زخم جو سرحد نہیں دیکھتے

زخم جو سرحد نہیں دیکھتے
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
کبھی کبھی ایک ریاست اپنے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے نام پر اتنی آگ جمع کر لیتی ہے کہ آخرکار وہی آگ اس کے اپنے گھروں کی دہلیز تک پہنچ جاتی ہے۔ اسرائیل میں 7اکتوبر 2023ء کے بعد جو کچھ ہوا، اسے صرف سکیورٹی بحران کہنا حقیقت سے فرار ہوگا۔ یہ ایک گہرا نفسیاتی انہدام بھی ہے، ایسا انہدام جس نے اسرائیلی معاشرے کے اس دعوے کو ہلا دیا کہ طاقت، نگرانی، عسکری برتری اور آہنی دیواریں انسان کے اندر کے خوف کو شکست دے سکتی ہیں۔ راکٹوں، سائرنوں، پناہ گاہوں اور لاشوں کے درمیان صرف جغرافیہ نہیں ٹوٹتا، انسان کے اندر کا توازن بھی بکھر جاتا ہے۔ اسرائیل آج اسی بکھرا کے بیچ کھڑا ہے۔ مگر اس سانحے کو سمجھنے کے لیے صرف اسرائیلی شہری کے آنسو دیکھنا کافی نہیں، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک قابض ریاست کی مسلسل جنگی پالیسی، اس کی اجتماعی نفسیات کو کس طرح اپنے ہی خلاف موڑ دیتی ہے۔
وہ نظام جس نے فلسطینیوں پر مسلسل جبر کو معمول بنایا، وہی آج اسرائیلی معاشرے کو بھی نفسیاتی طور پر کھوکھلا کر رہا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو بچوں کو دشمن اور بمباری کو علاج سمجھنے لگے، وہ آخرکار اپنے ہی لوگوں کے اعصاب، خواب اور ذہنی سکون کو بھی سلامت نہیں رکھ سکتی۔ فروری 2025ء میں اسرائیل کے ریاستی محتسب کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق قریباً 39فیصد اسرائیلی شہریوں، یعنی لگ بھگ 30لاکھ افراد، نے درمیانے یا شدید بعد از صدمہ علامات کی شکایت کی۔ ان میں ڈپریشن، شدید بے چینی اور نفسیاتی بے سکونی شامل تھی۔ انہی اعداد میں قریباً 6 لاکھ ایسے افراد بھی تھے جنہیں شدید سطح کا نفسیاتی بحران درپیش تھا۔ بعض اسرائیلی ذرائع نے شدید پی ٹی ایس ڈی کے شکار افراد کی تعداد قریباً 5لاکھ 80ہزار بتائی۔ یہ معمولی خرابی نہیں، یہ ایک اجتماعی ذہنی بھونچال ہے۔ حملوں سے بچ جانی والے، جنوبی اور شمالی علاقوں سے بے گھر ہونے والے خاندان، بار بار سائرن سننے والے بچے، اور ہر لمحہ کسی نئے حملے کے خدشے میں جینے والے شہری، سب اس نفسیاتی آفت کی زد میں ہیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ اسرائیل جیسے منظم اور وسائل رکھنے والے ملک میں اگر لاکھوں لوگ ذہنی بحران میں مبتلا ہیں تو پھر مسئلہ صرف واقعے کی شدت نہیں، ریاستی ردعمل کی ناکامی بھی ہے۔ ادوا سینٹر کی محقق نوگا ڈاگان بوزاگلو نے بجا طور پر کہا کہ ذہنی صحت کے لیے بجٹ میں اضافہ بہت کم اور بہت دیر سے آیا۔ ان کے مطابق سب سے بڑا بحران سرکاری شعبے میں کم اجرت اور زیادہ کام کا بوجھ ہے۔ بعض مریضوں کو مدد کے لیے ایک سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔ یہ بات کسی غریب اور تباہ حال ریاست کے بارے میں نہیں کہی جا رہی، یہ ایک ایسے ملک کے بارے میں ہے جو دفاع، نگرانی اور جنگی تیاری پر بے دریغ خرچ کر سکتا ہے۔ گویا میزائلوں کے لیے خزانہ کھلا ہے، مگر ٹوٹے ہوئے اعصاب کے لیے قطاریں لمبی ہیں۔ ریاست نے اپنے شہری کو بندوق کے سائے میں تو رکھا، مگر اس کے ذہن کو سہارا دینے کا بندوبست نہ کر سکی۔
