Column

مشرقِ وسطیٰ: عالمی سیاست کا آتش فشاں

مشرقِ وسطیٰ: عالمی سیاست کا آتش فشاں
تحریر : صفدر علی حیدری
مشرقِ وسطیٰ محض ایک خطہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کا گہوارہ اور عالمی سیاست، توانائی کے وسائل اور عسکری قوتوں کا حساس ترین محور رہا ہے۔ صدیوں سے یہ خطہ سلطنتوں کے عروج و زوال، مذہبی مقدس مقامات کی حفاظت اور تجارتی گزرگاہوں پر قبضے کی جدوجہد کا مرکز ہے۔ موجودہ دور میں اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہاں کی جغرافیائی سرحدیں اب صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ بن چکی ہیں۔ امریکہ، روس، چین اور یورپی ممالک کے مفادات یہاں اس طرح گتھم گتھا ہیں کہ ایک معمولی سی چنگاری پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اکیسویں صدی کے اس دہکتے ہوئے میدان میں اب صرف روایتی ہتھیار ہی نہیں بلکہ سائبر وار فیئر اور مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کے مفہوم کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کا یہ مہلک استعمال انسانی بقا کے لیے ایک نیا اور سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے، جہاں بٹن دبانے والا میلوں دور بیٹھ کر معصوم خوابوں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیتا ہے۔
1979ء کے اسلامی انقلاب سے قبل ایران اور اسرائیل کے تعلقات نسبتاً بہتر تھے۔ اس وقت کے ایران اور اسرائیل کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی موجود تھی، لیکن انقلابِ ایران نے اس خطے کے سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ امام خمینی کی قیادت میں اٹھنے والی تحریک نے ایران کو ایک نظریاتی قوت بنا دیا جس نے مغربی سامراج اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اسرائیل نے ایران کے اس بدلے ہوئے موقف کو ہمیشہ اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا۔ 2000کی دہائی کے آغاز سے اسرائیل کی تمام تر خارجہ پالیسی کا مرکز ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا رہا ہے۔ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اسرائیل کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اپنی سرحدوں سے دور دشمن کو مصروف رکھنے کے لیے ’’ بالواسطہ جنگ‘‘ کی حکمت عملی اپنائی، جس نے لبنان، شام اور غزہ تک اسرائیل کے گرد ایک دفاعی حصار قائم کر دیا ہے۔ اس منظرنامے میں چین کی خاموش سفارت کاری اور روس کے بڑھتے ہوئے قدموں نے عالمی طاقت کے توازن کو ایک نئی جہت دی ہے، جہاں اب امریکہ کے یکطرفہ فیصلوں کو چیلنج کرنا ممکن ہو چکا ہے۔ایران کا جوہری پروگرام اکیسویں صدی کا سب سے متنازعہ مسئلہ بن کر ابھرا۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا دعویٰ رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر کے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنا چاہتا ہے، جبکہ ایران کا ہمیشہ یہ موقف رہا کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف بجلی کی پیداوار اور طبی مقاصد کے لیے ہیں۔ 2015ء میں ہونے والا عالمی جوہری معاہدہ ایک امید کی کرن کے طور پر سامنے آیا۔ ایران نے اپنی یورینیم کی افزودگی کو محدود کرنے کا وعدہ کیا اور عالمی برادری نے معاشی پابندیوں میں نرمی کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن 2018ء میں امریکہ کی جانب سے یکطرفہ علیحدگی نے اعتماد کے اس پل کو مسمار کر دیا۔ اس اقدام نے ایران کو دوبارہ اپنی جوہری سرگرمیاں تیز کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں 2025ء اور 2026ء تک صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی اور سفارت کاری کے دروازے تقریباً بند ہو گئے۔ 2025ء کے اواخر اور 2026ء کے آغاز میں، امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری اور فوجی مراکز پر فضائی حملے کیے۔ یہ حملے ’’ احتیاطی کارروائی‘‘ قرار دئیے گئے، مگر انسانی المیے نے اس جنگ کو ناقابل فراموش بنا دیا۔
ایک المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مدرسے پر حملہ ہوا اور 85سے زائد بچیاں شہید ہو گئیں۔ یہ واقعہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ عالمی ضمیر پر ایک بھاری بوجھ ہے، جس نے انسانی حقوق کے دعویداروں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا۔ ان معصوم جانوں کا زیاں یہ بتاتا ہے کہ جنگیں صرف زمین نہیں جیتتیں بلکہ نسلوں کے دلوں میں نفرت اور انتقام کے وہ بیج بو دیتی ہیں جن کی فصل دہائیوں تک کٹی جاتی ہے۔ ایران نے اس کا جواب اپنے بالواسطہ جنگجو گروہوں ( حزب اللہ، حوثی، اور عراقی ملیشیا) کے ذریعے دیا، جس نے خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک پورے خطے کو خطرناک کشیدگی میں ڈال دیا۔ امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔ ایران کی حامی قوتوں نے لبنان، شام، عراق اور یمن میں اپنی موجودگی مستحکم کی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، ایران کے دستِ راست کے طور پر اسرائیل کے خلاف سرگرم ہے۔ عراق اور شام میں شیعہ ملیشیا امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف کام کر رہی ہے۔ یمن میں حوثی باغی سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔یہ بالواسطہ تنازعات خطے میں عدم استحکام کو طول دے رہے ہیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ چھوٹے اختلافات بڑے بحران میں بدلنے کا خطرہ موجود ہے، جیسا کہ تزویراتی آبی گزرگاہوں اور متنازعہ علاقوں میں حالیہ جھڑپوں سے ظاہر ہوتا ہے۔
اس جنگ کے اثرات صرف جغرافیائی نہیں بلکہ اقتصادی بھی ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی حساس ہے، میں ممکنہ بندش سے خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر سکتی ہیں۔ بازارِ حصص ( اسٹاک مارکیٹ) میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک اس بحران سے براہِ راست متاثر ہیں۔ پاکستان میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ افراطِ زر ( مہنگائی) کو بڑھا دے گا۔ ایران کے ساتھ سرحد ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی اور پناہ گزینوں کے چیلنجز بھی بڑھ جائیں گے۔ بھارت توانائی کی متبادل فراہمی کے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ اگر یہ جنگ وسیع ہوئی تو خلیجی ریاستوں میں لاکھوں تارکینِ وطن متاثر ہوں گے، جس سے مقامی معیشتوں پر ناقابلِ تلافی اثر پڑے گا۔
مستقبل کے دو واضح منظرنامے ہیں۔ ایک یہ کہ عالمی طاقتیں، خاص طور پر چین اور روس، ثالث کا کردار ادا کریں اور ایران اور امریکہ کو دوبارہ میز پر لائیں، جو فی الحال مشکل لگتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کشیدگی بڑھ کر ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائے، جس سے پوری دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔ صفدر علی حیدری کا یہ تجزیہ واضح کرتا ہے کہ جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتی، بلکہ نئے اور پیچیدہ مسائل کو جنم دیتی ہے۔ موجودہ کشیدگی عالمی قیادت کے لیے امتحان ہے کہ آیا وہ انسانیت کو بچائیں گے یا اپنے سیاسی و اقتصادی مفادات کی خاطر انسانی زندگی کو قربان کریں گے۔ زمین کے اس ٹکڑے پر پھیلا ہوا بارود کا دھواں اب پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیار کھڑا ہے، اور فیصلہ اب صرف وقت کے ہاتھ میں ہے۔
صفدر علی حیدری

جواب دیں

Back to top button