امریکا و اسرائیل کے حملے ایران کا جوابی وار

امریکا و اسرائیل کے حملے
ایران کا جوابی وار
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ و خون کی لپیٹ میں ہے۔ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں اور جواب میں ایران کی کارروائیوں نے خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا و اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران بھر کے 31 میں سے 24 صوبے متاثر ہوئے۔ ایرانی ہلالِ احمر کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 201 افراد شہید اور 747 زخمی ہو چکے ہیں۔ بعض مقامات پر تعلیمی اور شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک حملے میں 85 طالبات کے جاں بحق اور 63 کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق تقریباً 200 لڑاکا طیاروں نے کارروائی میں حصہ لیتے ہوئے لگ بھگ 500 اہداف کو نشانہ بنایا۔ جوابی کارروائی میں ایران کی جانب سے تقریباً 75 میزائل داغے گئے، خطے میں 14 امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ سب بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے مگر پائیدار امن صرف مذاکرات، برداشت اور سفارتی حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ دُنیا کی طاقتور قوتوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہی کہ جنگوں نے انسانیت کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے لے کر حالیہ علاقائی تنازعات تک، ہر تصادم نے معیشتوں کو کھوکھلا، معاشروں کو تقسیم اور نسلوں کو نفسیاتی زخم دئیے۔ اگر موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو واضح ہے کہ اس کشیدگی کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ، بلکہ عالمی معیشت بھی اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی بندش کی دھمکی عالمی تیل کی رسد اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی، توانائی بحران اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ سکتی ہے۔ سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ میزائل حملوں اور فضائی کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں بڑی تعداد بے گناہ لوگوں کی ہوتی ہے، جن کا کسی سیاسی یا عسکری فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسرائیل و امریکا کی جانب سے اسکولوں، رہائشی علاقوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انسانی جان کی حرمت ہر حال میں مقدم ہونی چاہیے اور کوئی بھی سیاسی یا عسکری مقصد اس کی قربانی کا جواز فراہم نہیں کر سکتا۔ امریکا اور اسرائیل کا مقف ہو یا ایران کا دفاعی ردعمل، ہر فریق اپنے اقدامات کو قومی سلامتی کے تناظر میں درست قرار دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کا یہ تبادلہ خطے کو زیادہ محفوظ بنارہا ہے یا مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے؟ عسکری کارروائیاں عموماً ردعمل کو جنم دیتی ہیں اور یوں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور فوری جنگ بندی کی طرف بڑھیں۔ بین الاقوامی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ سفارتی چینلز کو فوری متحرک کیا جائے، بیک ڈور مذاکرات شروع کیے جائیں اور ایسے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں جو کشیدگی کو کم کرسکیں۔ ماضی میں بھی کئی سنگین تنازعات مذاکرات کی میز پر حل ہوئے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے اس کی مثال ہیں کہ اختلافات کے باوجود بات چیت ممکن ہے۔خطے کے ممالک کو بھی دانش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر یہ تصادم پھیلتا ہے تو اس کے اثرات خلیجی ریاستوں، عراق، شام اور دیگر ممالک تک جائیں گے۔ پہلے ہی معاشی اور سیاسی چیلنجز سے دوچار خطہ مزید عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جذبات کو بھڑکانے کے بجائے تحمل اور تدبر کی ضرورت ہے۔ قیادتوں کو چاہیے کہ وہ قوم پرستی کے جذبات سے بالاتر ہو کر وسیع تر انسانی مفاد کو مدنظر رکھیں۔ میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اشتعال انگیز بیانات اور غیر مصدقہ خبروں کی تشہیر حالات کو مزید خراب کرسکتی ہے۔ ذمے دار صحافت وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام تک متوازن اور درست معلومات پہنچ سکیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں افواہیں تیزی سے پھیلتی ہیں، اس لیے ریاستی اداروں اور میڈیا کو مل کر شفاف معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے بھی یہ لمحہ فکر ہے۔ ہمیں جذباتی نعروں کے بجائے امن اور سفارت کاری کی حمایت کرنی چاہیے۔ اسلامی تعلیمات بھی امن، برداشت اور جان کے احترام کا درس دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں صلح کو بہتر قرار دیا گیا ہے اور یہی اصول عالمی سیاست میں بھی اپنایا جانا چاہیے۔ موجودہ بحران اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ طاقت کے توازن پر مبنی حکمت عملی ہمیشہ غیر مستحکم رہتی ہے۔ اصل استحکام باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور علاقائی مکالمے سے آتا ہے۔ اگر فریقین اپنے اختلافات کو میز پر لاکر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں تو نہ صرف جنگ ٹل سکتی ہے بلکہ خطہ ترقی اور استحکام کی نئی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ تباہ شدہ شہر، بکھرے خاندان اور عدم اعتماد کی گہری خلیج کسی بھی فتح کو بے معنی بنا دیتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بندوقوں کی گھن گرج کو خاموش کر کے مکالمے کی آواز بلند کی جائے۔ طاقت کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے برداشت اور جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دی جائے۔ یہی راستہ انسانیت، خطے اور دنیا کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی
پاکستان نے سری لنکا کے خلاف پانچ رنز سے کامیابی تو حاصل کرلی، مگر سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کرسکنا قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہدف کا دفاع کرتے ہوئے گرین شرٹس سری لنکا کو 147 رنز تک محدود نہ کر سکے، حالانکہ سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے یہی شرط فیصلہ کن تھی۔ یہ حقیقت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ٹیم وقتی فتح کے باوجود اس تسلسل اور حکمت عملی سے محروم رہی جو بڑی ٹیموں کی پہچان ہوتی ہے۔ بیٹنگ کے شعبے میں فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان نے 176رنز کی شاندار شراکت قائم کر کے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ فرحان کی سنچری اور فخر کی جارحانہ اننگز قابلِ تحسین تھیں، مگر مڈل آرڈر کی ناکامی نے ایک بار پھر ٹیم کی کمزوری عیاں کردی۔ بڑے ٹورنامنٹس میں صرف دو کھلاڑیوں کی کارکردگی پر انحصار خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ دیگر بلے بازوں کا خاطر خواہ کردار ادا نہ کرنا ٹیم کے توازن پر سوال اٹھاتا ہے۔ بولنگ میں بھی عدم تسلسل واضح دکھائی دیا۔ ابرار احمد نے ذمیدارانہ بالنگ کی، لیکن دیگر بائولرز مہنگے ثابت ہوئے۔ آخری اوورز میں رنز روکنے میں ناکامی اور دبا کے لمحات میں حکمت عملی کا فقدان اس بات کی علامت ہے کہ ٹیم بطور یونٹ مکمل ہم آہنگی سے محروم ہے۔ ایک مضبوط اور فائٹر ٹیم وہ ہوتی ہے جو نہ صرف بڑے اسکور بنائے بلکہ مشکل حالات میں حریف کو جکڑ کر رکھ سکے۔گزشتہ کچھ عرصے سے قومی ٹیم کی کارکردگی میں تنزلی کا رجحان نظر آرہا ہے۔ کبھی بیٹنگ ناکام ہوتی ہے تو کبھی بولنگ، اور کبھی فیلڈنگ بنیادی غلطیوں کا سبب بنتی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں روایتی حریف بھارت سے مقابلہ کیے بغیر قومی ٹیم نے ہتھیار ڈال دئیے۔ انگلینڈ سے شکست ہوئی۔ یہ مسائل محض انفرادی کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ نظامی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سلیکشن کے عمل میں شفافیت، میرٹ کی پاسداری اور ڈومیسٹک کرکٹ سے باصلاحیت کھلاڑیوں کو مواقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میرٹ پر مستقل مزاج اور فٹ کھلاڑیوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ مزید برآں کوچنگ اسٹاف، فٹنس معیار اور ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ عالمی کرکٹ تیزی سے بدل رہی ہے، جہاں صرف ٹیلنٹ کافی نہیں بلکہ ذہنی مضبوطی، پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور جارحانہ سوچ بھی لازمی ہے۔ پاکستان کو ایسی فائٹر ٹیم تشکیل دینا ہوگی جو دبا میں بکھرنے کے بجائے نکھر کر سامنے آئے۔ وقت آ گیا ہے کہ محض وقتی کامیابیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے طویل المدتی اصلاحات کی جائیں۔ اگر میرٹ، احتساب اور پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جائے تو قومی ٹیم دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتی ہے۔ بصورت دیگر معمولی فتوحات کے باوجود بڑے اہداف ہاتھ سے نکلتے رہیں گے۔





