانی میزائل ان کا حال پوچھنے کیلئے وہاں پہنچتے ہیں، ایرانی حکمت عملی کے تحت چھوٹے چھوٹے وقفوں سے ڈرون بھی اپنی حاضری لگواتے ہیں، خطرے کے الارم، دھماکے، بے خوابی، خوراک کی کمی سے بنکروں سے جاگتے جاگتے رات آنکھوں میں کاٹتے مرد، خواتین اور بچے ذہنی اضطراب اور اعصابی تنائو کا شکار ہو رہے ہیں۔ اب ان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر حفاظتی بنکر میں ایک ماہر نفسیات اور ایک روحانی شخصیت کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جو انہیں ہر میزائل اور ڈرون حملے میں محفوظ رہنے کی خوشخبری سناتا ہے، لیکن ان کے مرنے کے بعد ان کی شکل بھی نہیں دیکھتا۔
اسرائیل، امریکہ کی طرف سے ایران پر جنگ مسلط کئے آج چھبیس روز ہو چکے ہیں۔ آزاد میڈیا خبر دے رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آنے والے درجنوں بحری جہاز ڈوب چکے ہیں، جن میں امریکہ کے تین جہاز بھی ہیں۔ درجنوں امریکی لڑاکا طیارے گرائے جا چکے ہیں۔ امریکی بحری بیڑے میں شامل دو طاقتور ترین ایئر کرافٹ کیریئر میزائلوں کی زد میں آ کر ناکارہ ہو چکے ہیں۔ دو درجن سے زیادہ امریکی ہیلی کاپٹر زمین بوس ہو چکے ہیں۔ سیکڑوں تابوت امریکہ اور اسرائیل میں جہازوں پر چڑھتے اور گاڑیوں میں رکھے نظر آتے ہیں، لیکن پاکستان میں وظیفہ خور گروہ آج بھی اس جنگ میں مرنے والے امریکیوں کی تعداد گیارہ ہی بتا رہا ہے۔ حقائق بیان کرتے ہوئے ان کی ماں مر جاتی ہے۔ شاید وظیفہ رک جانے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
امریکی فوج میں بغاوت کی سی کیفیت ہے، امریکی سپاہی سمجھتا ہے اسے پرائی جنگ میں جھونکا جا رہا ہے، کچھ عجب نہیں جب مرضی کے خلاف امریکی سپاہ کو کسی جگہ ایکشن کیلئے اتارا جائے تو وہ زمین پر قدم رکھتے ہی ہتھیار ڈال کر ایران کے مہمان بن جائیں، اور اپنی جانیں بچا لیں۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں امریکہ کے جنگ میں کودنے کے خلاف مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے پتلے جلائے جا رہے ہیں، ایسے ہی منظر اسرائیل کے شہروں میں ہیں، جہاں ذرا بمباری رکے تو لوگوں کا ہجوم نیتن یاہو کے خلاف نعرہ زن نظر آتا ہے۔
نہر سویز، پانامہ کینال اور دوسری آبی گزر گاہوں سے ٹیکس وصول کرنے والے چاہتے ہیں ایران آبنائے ہرمز سے کوئی ٹیکس نہ لے، وہ اپنا یورینیم امریکہ کو دے ڈالے، اپنا میزائل پروگرام اور ایٹمی پروگرام بند کر دے، اور ایران کا تابع دار بن کر باقی زندگی گزارے۔ عقل کے اندھوں کو خبر ہو، ایران نے تمام قربانیاں اس مقصد کیلئے نہیں دیں، جنگ بندی ایران کی شرائط پر ہو گی، مزید پابندیاں برداشت نہیں کی جائیں گی، امریکہ کو خطے سے نکلنا ہو گا۔

جواب دیں

Back to top button