
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ چار جہاز شمالی خلیج فارس کے وسطی علاقے میں تیل کی منتقلی کے دوران نشانہ بنائے گئے اور ان میں آگ لگ گئی۔
فورسز کی بحریہ نے ایک بیان میں ان چاروں جہازوں کو ’خلاف ورزی کرنے والے‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’غیر قانونی راستوں‘ سے گزر رہے تھے۔
ایران اُس بحری راستے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے جو عمان نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے مقرر کیا ہے اور جس کے بارے میں امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس کی سلامتی یقینی بناتا ہے۔
سپاہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گذشتہ رات تین دیگر ’خلاف ورزی کرنے والے‘ جہاز مغربی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں انھیں حادثہ پیش آیا اور ان میں آگ لگ گئی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فوج کی جانب سے جہازوں کو ’بارودی سرنگوں سے آلودہ غیر قانونی راستوں‘ سے گزرنے پر اصرار سمندری حادثات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
ایرانی بحریہ نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ’اشتعال انگیز اقدامات‘ جاری رہے تو خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف زیادہ وسیع ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے باوجود تجارتی انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں سے گریز کرتے ہوئے متبادل راستے استعمال کر رہی ہیں، کیونکہ جنگ کے دوران ان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا







