Column

مشرق وسطیٰ جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کی میزبانی پر تیار

مشرق وسطیٰ جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کی میزبانی پر تیار
مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور حساس دور سے گزر رہا ہے، جہاں جنگ، کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حالیہ پیش رفتوں کے مطابق پاکستان نے نہ صرف اس بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ اسے حل کرنے کے لیے فعال اور تعمیری سفارتی کردار ادا کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان کہ پاکستان جاری بحران کے خاتمے کے لیے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک واضح پالیسی سمت کی نشان دہی کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ مذاکرات کی میزبانی پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے اور یہ کہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات ضروری ہیں، پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی توثیق ہے کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں بلکہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی میڈیا رپورٹس، بالخصوص برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں پسِ پردہ سفارتی رابطے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح پر پاکستان ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان غیر رسمی اور بیک چینل رابطے ممکن بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ ان دعوں کی سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اور رابطوں کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اسلام آباد خطے میں امن کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی قیادت کے درمیان رابطوں کا ذکر بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں سامنے آیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک ہی صفحے پر رہتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ اگر یہ سفارتی کوششیں درست سمت میں آگی بڑھتی ہیں تو پاکستان نہ صرف ایک ثالث کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سفارت کاری میں ایک قابلِ اعتماد کردار کے طور پر بھی ابھرے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم کے زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس
اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست پاکستان اس صورت حال کو محض بیرونی بحران نہیں سمجھ رہی بلکہ اسے اپنی قومی سلامتی، توانائی کے استحکام اور خطے کے وسیع تر سیاسی اثرات کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ ایران پر امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، توانائی بحران اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال پر غور اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی پالیسی سازی میں حقیقت پسندانہ اور جامع نقطہ نظر اختیار کیے ہوئے ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان بھی اسی سفارتی حکمت عملی کا تسلسل ہے، جس میں میڈیا کو قیاس آرائیوں سے گریز کرنے اور سرکاری اعلانات کا انتظار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ موقف نہ صرف سفارتی عمل کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات امن کے لیے خاموشی، صبر زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام آباد ایک ایسے نازک موڑ پر عالمی برادری کے سامنے ایک ذمے دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے جو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی خواہش رکھتا ہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اس مقصد کے حصول کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ پاکستان کی یہ کوششیں اس کی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی اصول کی عکاسی کرتی ہیں جس کے مطابق امن، مذاکرات اور باہمی احترام ہی عالمی تعلقات کی مضبوط بنیاد ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان جغرافیائی طور پر ایسے خطے میں واقع ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات اکثر ٹکراتے ہیں، اس کے باوجود پاکستان نے نسبتاً متوازن، محتاط اور غیرجانبدارانہ پالیسی اختیار کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اب ایک ممکنہ ’’ اعتماد کے پل‘‘ کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو مخالف فریقین کو ایک میز پر لاسکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی اس سفارتی پیش رفت کو تسلسل اور حکمت عملی کے ساتھ جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں امن کے امکانات کو بڑھا سکتی بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی وقار کو بھی مزید مستحکم کر سکتی ہے۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی کہ ایک ایسا ملک جس پر براہِ راست جنگی مفادات کا دبا نہیں، وہ امن کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کا کردار ایک امید کی کرن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ خطے میں چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی افہام و تفہیم کی جانب بڑھتے ہوئے یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن ابھی بھی ممکن ہے اور پاکستان اس امید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کو عمرقید
مقبوضہ جموں و کشمیر میں آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو دی جانے والی طویل سزائیں ایک بار پھر خطے میں انسانی حقوق اور انصاف کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ بھارتی عدالت کی جانب سے آسیہ اندرابی کو عمر قید جب کہ ان کی دو ساتھیوں کو تیس، تیس سال قید کی سزا سنانا کشمیری حلقوں کے مطابق ایک عدالتی فیصلہ کم اور سیاسی پیغام زیادہ ہے۔ کشمیر میڈیا سروس اور مختلف انسانی حقوق کے مبصرین اس موقف کا اظہار کررہے ہیں کہ یہ مقدمات طویل عرصے سے سیاسی بنیادوں پر چلائے جارہے ہیں اور ان کا مقصد مقبوضہ وادی میں اختلاف رائے کو دبانا ہے۔ آسیہ اندرابی، جو دختران ملت کی بانی ہیں، برسوں سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی آواز بلند کرتی رہی ہیں اور ان کی سرگرمیوں کو بھارت کی جانب سے متنازعہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ان کی طویل حراست اور اب سخت سزائیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ وادی میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے گنجائش مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان سزائوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ فیصلے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا تسلسل ہیں اور بھارت کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان اقدامات کا نوٹس لے اور خطے میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔ یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایسے عدالتی فیصلے نہ صرف کشمیری عوام کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تک خطے میں سیاسی حل اور مذاکرات کی راہ اختیار نہیں کی جاتی، اس نوعیت کے فیصلے تنا کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھاتے رہیں گے۔ کشمیر کا تنازع محض قانونی یا سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل صرف اعتماد سازی، مکالمے اور اقوام متحدہ میں منظور کردہ قراردادوں کی پاسداری میں مضمر ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فعال کردار ادا کرے تاکہ خطے میں انسانی حقوق کا تحفظ اور دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button