جب ووٹ کا دروازہ بند ہو تو سڑک کھل جاتی ہے

جب ووٹ کا دروازہ بند ہو تو سڑک کھل جاتی ہے
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
لندن ہو یا لاس اینجلس، برلن ہو یا واشنگٹن، کسی بڑے شہر کی سڑک پر نعرے لگاتا ہجوم دیکھ کر ہم عموماً ایک ہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ مقامی سیاست کا جھگڑا ہے۔ کوئی حکومت سے ناراض ہے، کوئی مہنگائی سے تنگ ہے، کسی کو کوئی پالیسی پسند نہیں آئی۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس ہجوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو کاغذ پر اس ملک کے شہری ہی نہیں؟ جن کے پاس ووٹ کا حق نہیں، بعض کے پاس رہائش کی قانونی اجازت بھی نہیں، اور جنہیں ہر صبح یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں دروازے پر دستک نہ ہو جائے۔ ایسے لوگوں سے تو ہم یہی توقع رکھتے ہیں کہ سر جھکا کر کام کریں گے اور سائے میں رہیں گے۔ پھر وہ سڑک پر کیوں آتے ہیں؟ جواب اتنا پیچیدہ نہیں۔ جس کی بات ایوان میں کوئی نہ سنے، وہ چوراہے پر بولتا ہے۔
تارکینِ وطن کا احتجاج اکثر ان کی طاقت کا نہیں، ان پر بند دروازوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جہاں انتخابی راستے تنگ ہوں، وہاں سیاسی آواز دوسرے راستے ڈھونڈ لیتی ہے۔ مگر یہ آدھی کہانی ہے۔ دوسری آدھی یہ ہے کہ یہی سڑک مخالف ردعمل کو بھی جنم دیتی ہے، اور وہ ردعمل کبھی کبھی خونریز ہو جاتا ہے۔ ان دونوں سچائیوں کو ساتھ رکھ کر ہی دیکھا جا سکتا ہے کہ مغرب اپنے جمہوری دعووں پر کتنا پورا اترتا ہے۔
عام خیال یہ ہے کہ قانونی کاغذات سے محروم لوگ خوف کے مارے سیاست سے دور رہتے ہیں۔ بات منطقی لگتی ہے، مگر شواہد اتنے سیدھے نہیں۔ امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹر نے 2010ء میں لاطینی نژاد باشندوں کا سروے کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تارکینِ وطن جو نہ شہری تھے اور نہ قانونی رہائشی، ان میں تقریباً ہر چار میں سے ایک (24فیصد) نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں وہ کسی احتجاج یا مظاہرے میں شریک ہوا۔ قانونی رہائشی تارکینِ وطن میں یہ شرح 20فیصد تھی۔ پیو کے مطابق لاطینی برادری میں شہریت نہ رکھنے والے غیر ملکی نژاد افراد ہی سب سے زیادہ احتجاج کرنے والے نکلے۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر غیر قانونی تارکِ وطن سڑک پر ہوتا ہے۔ نتیجہ بس اتنا ہے کہ خوف نے ان کی زبان پر مکمل تالا نہیں ڈالا۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے 2006میں ایک ایسا بل منظور کیا جس میں سرحدی نگرانی سخت کرنے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کو فوجداری مقدمات کے دائرے میں لانے کی بات تھی۔ پیو کے مطابق مارچ کے وسط سے یکم مئی تک درجنوں شہروں میں مارچ ہوئے، اور منتظمین میں تارکینِ وطن کے حقوق کے کارکنوں کے ساتھ گرجا گھر اور مزدور تنظیمیں بھی شامل تھیں۔ یکم مئی کو ’’ ڈے ودائوٹ امیگرنٹس‘‘ کے نام سے کام اور خریداری کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔ اس بائیکاٹ نے معیشت پر کتنا اثر ڈالا، اس پر اندازے مختلف ہیں، اس لیے کوئی بڑا دعویٰ مناسب نہیں۔ البتہ پیغام صاف تھا کہ جنہیں آپ نہیں گنتے، وہ آپ کے کھیتوں، ہوٹلوں اور تعمیراتی منصوبوں میں موجود ہیں۔ اس پیغام کو مقامی لوگوں کا ساتھ بھی ملا، اور یہ بات اس تحریک کو محض ’’ غیر ملکیوں کا شور‘‘ کہنے سے روکتی ہے۔
