پٹرول سستا کرنے کا اعلان، ریلیف لینے کا راستہ مشکل کیوں؟

پٹرول سستا کرنے کا اعلان، ریلیف لینے کا راستہ مشکل کیوں؟
غلام مصطفیٰ جمالی
حکومت کی جانب سے موٹرسائیکل، رکشے اور 800سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے پٹرول پر 100روپے فی لٹر ریلیف دینے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی مزدور، دیہاڑی دار، چھوٹے دکاندار، طلبہ اور متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے 100روپے فی لٹر ریلیف کا اعلان بلاشبہ عوام کے لیے امید کی ایک کرن ہے، لیکن اصل سوال اعلان کا نہیں بلکہ اس ریلیف کے عام شہری تک پہنچنے کا ہے۔
حکومت نے اس مقصد کے لیے ایک ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے شہری کو پہلے رجسٹریشن کرانا ہو گی، پھر پٹرول حاصل کرتے وقت مخصوص طریقے سے ٹوکن لینا ہوگا اور اس ٹوکن کی بنیاد پر سبسڈی حاصل کی جا سکے گی۔ کاغذ پر یہ نظام جدید، شفاف اور آسان دکھائی دیتا ہے، مگر پاکستان کی زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہاں لاکھوں ایسے شہری موجود ہیں جو موبائل فون اور سرکاری پیغام رسانی کے جدید طریقہ کار سے پوری طرح واقف نہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کے شناختی کارڈ، موبائل سم اور گاڑی کے کاغذات ایک ہی نام پر نہیں۔
یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس پر حکومت کو سب سے پہلے توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان میں موٹرسائیکل خریدنے اور بیچنے کا رواج عام ہے، مگر ہر خریدار فوری طور پر موٹرسائیکل اپنے نام منتقل نہیں کراتا۔ بہت سے لوگ کسی دوست، رشتہ دار، جاننے والے یا دوسرے شہری سے موٹرسائیکل خرید لیتے ہیں اور برسوں تک اسے استعمال کرتے رہتے ہیں، لیکن سرکاری ریکارڈ میں وہ موٹرسائیکل کسی اور شخص کے نام پر درج ہوتی ہے۔ ایسے شہریوں کا کیا ہوگا؟ اگر حکومت کا نظام صرف رجسٹرڈ مالک کو تسلیم کرتا ہے تو حقیقی استعمال کنندہ پٹرول کے ریلیف سے محروم ہوسکتا ہے۔
ایک مزدور کے پاس ایسی موٹرسائیکل ہوسکتی ہے جو کاغذات میں کسی دوسرے شخص کے نام پر ہو، لیکن روزانہ پٹرول وہ اپنی جیب سے ڈالتا ہے۔ وہی موٹرسائیکل اسے روزگار تک پہنچاتی ہے۔ اگر اسے صرف اس لیے 100روپے فی لٹر ریلیف نہ ملے کہ گاڑی ابھی تک اس کے نام منتقل نہیں ہوئی تو اس سکیم کا مقصد ہی متاثر ہوگا۔
اسی طرح موبائل سم کی شرط بھی کئی سوالات پیدا کرتی ہے۔ اگر کسی شخص کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم موجود نہیں یا وہ گھر کے کسی دوسرے فرد کے نام کی سم استعمال کر رہا ہی تو اس کے لیے کیا راستہ ہوگا؟ ہمارے معاشرے میں ایک ہی گھر کے کئی افراد اکثر ایک دوسرے کے موبائل نمبرز استعمال کرتے ہیں۔ بہت سے بزرگ افراد موبائل فون کے معاملات میں اپنے بچوں پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ کئی خواتین بھی گھر کے سربراہ کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کرتی ہیں۔ اگر نظام صرف شناختی کارڈ اور موبائل سم کے مکمل مطابقت پر انحصار کرے گا تو ایسے شہریوں کے لیے متبادل طریقہ بھی ہونا چاہیے۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ جس سکیم کا مقصد غریب شہری کو سہولت دینا ہے، کہیں وہی اسکیم اس کے لیے ایک نئی آزمائش نہ بن جائے۔ عوام پہلے ہی مختلف سرکاری پروگراموں میں رجسٹریشن، تصدیق، بائیومیٹرک کارروائی، پیغامات اور دیگر مراحل سے گزرنے کے دوران مشکلات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ کئی لوگ ٹیکنالوجی سے ناواقف ہونے کی وجہ سے دکانداروں یا ایجنٹوں کے پاس جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جہاں بعض اوقات ان سے غیر ضروری رقم بھی وصول کی جاتی ہے۔
حکومت نے شہریوں کو یہ ہدایت ضرور دی ہے کہ وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر یا ذاتی معلومات کسی غیرمتعلقہ شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں اور سرکاری اسکیم کے نام پر کسی کو رقم نہ دیں۔ یہ ہدایت انتہائی اہم ہے، کیونکہ عوامی ریلیف کی سکیمیں ہمیشہ جعل ساز عناصر کے لیے بھی موقع پیدا کرتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف ہدایت جاری کرنے کے بجائے ایسے عناصر کے خلاف عملی کارروائی کا بھی واضح نظام بنائے۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شہری رجسٹریشن کی کوشش کرے اور اس کا ریکارڈ درست نہ نکلے تو وہ کہاں جائے؟ اگر موٹرسائیکل اس کے پاس ہے مگر کاغذات کسی اور کے نام ہیں تو اس مسئلے کا حل کون فراہم کرے گا؟ اگر موبائل سم کا مسئلہ ہے تو شکایت کہاں درج ہوگی؟ اگر ٹوکن حاصل کرنے کے باوجود پٹرول پمپ پر ریلیف نہ ملے تو شہری کس ادارے سے رابطہ کرے گا؟ اگر حکومت ان سوالات کے واضح جوابات نہیں دیتی تو پھر ایک اچھی سکیم بھی عملی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ اس سکیم کے ساتھ ایسے سہولت مراکز بھی قائم کرے جہاں عام شہری بغیر کسی اضافی فیس کے اپنی رجسٹریشن اور شکایات کا ازالہ کرا سکے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں، چھوٹے شہروں اور ان علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل سہولتیں محدود ہیں، وہاں متبادل انتظام ہونا ضروری ہے۔ ہر شہری سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ جدید ڈیجیٹل نظام کی تمام باریکیاں جانتا ہوگا۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس سکیم کا فائدہ حقیقی مستحق افراد تک پہنچ رہا ہے یا نہیں۔ حکومت اگر 100روپے فی لٹر ریلیف دے رہی ہے تو اس کا مقصد صرف اعداد و شمار جاری کرنا نہیں بلکہ عوام کی مشکلات کم کرنا ہونا چاہیے۔ ایک غریب موٹرسائیکل سوار کے لیے روزانہ چند سو روپے کا پٹرول بھی اس کے گھر کے بجٹ پر اثر ڈالتا ہے۔ اگر اسے پٹرول پر خاطر خواہ بچت ملتی ہے تو وہ رقم گھر کے راشن، بچوں کی تعلیم، دوا یا سفر کے کسی دوسرے خرچ میں استعمال ہوسکتی ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ریلیف محدود مقدار میں دیا جارہا ہے۔ موٹرسائیکل اور رکشے کے لیے 20لٹر جبکہ 800سی سی تک کی گاڑی کے لیے 30لٹر پٹرول پر ریلیف کی بات کی گئی ہے۔ اس لیے حکومت کو عوام کو یہ بھی واضح طور پر بتانا چاہیے کہ یہ سہولت کس مدت تک دستیاب ہوگی، ہر شہری کتنی بار حاصل کر سکے گا اور اگر مقررہ مقدار ختم ہوجائے تو اگلے مرحلے کا طریقہ کیا ہوگا۔ شفافیت جتنی زیادہ ہوگی، عوام کا اعتماد بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔
حکومت کے لیے یہ موقع بھی ہے کہ وہ اس سکیم کو محض عارضی ریلیف کے طور پر نہ دیکھے بلکہ عوامی سہولت کے ایک بہتر نظام کی بنیاد بنائے۔ اگر ڈیجیٹل نظام میں خامیاں ہیں تو انہیں عوام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے درست کیا جائے۔ اگر کسی شہری کے کاغذات میں مسئلہ ہے تو اسے آسان قانونی طریقے سے درست کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر کسی علاقے میں لوگوں کو پیغام رسانی یا رجسٹریشن میں دشواری پیش آرہی ہے تو وہاں فوری مدد فراہم کی جائے۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس اسکیم کے حوالے سے غیرمصدقہ پیغامات اور جعلی رابطوں سے محتاط رہیں۔ کسی نامعلوم شخص کو شناختی کارڈ کی تصویر، ذاتی معلومات یا موبائل اکائونٹ کی تفصیلات فراہم نہ کریں۔ حکومت کی جانب سے مفت ملنے والے ریلیف کے لیے کسی شخص کو اضافی رقم دینا ضروری نہیں ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام کو آج سب سے زیادہ ضرورت ایسے ریلیف کی ہے جو ان کی زندگی میں محسوس ہو۔ پریس کانفرنس میں اعلان، اخبارات میں خبر اور سرکاری پیغام اپنی جگہ، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایک مزدور اپنی موٹرسائیکل پٹرول پمپ پر لے کر جائے، آسانی سے اپنی شناخت مکمل کرے اور اسے واقعی 100روپے فی لٹر کا فائدہ ملے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت کا یہ قدم عوام کے لئے حقیقی سہارا بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ریلیف لینے کے لیے شہری کو بار بار رجسٹریشن، کاغذات، سم، پیغامات اور ریکارڈ کی الجھنوں میں پھنسنا پڑے تو پھر عوام یہ سوال ضرور کریں گے کہ پٹرول سستا کرنے کا اعلان تو کر دیا گیا، مگر ریلیف لینے کا راستہ مشکل کیوں بنا دیا گیا؟
حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ غریب آدمی کو صرف ریلیف کا اعلان نہیں چاہیے، اسے ایسا نظام چاہیے جو اس کا حق اس تک آسانی، عزت اور شفاف طریقے سے پہنچائے۔ 100روپے فی لٹر کی بچت اگر واقعی عام شہری کی جیب تک پہنچ گئی تو یہ محض ایک سرکاری اسکیم نہیں بلکہ مہنگائی کے دور میں لاکھوں خاندانوں کے لیے حقیقی سہارا ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر نظام کی پیچیدگیاں مستحق شہری کو دروازے ہی پر روک دیں تو پھر یہ ریلیف عوام کی مشکل کم کرنے کے بجائے ایک اور سرکاری آزمائش بن کر رہ جائے گا۔





