ابنِ آدم کا خون ہے آخر

ابنِ آدم کا خون ہے آخر
تحریر :شکیل سلاوٹ
جب انسانیت لہو لہان ہو جائے۔ دنیا ایک بار پھر چیخ رہی ہے، مگر اس کی آواز خبروں کے شور میں دب جاتی ہے۔ اس چیخ میں ماں کی آہ، بچے کی سسکی، اور بوڑھے کی خاموش دعا شامل ہے۔ نقشوں پر کھینچی ہوئی لکیروں کے بیچ کہیں انسان پِس رہا ہے۔ بے نام، بے چہرہ، بے قصور۔ طاقت کے ایوانوں میں فیصلے ہوتے ہیں اور زمین پر قبریں کھودی جاتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب یہ جملہ صرف شعر نہیں رہتا، ایک الزام بن جاتا ہے۔
ابنِ آدم کا خون ہے آخر۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ناگزیر ہے۔ قومی سلامتی، اسٹریٹیجک مفادات، دفاعی ضرورت۔ الفاظ کی یہ تہذیب یافتہ لغت اصل کہانی چھپا دیتی ہے۔ اصل کہانی انسان کی ہے، جو ہر دھماکے کے بعد کم اور ہر دلیل کے بعد تنہا ہو جاتا ہے۔
کیا ریاستیں واقعی بے حس ہیں؟ یا ہم نے بے حسی کو حکمتِ عملی کا نام دے دیا ہے؟
پاکستان اور افغانستان کے بیچ برسوں سے عدمِ اعتماد کی دیوار کھڑی ہے۔ اس دیوار کے سائے میں سرحد کے دونوں طرف ایک جیسی آنکھیں ہیں۔ وہی آنکھیں جو رات کو خوف سے جاگتی ہیں، وہی ہاتھ جو صبح روٹی ڈھونڈتے ہیں۔ جب کہیں گولی چلتی ہے تو وہ قومیت نہیں پوچھتی، وہ بچپن چھین لیتی ہے۔ مگر پھر بھی ہم اسے حادثہ کہتے ہیں، جیسے خون کا رنگ اتفاقی ہو۔
ایران کے خطے میں تاریخ بولتی ہے۔ وقار، خودمختاری، اور دبائو کی یادیں۔ یہاں ہر خطرہ توہین بن جاتا ہے اور ہر توہین جواب مانگتی ہے۔ جواب جب طاقت میں دیا جائے تو زبان کند ہو جاتی ہے، اور کند زبان ہمیشہ معصوم پر گرتی ہے۔ ہم کہتے ہیں یہ ردِعمل ہے: متاثرہ کہتے ہیں یہ سزا ہے۔ سزا کا کوئی قانون نہیں، بس وحشت ہوتی ہے۔
پھر عالمی منظرنامہ ہے، جہاں فیصلوں کا وزن زمین پر رہنے والوں کی ہڈیوں سے ناپا جاتا ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کو نظم و ضبط کہتا ہے، توازن کو ذمہ داری، اور طاقت کو استحکام مگر استحکام اگر قبروں پر کھڑا ہو تو وہ استحکام نہیں، خاموشی ہوتی ہے۔ اور خاموشی بھی ایک دن چیخ بن جاتی ہے۔ طاقت کے مراکز میں بیٹھے لوگ شاید بھول جاتے ہیں کہ ہر پریسیژن اسٹرائیک کے نیچے ایک گھر ہوتا ہے، جس کے کمرے ابھی تک بچوں کی قہقہوں سے بھرے ہوتے ہیں۔
اور اسرائیل۔ جہاں بقا ایک نظریہ نہیں، روزمرہ کی نفسیات ہے۔ خوف یہاں مستقل ہے، اور مستقل خوف انسان کو سخت کر دیتا ہے۔ سختی پھر انسانیت کو غیر ضروری سمجھنے لگتی ہے۔ جب ہر سایہ دشمن ہو تو ہر ہتھیار جائز لگتا ہے۔ مگر جائز لگنے سے جائز ہو نہیں جاتا۔ دفاع کے نام پر جب زندگی کی قدر ختم ہو جائے تو وحشت باقاعدہ پالیسی بن جاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کون درست ہے، سوال یہ ہے کہ کون بچا؟
