Column

  جناب وزیر اعظم ،معیشت پہلا ہدف ہونا چاہیے …. ضمیر آفاقی

ضمیر آفاقی

یہ کہنابے جا نہ ہو گا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالہ دور حکومت خارجہ اور داخلہ محاذ میں بری طرح کی ناکامیوں کی تاریخ رکھتا ہے،  بلکہ عوام کی اکثریت انتہائی توہین آمیز سلوک سے گزری ہے، مہنگائی کے کوڑے نے ہر فرد کی روح تک زخمی کر دی ہے اس کے ساتھ ہم معاشی اشاریوں میں بھی کوئی قابل قدر کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ خان کی ٹیم جو، اب سچ بول رہی ہے، ماضی میں جھوٹ کے سہارے زندہ تھی، گو کہ اب وہ ماضی ہے لیکن اس ماضی نے ہمیں کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے ،میاں شہباز شریف اب وزیر اعظم ہیں لیکن ان کے لیے چیلنجز بہت بھی ہیں اور سخت بھی لیکن امید کرتے ہیں وہ اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کے استعمال سے ملک کو بحرانوں خصوصاً معاشی بحران سے نکال لیں گے۔ گزشتہ کافی عرصے سے پاکستان کئی طرح کی مسائل میں الجھا ہوا ہے جن میں سر فہرست بد امنی ، دہشت گردی، مذہبی و سیاسی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور لاقانونیت جیسے مسائل سر فہرست ہیں ۔ شہباز حکومت کو ان تمام مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر معاشی میدان کو اپنا پہلا ہدف بنانا ہو گا۔ کیونکہ ریاست جس کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قوم کو ہلاک کردینے والی اس طرح کی بیماریوں کے پیدا ہونے سے پہلے ، ان کی روک تھام کا سد باب کرے ۔یہاں بھی جب ہم اپنے گریبان میں(بہ امر مجبوری) جھانکتے ہیں تو ان بیماریوں کے پھیلائو میں اپنا ہی ہاتھ نظر آتا ہے، جس کاا عتراف کرنا بھی ہم گوارہ نہیں کرتے اور یوں ہم حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کے جرم کے مرتکب بار بار ہو رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ بن کر رہ گئے ہیں جو مختلف النوع بیماریوں کا شکار ہے اور جس کا کوئی حصہ بھی تندرست نہیں ۔ ہم قومی امراض کی تشخیص میں بھی ڈنڈی مارنے سے باز نہیں آتے ،جبکہ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں غلط تشخیص کی بنا پر ہی ہوتی ہیں۔

