Column

مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان میں مہنگائی کی لہر

حرفِ جاوید
مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان میں مہنگائی کی لہر
تحریر: جاوید اقبال
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست اور معیشت کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے نہ صرف خطے کی سلامتی کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کشیدگی کے فوری اثرات تیل کی عالمی منڈی پر پڑے ہیں جہاں قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔ چونکہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی خطے سے وابستہ ہے، اس لیے یہاں ہونے والی کسی بھی سیاسی یا عسکری پیش رفت کا اثر براہِ راست عالمی معیشت اور بالخصوص تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑتا ہے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں عالمی منڈی میں ہونے والی ہلچل فوری طور پر عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر جب بھی اس میں شدت آتی ہے تو عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ جاتی ہے۔ سرمایہ کار اور تیل کمپنیاں فوری طور پر خدشات کا شکار ہو جاتی ہیں کہ کہیں تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو جائے۔ یہی خدشات قیمتوں کو اوپر لے جاتے ہیں۔ خاص طور پر خلیج کا اہم سمندری راستہ آبنائے ہرمز اس پوری صورتِ حال میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے اور اگر یہاں کسی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ پیدا ہو جائے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے اسی راستے کے محفوظ رہنے پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔
تیل کی عالمی منڈی کی نوعیت ایسی ہے کہ یہاں صرف حقیقی سپلائی اور طلب ہی قیمتوں کا تعین نہیں کرتیں بلکہ خدشات اور قیاس آرائیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر کسی بڑے تیل پیدا کرنے والے خطے میں جنگ یا کشیدگی کا خطرہ پیدا ہو جائے تو مارکیٹ فوری ردِعمل دیتی ہے۔ یہی کچھ حالیہ صورتِ حال میں بھی دیکھنے میں آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں۔ اس اضافے نے دنیا بھر کے ان ممالک کو زیادہ متاثر کیا جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔پاکستان کی معیشت اس حوالے سے خاصی حساس ہے کیونکہ ملک اپنی ضرورت کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر پاکستان کے درآمدی بل پر پڑتا ہے۔ درآمدی بل میں اضافے سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دبا بڑھتا ہے بلکہ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھانا پڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، پاکستان میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات معیشت کے تقریباً ہر شعبے پر پڑتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس طرح مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا ہو جاتی ہے جو عام شہری کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دبا عوام کے لیے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہو، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔
ایسے حالات میں جب عوام مہنگائی کے بوجھ تلی دبے ہوئے ہوں تو حکومتی حلقوں سے آنے والے بعض بیانات بھی لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ایک حکومتی خاتون نمائندہ کی جانب سے ٹیلی وژن پروگرام میں یہ جملہ کہا گیا کہ اگر پٹرول کی قیمت میں ایک سو دس روپے اضافہ بھی کر دیا جاتا تو کوئی ہمارا کیا بگاڑ لیتا۔ بظاہر یہ ایک سیاسی گفتگو کا حصہ تھا، مگر ایسے جملے اس احساس کو تقویت دیتے ہیں کہ شاید حکمرانوں اور عام شہریوں کے درمیان فاصلہ بہت بڑھ چکا ہے۔ جب ایک مزدور، رکشہ ڈرائیور یا تنخواہ دار طبقہ روزانہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہو تو اس قسم کے بیانات اس کے دکھ اور بے بسی کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ حکومتی نمائندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشی فیصلوں کا دفاع کرتے وقت صرف اعداد و شمار ہی نہیں بلکہ عوامی احساسات کو بھی پیشِ نظر رکھیں، کیونکہ معیشت کا اصل بوجھ آخرکار عام آدمی ہی اٹھاتا ہے۔
اس صورتِ حال میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا حکومت چاہتی تو کچھ عرصے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھ سکتی تھی؟ اصولی طور پر دیکھا جائے تو حکومت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پر فوری اضافہ نہ کرے۔ مگر اس کے لیے حکومت کو کچھ معاشی اقدامات کرنا پڑتے ہیں جن میں سب سے اہم سبسڈی دینا یا ٹیکسوں میں کمی کرنا شامل ہے۔
سبسڈی ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے حکومت عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوام کو وقتی ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔ اس صورت میں حکومت درآمدی قیمت اور مقامی قیمت کے درمیان فرق خود برداشت کرتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں ایسے حالات میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے یہی طریقہ اختیار کرتی ہیں۔ تاہم پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں پہلے ہی مالی وسائل محدود ہیں اور بجٹ خسارہ ایک بڑا مسئلہ ہے، طویل عرصے تک سبسڈی دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی طرح حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیوی میں کمی کر کے بھی قیمتوں کو کچھ عرصے کے لیے مستحکم رکھ سکتی ہے۔ پاکستان میں پٹرول کی قیمت کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں اور لیوی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر حکومت ان میں کمی کر دے تو قیمتوں میں اضافے کا اثر کچھ حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس اقدام کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے حکومتی آمدنی کم ہو جاتی ہے جس سے ترقیاتی اخراجات اور دیگر مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ایک اور پہلو اسٹریٹجک آئل ریزرو یا تیل کے ذخائر کا ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود ہوتے ہیں جنہیں ہنگامی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں اچانک بڑھ جائیں تو یہ ممالک اپنے ذخائر سے مارکیٹ کو سپلائی دے کر قیمتوں کے دبائو کو کم کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے پاس ایسے ذخائر محدود ہیں جس کی وجہ سے حکومت کے پاس بحران کے وقت زیادہ آپشنز موجود نہیں ہوتے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے پروگراموں اور مالیاتی نظم و ضبط کی پابندیوں کے تحت معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے سبسڈی دینا یا قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھنا بعض اوقات ممکن نہیں رہتا کیونکہ اس سے مالیاتی اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر حکومتیں عالمی منڈی کے مطابق قیمتوں کو ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کیا عوام کو فوری مہنگائی کی دلدل میں پھینکنے سے بچانے کے لیے کوئی درمیانی راستہ اختیار کیا جا سکتا تھا؟ بعض ماہرین کے مطابق اگر حکومت مرحلہ وار اضافہ کرتی یا چند ہفتوں کے لیے قیمتوں کو برقرار رکھتی تو عوام کو اس اچانک اضافے کے اثرات سے کچھ حد تک بچایا جا سکتا تھا۔
توانائی کے بحران اور عالمی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کو طویل المدتی پالیسیوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اگر ملک توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور مقامی وسائل کے استعمال پر زیادہ توجہ دے تو درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
موجودہ صورتِ حال ایک بار پھر یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ عالمی سیاست اور معیشت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی ایک کشیدگی ہزاروں میل دور بیٹھے عام شہری کی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی تیل مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اسی عالمی صورتِ حال کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ حکومت کے پاس قیمتوں کو وقتی طور پر مستحکم رکھنے کے کچھ آپشنز موجود تھے مگر معاشی مشکلات اور مالیاتی دبا نے ان آپشنز کو محدود کر دیا۔
یہ بحران دراصل ایک بڑے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کب تک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتا رہے گا۔ اگر ملک نے بروقت متبادل توانائی کے ذرائع اور مقامی وسائل کو فروغ دینے پر توجہ نہ دی تو ہر عالمی بحران کے ساتھ مہنگائی اور معاشی دبا کی نئی لہر بھی آتی رہے گی، اور اس کا بوجھ بالآخر اسی عام شہری کو اٹھانا پڑے گا جو پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button