صدر لاہور چیمبر کی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو سے ملاقات

صدر لاہور چیمبر کی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو سے ملاقات
ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ریونیو بڑھانے کے لیے کاروبار دوست ٹیکس اصلاحات ناگزیر ہیں: علی حسام اصغر
لاہور، 22 اکتوبر۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی حسام اصغر نے کہا ہے کہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے سے مزید افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بڑھانے اور قومی محصولات میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔ چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، ریجنل ٹیکس آفس لاہور فضابتول سے ملاقات کے دوران علی حسام اصغر نے ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل، تاجروں کو سہولیات کی فراہمی اور ٹیکس حکام و کاروباری برادری کے درمیان رابطوں کو موثر بنانے کے لیے متعدد قابلِ عمل تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ، شفاف اور کاروبار دوست ٹیکس نظام ٹیکس بیس کو وسعت دینے، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی کرنے اور قومی ریونیو میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔علی حسام اصغر نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ کاروباروں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے سہولت کاری، آگاہی اور آسان طریقہ کار کو ترجیح دی جانی چاہیے، بجائے اس کے کہ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود تاجروں کے لیے مشکلات پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ واضح رہنمائی، آسان ٹیکس خدمات اور مستحکم ٹیکس پالیسیوں کی فراہمی سے کاروباری اداروں کو اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے اور دستاویزی معیشت کا حصہ بننے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا پاکستان کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بہتری لانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وسیع ٹیکس بیس، بہترین انتظامی اقدامات اور پالیسیوں کے منصفانہ نفاذ اور تاجر برادری کا عزت و احترام یقینی بناکر قومی محصولات میں اضافہ اور پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود افراد پر بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔ صدر لاہور چیمبر نے خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے ٹیکس رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور دستاویزات سے متعلق تقاضوں کو آسان بنانے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ طریقہ کار چھوٹے کاروباروں کا قیمتی وقت اور وسائل ضائع کرتا ہے جس سے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد مشکل ہو جاتا ہے۔ آسان طریقہ کار اور قابلِ رسائی رہنمائی سے چھوٹے کاروباروں کو باضابطہ ٹیکس نظام میں شامل ہونے میں مدد ملے گی۔انہوں نے ٹیکس نظام میں ڈیجیٹل سہولتوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا اور کہا کہ صارف دوست آن لائن نظام، مو¿ثر ای فائلنگ، درخواستوں پر بروقت کارروائی اور تکنیکی مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔ ان اقدامات سے ٹیکس دفاتر کے بار بار چکر لگانے، کاغذی کارروائی اور غیر ضروری تاخیر میں کمی لائی جا سکتی ہے، جس سے تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے ٹیکس قوانین پر عمل کرنا آسان ہوگا۔انہوں نے ریجنل ٹیکس آفس لاہور اور لاہور چیمبر کے درمیان باقاعدہ مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ کاروباری برادری کو درپیش مسائل کی نشاندہی، مشکلات پر تبادلہ? خیال اور قابلِ عمل حل تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس حکام اور ٹیکس دہندگان کے درمیان مو¿ثر رابطوں سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور پالیسیوں پر عمل درآمد کے دوران کاروباری شعبے کو درپیش عملی مشکلات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔صدر لاہور چیمبر نے شفاف اور منصفانہ ٹیکس انتظامیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں واضح معلومات، شکایات کے ازالے کے مو¿ثر طریقہ کار اور قانون کے تحت یکساں سلوک فراہم کیا جانا چاہیے۔ حقیقی شکایات اور تنازعات کو بروقت حل کرنے سے ٹیکس نظام پر اعتماد بڑھے گا اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی ہوگی۔انہوں نے لاہور چیمبر کے تعاون سے ٹیکس آگاہی پروگرامز منعقد کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ تربیتی ورکشاپس، آگاہی سیشنز اور آسان معلوماتی مواد کے ذریعے کاروباری برادری کو ٹیکس رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور قانونی ذمہ داریوں سے متعلق بہتر رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے۔چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، آر ٹی او لاہور فضا بتول نے صدر لاہور چیمبر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو سراہا۔ علی حسام اصغر نے امید ظاہر کی کہ مسلسل مشاورت اور مشترکہ کوششوں سے ٹیکس نظام کو مزید شفاف، مو¿ثر اور کاروبار دوست بنانے میں مدد ملے گی، جس سے قومی محصولات میں اضافے اور پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔
منسلک تصویر کا کیپشن
صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو آر ٹی او لاہور فضا بتول کو یادگاری شیلڈ پیش کررہے ہیں۔







