
وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مختلف آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے، جس میں سے ایک اشارہ یہ بھی ملا ہے کہ مرکز صرف ایمرجنسی یا گورنر راج میں سے کسی ایک پر انحصار کرنے کے بجائے ’’آئینی اقدامات کے امتزاج‘‘ کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہےکہ سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ جاری رکھنے کے فیصلے کے معاملے پر مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے، ایمرجنسی یا گورنر راج دونوں کیلئے ضروری حالات موجود ہیں، آئین میں فراہم کردہ اقدامات کا ایک امتزاج اختیار کیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں خاص اہمیت رکھتا ہے جب پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں بالخصوص صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ جاری رکھنے کے فیصلے کے معاملے پر مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
وفاقی حکومت پہلے ہی اعلانیہ طور پر عندیہ دے چکی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج ان آئینی آپشنز میں شامل ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ’’سنجیدگی سے غور‘‘ کر رہی ہے اور اس کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کو قرار دیا تھا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا تھا کہ اگر ایسے حالات موجود ہوں یا پیدا ہو جائیں جن میں آئین گورنر راج یا ایمرجنسی کا تقاضا کرے تو ’’ایسا ضرور ہو سکتا ہے اور ہوگا‘‘۔ تاہم، بعد ازاں حکومت نے فی الحال فوری طور پر دونوں میں سے کوئی اقدام نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بجائے پی ٹی آئی کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا کہ وہ اپنے مجوزہ مارچ پر نظرثانی کرے اور اپنی محاذ آرائی پر مبنی سیاسی حکمتِ عملی تبدیل کرے۔
مذکورہ ذریعے کی جانب سے ممکنہ ’’آئینی اقدامات کے امتزاج‘‘ کا حوالہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیر غور آپشنز ایمرجنسی اور گورنر راج میں سے کسی ایک کے سادہ انتخاب تک محدود نہیں ہو سکتے۔ تاہم، آئینی اقدامات کے اس ممکنہ امتزاج کی درست نوعیت ابھی واضح نہیں۔
آرٹیکل 232 کے تحت ایسے حالات میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے جب سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہو اور جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے داخلی خلفشار کے باعث پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو۔
دوسری جانب آرٹیکل 234 ایسے حالات سے متعلق ہے جس میں کسی صوبے میں آئینی نظام کے ناکام ہونے کا معاملہ درپیش ہو، دونوں میں یہ فرق خاص اہمیت رکھتا ہے۔