اب یہی دیکھئے اس طرح کی بیماریوں میں جکڑے معاشرے میں کوئی رہنا اور سرمایہ کاری کرناکیوں پسند کرے گا، یہی وجہ ہے کہ یہاں سے لوگ اپنے سرمائے کے ساتھ بھاگ رہے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کار یہاں آکر سرمایہ کاری کریں خواب سا بن کر رہ گیا ہے۔ چائنہ کو استثنیٰ دیا جاسکتا ہے کہ اس کی ’’دوستی حکومتی بیانیے کے مطابق ہمالے سے زیادہ مضبوط اورسات سمندروں سے گہری ہے‘‘۔حکومت دنیا بھر خصوصاً عرب ممالک اور چین سے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتی ہے، لیکن اسے ملکی مایوس کن صورت حال میں سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔گزشتہ برسوں غیرملکی سرمایہ کاری میں 26 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔غیرملکی سرمایہ کاری کے حجم کا اگر ہندوستان، چین اور بنگلہ دیش جیسے علاقائی ملکوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ قریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان میں محض چندملین ڈالرز کی براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی سرمایہ کار اس ملک کو سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں ۔ شہباز حکومت کو ، ملک میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے کے لیے کوئی اچھوتا فارمولہ پیش کرنا ہو گا کیونکہ بیرونی سرمایہ کار ہماری پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران دوست ممالک مثلاً سعودی عرب اور چین کی جانب سے کی جانے والی غیرملکی سرمایہ کاری منفی رہی۔
ملکی حالات کے پیش نظریہاں سے سرمایہ کوچ کر رہا ہے، وہیں پاکستان سے ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ہمارے ماضی کے حکمرانوں کے نزدیک ’’خس کم جہاں پاک‘‘ کے مترادف افرادی سرمائے کی ہجرت کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ ’’زر مبادلہ‘‘ میں اضافے کا باعث سمجھ کر اسے ملک کے لیے باعث برکت قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے حالات ، مذہبی انتہا پسندوں اور اب تو ایک سیاسی جماعت بھی انتہا پسندی کی ڈگر پر چل نکلی ہے کا ڈر امن و امان کی ابتر صورت حال کے پیش نظر ’’ہجرت ‘‘ کرنے والے کوئی غریب غربا نہیں ہیں ان میں ایسے صاحب زر بھی (جن کے کاروبار کی بدولت بے روزگاری میں کمی اور ملکی معیشت میں بہتری رہی ہے) ہجرت کرتے جارہے ہیں۔ہجرت کے رجحان کو روکنے میں ماضی میںحکومتی دلچسپی نہ ہونے کے برابر
تھی، اور ارادتاً یا غیرارادی طور پر ان عوامل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہیں ، جو زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو ہرسال ملک چھوڑنے پر مجبور کررہے ہیں۔ مختلف رپورٹس اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بیرون ملک پناہ حاصل کرنے کے خواہشمند زیادہ تر سیاسی طور پر ظلم و ستم کا نشانہ بنائے جانے اور شہری حقوق و آزادیوں سے محروم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔حال ہی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا عالمی رجحان کی روشنی میں ایک تحقیق میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تحقیق اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کی جانب سے کی گئی تھی کہ گزشتہ برسوں صنعتی ملکوں میں بیرون ملک پناہ کی کوششیں کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد کے لحاظ سے شام، عراق، افغانستان، سربیا اور اریٹیریا کے بعد پاکستان چھٹا بڑا ملک تھااور یہ کوئی رشک کے قابل مقام نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں لگ بھگ چھبیس ہزارسے زائدپاکستانیوں نے بیرون ملک پناہ کے لیے درخواستیں دی تھیں، اور یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔جبکہ قبل ازیں پچیس ہزار دو سو درخواستیں دی گئی تھیں، چنانچہ اس تعداد میں ایک سال کے دوران چار فیصد تک کا اضافہ ہوا۔بیرون ممالک ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہونے والے المناک المیوں کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں کہ فلاں ملک کی سرحد پار کرتے ہوئے اتنے افراد بارڈر فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گئے یا کشتی ڈوبنے سے ہونے والی ہلاکتوں نے توکچھ عرصہ پیشتر دل دہلا دیے تھے۔جس پر کچھ دن ملکی میڈیا میں لے دے ہوتی رہی پھر قبرستان جیسی خاموشی۔ حکومت کو سچ کا سامنا کرنے میں ہچکچاہٹ کی بجائے ان اسباب کو ختم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے جس کی بنا پر یہاں سے سرمایہ اور سرمائے سے بھی زیادہ قیمتی لوگ ہجرت پر مجبور ہورہے ہیں جن کے گھربار اور بچے یہاںمحفوظ نہیں ہیں۔
اب شہباز حکومت سے پاکستانیوں کی بہت امیدیں وابستہ ہیں ان کی امیدوں کو پورا کرنا اور انہیں پاکستان کے اندر روزگار کے مواقع مہیا کرنا شہباز حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہو گا جبکہ سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنے کے لیے ملکی پالیسیوں میں تبدیلی کے ساتھ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ امن و امان کے مسئلے کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی سیاحت کی صنعت پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم صرف سیاحت کے شعبے کو ہی بہتر کر لیں اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے بہتر ماحول پیدا کر سکیں تو ہمیں کمر توڑتے قرضوں سے نجات مل سکتی ہے ، سیاحت ہماری معاشی صورت حال کو بہتر کرنے میں کس طرح معاون ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button