Column

ایران پر حملے کیلئے بہانے کی تلاش

ایران پر حملے کیلئے بہانے کی تلاش
صورتحال
سیدہ عنبرین
عالمی سطح کی خفیہ ایجنسیوں کی ذمہ داریاں صرف اپنے ملک کی حفاظت اور دشمن ممالک کو زک پہنچانے تک نہیں ہوتیں، انہیں مختلف الجہت فرائض انجام دینا پڑتے ہیں، ان کے فرائض منصبی میں سربراہ مملکت اور حساس عہدوں پر متمکن شخصیات کے حصول اہداف کیلئے راہیں ہموار کرنا ترجیح ہوتی ہے، جس کیلئے انہیں چیتے کی طرح چوکنا، مگر مچھ کی طرح سفاک اور شطرنج کے کھلاڑی کی طرح آئندہ چلی جانے والی کم از کم ایک سو چالوں کی منصوبہ بندی ہر وقت تیار رکھنا پڑتی ہے۔ وہ ایک منصوبہ ناکام ہونے کے بعد ناکامی کے اثرات کم کرنے کیلئے فوراً ہی دوسرا منصوبہ مارکیٹ میں پھینک دیتے ہیں اور جنہیں اس میں الجھانا ہو انہیں با آسانی الجھا لیتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کی طرف سے ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف کے خلاف فیصلہ آنے سے ان کی مقبولیت کو شدید جھٹکا لگا۔ اسے زلزلے سے تعبیر کرنا زیادہ مناسب ہو گا۔ اس شکست سے توجہ اسی وقت ہٹائی جا سکتی تھی جب ملک میں اس سے بڑا کوئی واقعہ رونما ہو اور واقعہ بھی ایسا جس میں امریکی صدر کو کچھ ہمدردی حاصل ہو سکے، پس منصوبوں کی پٹاری میں سے ’’ امریکی صدر پر قاتلانہ حملہ منصوبہ‘‘ نکالا گیا، یہ منصوبہ اس قدر احمقانہ انداز میں پیش کیا گیا کہ اس سے ہمدردیاں حاصل ہونے کی بجائے مزید مذاق بن گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ دوسرا قاتلانہ حملہ منصوبہ ہے، جس میں وہ موت کے منہ میں جانے سے محفوظ رہے ہیں، ان پر پہلے حملے میں ایک نوجوان نے ایک مکان کی چھت پر لیٹ کر اس وقت گولی چلائی جب وہ اپنی الیکشن مہم کے سلسلے میں ایک کھلی جگہ خطاب کر رہے تھے، گولی چلانے والا نوجوان کھلے آسمان تلے یوں لیٹا تھا جیسے کسی درخت کی ٹہنی پر بیٹھی فاختہ کا شکار کرنے آیا ہے، اس نے گولی چلائی، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے کان کو چومتی ہوئی چلی گئی، گولی چلانے والے نوجوان کو بعد ازاں گرفتار کر کے سزا سنا دی گئی۔ اس نوجوان کو دی گئی سزا کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اسے اقدام قتل پر سزا نہیں سنائی گئی، بلکہ اسے حماقت کی سزا ملی ہے۔ اسے بتایا گیا تھا کہ گولی جناب ٹرمپ کو ٹھاہ کر کے نہ جا لگے، بلکہ ان کے کان سے دو فٹ دور کے فاصلے سے نکل جائے۔ گولی چلانے والا اناڑی تھا، اپنے اناڑی پن میں وہ فاصلہ برقرار نہ رکھ سکا، لیکن اس ڈرامے سے مقصد حاصل ہو گیا۔ ٹرمپ کو ہمدردی کا ووٹ حاصل ہو گیا، وہ امریکہ کے دوسری مرتبہ صدر تو منتخب ہو گئے لیکن ان سے وابستہ توقعات پوری نہ ہو سکیں، پھر انہوں نے پے در پے ایسے فیصلے کئے، جن سے ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے زمین بوس ہونے لگا۔
کسی بھی ملک کے طاقتور ترین صدر کو قتل کرنے کا ارادہ لے کر آنے والا اس قدر احمق ہو سکتا ہے جتنا آسٹن ٹی مارٹن تھا، جیسے امریکی کہانی کے مطابق اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی نیت سے ان کی فلوریڈا میں کئی ایکڑ میں پھیلی رہائش گاہ میں داخل ہو چکا تھا، اسے ’’ آن دی سپاٹ‘‘ ہلاک کرنے کے علاوہ شاید اور کوئی چارہ نہ تھا، اس سے بھید کھل جانے کا امکان تھا۔ آسٹن ٹی مارٹن کو زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے، قاتل اس قدر احمق تھا کہ اسے معلوم ہی نہ تھا کہ اس کا ہدف تو اس وقت واشنگٹن میں ہے۔