زینپ مینتیسولو تاردیوو کی 2025میں ’’ سوشل سائنس کوارٹرلی‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق نے یورپین سوشل سروے کے اعداد و شمار کی مدد سے ویانا، برسلز، برلن اور ایمسٹرڈیم کا جائزہ لیا۔ محقق کا اپنا مفروضہ یہ تھا کہ جہاں غیر شہریوں کو مقامی ووٹ کا حق ملتا ہے، وہاں وہ زیادہ احتجاج کرتے ہوں گے۔ نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ مقامی ووٹ کا حق احتجاج کی کم شرح سے جڑا ہوا ملا، اور یہ اثر یورپی یونین کے دوسرے ممالک سے آئے غیر شہریوں میں سب سے نمایاں تھا۔ مصنفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حقوق شاید دبا کو ٹھنڈا کر دیتے ہیں، اور احتجاج وہاں پھلتا پھولتا ہے جہاں حق دینے سے انکار کیا جائے۔ یہ بھی دیکھیے کہ اسی تحقیق کے مطابق جن شہروں میں تارکینِ وطن کے بارے میں عوامی رائے نرم ہے، وہاں بھی احتجاج زیادہ ہے۔ یعنی ہمدردی اور احتجاج ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ پھر بھی یہ باہمی تعلق ہے، سبب اور نتیجے کا ثبوت نہیں، اور دائرہ چار شہروں تک ہے۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، اٹلی کے قصبے روزارنو کو لیجیے۔ جنوری2010ء میں وہاں سنگتروں کے کھیتوں میں کام کرنے والے افریقی مزدوروں پر ہوائی بندوق سے فائرنگ ہوئی۔ مزدوروں نے قصبے میں مارچ کیا اور توڑ پھوڑ بھی کی۔ اس کے بعد دو راتوں تک مقامی لوگوں نے ان پر حملے کیے، کسی کو لوہے کی سلاخوں سے مارا گیا اور کسی پر گولی چلی۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق گیارہ افریقی مزدور شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچے۔ پولیس نے سینکڑوں مزدوروں کو بسوں میں بھر کر قصبے سے نکال دیا، اور ایک ماہ بعد تک تین افراد ہی گرفتار ہوئے تھے۔ تنظیم نے یہ شکوہ بھی کیا کہ حکومتی ردعمل متاثرین سے زیادہ غیر قانونی امیگریشن پر مرکوز رہا۔ یاد رہے کہ یہ آج کی خبر نہیں، سولہ برس پرانا واقعہ ہے، مگر اس کا سبق پرانا نہیں ہوا۔ 2024ء کے موسمِ گرما میں برطانیہ میں بھی امیگریشن مخالف مظاہرے ان حملوں تک پہنچے جن کا نشانہ مساجد اور پناہ کے متلاشیوں کو ٹھہرانے والے ہوٹل بنے، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔ امیگریشن پر سوال اٹھانے والا ہر شخص انتہا پسند نہیں ہوتا۔ سرحدوں، روزگار اور وسائل پر بحث جمہوریت میں جائز ہے۔ یورپ کے چھبیس ممالک میں سولہ ہزار سے زائد افراد کے ایک سروے ( مائیکل اور بلاٹر، 2020) میں کسی ملک میں بھی مقامی آبادی کی اکثریت تارکینِ وطن کو ووٹ کا حق دینے کے حق میں نہیں نکلی۔ یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ ووٹ شہریت کے ساتھ بندھا ہے، وہ تنہا نہیں۔ اصل جھگڑا اس بحث کا نہیں، اس کے طریقے کا ہے۔
میری ناقص رائے میں راستہ تین چیزوں سے گزرتا ہے۔ پہلی یہ کہ برسوں سے کام کرنے والوں کے لیے قانونی حیثیت کا کوئی واضح راستہ ہو، تاکہ کوئی شخص برسوں ’’ غیر موجود‘‘ رہ کر معیشت کا بوجھ نہ اٹھائے۔ دوسری یہ کہ کام کی جگہوں پر استحصال کے خلاف ایسا تحفظ ہو جس کے لیے کسی کو سڑک پر آنا ہی نہ پڑے۔ تیسری یہ کہ قانون ہر اس شخص پر یکساں لاگو ہو جو تشدد کرے، چاہے وہ مظاہرے کا حصہ ہو یا اس کے خلاف۔ روزارنو کے تین گرفتار افراد اس کی مثال نہیں، اس کی کمی کی مثال ہیں۔ یہ بحث ہمارے لیے دور کی بات نہیں۔ ہمارے اپنے شہروں میں، کراچی ہی میں، ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو برسوں سے یہاں رہتے اور کام کرتے ہیں مگر کاغذ پر ان کا وجود مشکوک ہے۔ اور ہمارے بہت سے ہم وطن مغرب میں انہی قوانین کے سائے میں رہتے ہیں جن پر ہم تنقید کرتے ہیں۔ جو معیار ہم دوسروں کے لیے مانگتے ہیں، وہی اپنے لیے بھی لازم ہے۔ سڑک بیلٹ باکس کا نعم البدل نہیں، مگر جب بیلٹ باکس کا دروازہ بند ہو تو دستک سنے جانے کی واحد جگہ سڑک ہی رہ جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ سڑک پر کیوں آئے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے انہیں کوئی اور جگہ کیوں نہ دی۔