ہر فریق اپنی سچائی کا اعلان کرتا ہے، مگر سچائی جب لاشوں سے گزرے تو جھوٹ بن جاتی ہے۔ ہر طرف بیانیے ہیں، مگر بیانیے کے بیچ انسان غائب ہے۔ ہم نے انسانی جان کو کولیٹرل کہہ کر فائل میں رکھ دیا ہے۔ یہ لفظ نہیں، ایک جرم ہے وہ جرم جس میں قاتل بھی صاف بچ نکلتا ہے اور مقتول بھی گنتی میں بدل جاتا ہے۔
جنگیں ہمیشہ وحشی ہوتی ہیں، مگر ان کے معمار خود کو مہذب کہتے ہیں۔ میزوں پر نقشے بچھتے ہیں، اسکرینوں پر نقطے چمکتے ہیں، اور ایک کلک سے کسی گلی کا چراغ بجھ جاتا ہے۔ وحشت اب ننگی نہیں، سوٹ پہن لیتی ہے؛ خون اب زمین پر نہیں، رپورٹس میں بہتا ہے۔ یہی سب سے خطرناک تبدیلی ہے۔ جب ظلم پیشہ ورانہ ہو جائے۔
انسانیت کا تقاضا کوئی فلسفہ نہیں، ایک سادہ سا اصول ہے
جو تکلیف تمہیں ناقابلِ برداشت لگتی ہے، وہی دوسرے کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہے۔
جو خوف تمہیں رات بھر جگاتا ہے، وہی دوسرے کو بھی سلا نہیں پاتا۔
یہ سمجھ بوجھ اگر فیصلوں میں شامل ہو جائے تو شاید بندوقیں خاموش ہو جائیں۔ مگر جب انا، مفاد اور طاقت انسانیت سے اوپر بیٹھ جائیں تو پھر وحشت کو روکنے والا کوئی نہیں رہتا۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ تاریخ ہمیں مجبور کرتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم تاریخ کو اپنے فیصلوں سے مجبور کرتے ہیں۔ ہر نسل کو ایک موقع ملتا ہے کہ وہ خون کی اس روایت کو توڑے، مگر ہم اکثر اسے سنوار دیتے ہیں۔ نئے ہتھیار، نئی اصطلاحیں، نئی دلیلیں۔ نتیجہ وہی رہتا ہے۔ قبریں نئی، درد پرانا۔
یہ کسی ایک ملک، ایک قوم یا ایک نظریے کے خلاف نہیں۔ یہ اس سوچ کے خلاف ہے جو انسان کو قابلِ صرف شے بنا دیتی ہے۔ یہ اس وحشت کے خلاف ہے جو خود کو ضرورت کہہ کر معصوموں پر اترتی ہے۔ یہ اس بے حسی کے خلاف ہے جو ہمیں یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ سب ہونا ہی تھا۔
نہیں، یہ سب ہونا ضروری نہیں تھا۔
ضروری یہ تھا کہ انسان کو مرکز میں رکھا جاتا۔
ضروری یہ تھا کہ طاقت سے پہلے ذمہ داری آتی۔
ضروری یہ تھا کہ زندگی کو فتح سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا۔
آخر میں ہم سب کو آئینہ دیکھنا ہوگا، ریاستیں بھی، رہنما بھی، اور ہم بھی اگر ہم ہر خون کو جواز دے دیں گے تو ایک دن ہمارا اپنا لہو بھی دلیل مانگے گا، اور کوئی سننے والا نہیں ہوگا۔
تب شاید پھر کوئی لکھے گا، کسی اور شہر، کسی اور زبان میں
ابنِ آدم کا خون ہے آخر۔
مگر اس وقت یہ جملہ شعر نہیں ہوگا یہ ہماری ناکامی کا کتبہ ہوگا۔