امریکی صدر کی فلوریڈا میں یہ رہائش گاہ وسیع و عریض رقبے میں پھیلی ہوئی ہے، جہاں ایک عالیشان محل نما عمارت کے علاوہ گالف کورس، متعدد سوئمنگ پول اور موج میلے کے درجنوں انتظامات ہیں، جن میں وسیع بار، ڈانسنگ فلور قابل ذکر ہیں، یہ رہائشگاہ مارے اے لاگو کے نام سے جانی جاتی ہے، یہاں دنیا کی اہم شخصیات مہمان بنتی رہتی ہیں۔ اسے ایک پرتعش کلب کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، جہاں ایک وقت میں متعدد معزز مہمانوں کے ہیلی کاپٹر اتر سکتے ہیں، عام حالات میں یہاں آنے والے مہمانوں کی آمد کو خفیہ رکھنے اور ان کی حفاظت کیلئے تین سطح کی سکیورٹی موجود ہوتی ہے، یہاں پرندہ پَر نہیں مار سکتا، کوئی اجنبی پرندہ پَر مارنے کی کوششیں کرے تو مارا جاتا ہے، لہٰذا پرندے ادھر کا رخ نہیں کرتے، چہ جائیکہ کوئی شخص ہاتھوں میں شاٹ گن اور فیول کین اٹھائے مٹر گشت سٹائل میں اس عمارت کے اندر گھس آئے، وہ سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ بھی کرے اور پھر ان کے کہنے پر فیول کین زمین پر رکھ دے لیکن گن ہاتھ سے نہ چھوڑے! کہانی میں احتیاط بس اس درجہ برتی گئی ہے کہ اگر وہ اپنی گن بھی زمین پر رکھ دیتا تو پھر اس پر گولی چلانے کا جواز ختم ہو جاتا، لیکن نظریہ ضرورت کے مطابق اسے زندہ پکڑنے کی بجائے مردہ پکڑنا ضروری تھا، لہٰذا اسے سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ احمق آسٹن ٹی مارٹن اپنے ساتھ فیول کین کیوں لے کر آیا، اسے فیول کی کیا ضرورت تھی، اس کے پاس گولیوں کا بھرا بیگ ہونا چاہئے تھا، ناکامی کی صورت میں اس کے پاس اپنے آپ کو گولی مار لینے کا آپشن موجود تھا، کیا وہ جل کر مرنا چاہتا تھا یا کسی سکیورٹی اہلکار پر تیل پھینک کر اسے جلا کر مارنا چاہتا تھا۔ وہ احمق تو ثابت ہو چکا ہے، لیکن وہ یقیناً اتنا احمق نہیں تھا کہ اس نے سوچ رکھا ہو کہ وہ ٹرمپ کی رہائش گاہ میں داخل ہو گا، پھر جب امریکی صدر اپنی خواب گاہ میں بغرض استراحت آئیں گے تو ان کے بیڈ کے نیچے سے نکل کر ان پر پہلے تیل چھڑکے گا، پھر انہیں آگ لگا دے گا اور موقع پر فرار ہو کر صبح کے اخبار مارکیٹ میں آنے کا انتظار کرے گا یا ٹی وی لگا کر بیٹھ جائے گا اور اس بریکنگ نیوز کا انتظار کرے گا جس میں بتایا جائے گا کہ امریکی صدر اپنی رہائش گاہ میں لگنے والی آگ میں جھلس کر ہلاک ہو گئے ہیں، یہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، کیونکہ ان کی یہ رہائش قریباً ڈیڑھ سو سال قبل تعمیر کی گئی تھی، جسے انہوں نے کچھ عرصہ قبل کئی ارب ڈالر میں خریدا تھا اور خصوصی گپ شپ کیلئے مخصوص کر دیا تھا۔
اقدام قتل ڈرامہ تو فیل ہو گیا، لیکن ابھی دیکھنا ہے اپنے گھر سے گزشتہ دس روز سے غائب آسٹن ٹی مارٹن کا تعلق ایران کے رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای سے جوڑا جاتا ہے۔ صدر، وزیراعظم افغانستان سے یا پھر اس کا شجرہ نصب بگرام کے کسی اہم رہائشی سے جا ملتا ہے۔ ٹرمپ ایران اور بگرام پر حملے کیلئے ایک بہانے کی تلاش میں سرگرداں ہے، جو اسے نہیں مل رہا۔

جواب دیں

Back to top button