اسرائیل کی سیاسی نفسیات برسوں سے خوف کے ایک منظم بیانیے پر قائم ہے۔ شہری کو مسلسل یہ بتایا جاتا رہا کہ وہ ایک ایسے حصار میں زندہ ہے جہاں ہر طرف دشمن ہیں، اس لیے سختی ہی نجات ہے۔ جب کسی معاشرے کو ہر اختلاف میں خطرہ، ہر مزاحمت میں دہشت، اور ہر سوال میں غداری نظر آنے لگے تو وہاں ذہنی سکون نہیں، اجتماعی اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ اسرائیل میں یہی ہوا۔ وہاں سکیورٹی ایک ضرورت سے بڑھ کر شناخت بن گئی، اور شناخت جب خوف کے گرد تعمیر ہو تو اس کا انجام پناہ گاہوں میں سہمے ہوئے عوام ہوتے ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے کہیں زیادہ تاریک ہے، اور اسرائیل پر تنقید کا اخلاقی جواز بھی وہیں سے پیدا ہوتا ہے۔ غزہ میں جو کچھ ہوا، اس نے اس پورے خطے کی روح زخمی کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ میں بچوں کی ایک بڑی تعداد بعد از صدمہ تنا، ڈپریشن اور شدید ذہنی دبا کا شکار ہوئی۔ 2025ء تک ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد ایسے مقام تک پہنچے جہاں انسانی المیہ محض خبر نہیں رہا، تاریخ کا مقدمہ بن گیا۔ ہزاروں افراد معذوری، اعضا کے کٹ جانے اور بار بار کی بے دخلی سے دوچار ہوئے۔ ہسپتالوں کی نصف سے زیادہ استعداد متاثر ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف ریاست اپنے شہریوں کے نفسیاتی زخموں پر ماتم کرے اور دوسری طرف وہی ریاست فلسطینی آبادی پر ایسا جبر ڈھائے جو نسلوں تک ذہنی بیماری، خوف، محرومی اور سوگ کو جنم دے، تو کیا اسے صرف مظلوم ریاست کے خانے میں رکھ دینا دیانت دارانہ ہوگا؟ ہرگز نہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسرائیل کی اخلاقی ساکھ کمزور پڑتی ہے۔ اگر کوئی ریاست اپنے عوام کے خوف کو جائز قرار دیتی ہے تو اسے دوسروں کے خوف کو بھی انسان کا خوف تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر اسرائیلی ماں کا لرزتا دل قابل فہم ہے تو غزہ کی ماں کا دل بھی شمار میں آنا چاہیے۔ اگر اسرائیلی بچے کے ڈرائونے خواب ایک قومی مسئلہ ہیں تو فلسطینی بچے کے ٹوٹے اعصاب محض جنگی نقصان نہیں ہو سکتے۔ مگر اسرائیلی ریاست نے برسوں سے یہی کیا۔ اس نے اپنے دکھ کو خبر بنایا اور دوسروں کے دکھ کو عدد۔ اس نے اپنے خوف کو تہذیبی مسئلہ کہا اور فلسطینی خوف کو سکیورٹی فائل کا حاشیہ بنا دیا۔
اسرائیل کے ذہنی صحت کے بحران کا حل مزید بمباری، مزید محاصرہ اور مزید عسکری جنون میں نہیں چھپا۔ یہ بحران صرف کلینک، دوا اور تھراپی سے بھی مکمل طور پر حل نہیں ہوگا، کیونکہ صدمے کا ایک حصہ سیاسی ہے۔ آپ ایک ایسے معاشرے کو نفسیاتی توازن نہیں دے سکتے جو مسلسل جنگی اخلاقیات میں سانس لے رہا ہو۔ آپ ایک بچے کو یہ نہیں سکھا سکتے کہ سب محفوظ ہے، جبکہ اس کے اردگرد پوری ریاست خوف کی زبان میں بات کرتی ہو۔ آپ ایک ماں کے دل سے اضطراب نہیں نکال سکتے، اگر اس کے ملک کی پالیسی ہر نئے دن کسی نئی آگ کو جنم دے رہی ہو۔ ذہنی صحت صرف فرد کا مسئلہ نہیں، یہ ریاستی رویے، سماجی بیانیے اور اخلاقی سمت کا بھی سوال ہے۔
ذہنی صحت کے زخم سرحدیں نہیں دیکھتے، لیکن انصاف ضرور دیکھتا ہے۔ اگر اسرائیل واقعی اپنے شہریوں کو نفسیاتی تباہی سے نکالنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے یہ ماننا ہوگا کہ طاقت کا نشہ علاج نہیں، بیماری کا حصہ ہے۔ اسے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ فلسطینیوں کے قبرستان پر اسرائیلی سکون کی عمارت کبھی کھڑی نہیں ہو سکتی۔ ایک قوم دوسرے کی تباہی پر اپنی نفسیاتی بحالی نہیں لکھ سکتی۔ تاریخ نے بارہا دکھایا ہے کہ ظلم صرف مقتول نہیں بناتا، ظالم کے اندر بھی ایک خوفناک شکست بو دیتا ہے۔ اسرائیل آج اسی شکست کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اس کے شہری زخمی ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا وہ ریاست جس نے دوسروں کے گھروں میں قیامت اتاری، اب اپنے ہی گھر میں اترتی خاموش چیخوں کو سننے کی اخلاقی ہمت رکھتی ہے؟۔






