’’ عوامی راحت اور سو روپے کا مرہم

’’ عوامی راحت اور سو روپے کا مرہم ‘‘
حروف بے زباں
مرزا رضوان
مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عام آدمی کے لیے خوشی کی کوئی بھی خبر ہوا کا ایک تازہ جھونکا ثابت ہوتی ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں بلکہ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو بھی آگ لگا رکھی ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے پٹرول پر 100روپے فی لٹر کی خصوصی رعایت کا اعلان بلا شبہ ایک خوش آئند اور وقت کی اہم ضرورت پر مبنی قدم ہے۔ اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایوانِ اقتدار میں بیٹھے حکمرانوں کو بالآخر اس متوسط اور سفید پوش طبقے کی مشکلات کا کچھ نہ کچھ احساس ضرور ہوا ہے جو اپنی قلیل آمدن کا ایک بڑا حصہ صرف ایندھن کی مد میں لٹانے پر مجبور ہے۔
وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے اس ریلیف اسکیم کو شفاف اور جدید بنانے کی لیے جو تکنیکی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، وہ بظاہر عام شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ اس اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے شہریوں کو لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ موبائل ایس ایم ایس (SMS)کے ذریعے رجسٹریشن ممکن بنائی گئی ہے۔ طریقہ کار کے مطابق، شہری’ REG‘ لکھ کر اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر، گاڑی یا موٹرسائیکل کا نمبر، صوبائی کوڈ اور رجسٹریشن کی تاریخ 9771 پر ارسال کریں گے۔ رجسٹریشن کے بعد پٹرول پمپ سے رعایتی ایندھن حاصل کرنے کے لیے’ TOK‘ لکھ کر اسی نمبر پر میسج بھیجنا ہوگا، جس کے بعد ملنے والے فیول ٹوکن کو پمپ پر دکھا کر 100روپے فی لٹر رعایت حاصل کی جا سکے گی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اس سہولت کا آغاز پیر اور منگل کی درمیانی شب سے ہو گیا ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے یہ ریلیف فعال کر دیا جائے گا۔
حکومت نے اس اسکیم کے تحت ایندھن کا ماہانہ کوٹہ بھی مقرر کیا ہے۔ موٹرسائیکل اور چنگچی کے لیے ماہانہ 20لٹر جبکہ 800سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے 30لٹر رعایت رکھی گئی ہے۔ اگر اس کا حسابی جائزہ لیا جائے تو ایک موٹر سائیکل سوار یا چنگچی ڈرائیور کو ماہانہ 2000روپے اور چھوٹی گاڑی کے مالک کو 3000روپے کی براہِ راست بچت ہوگی۔ بظاہر یہ رقم بہت بڑی محسوس نہ ہو، لیکن ایک دیہاڑی دار، رکشہ ڈرائیور یا آن لائن ڈیلیوری کرنے والے نوجوان کے لیے، جو صبح سے شام تک صرف چند سو روپے کمانے کے لیے سڑکوں پر خوار ہوتا ہے، یہ رقم اس کے کچن کے بجٹ یا بچوں کی تعلیم میں ایک سہارا بن سکتی ہے۔
تاہم، کسی بھی حکومتی منصوبہ بندی کی کامیابی کا دارومدار اس کے اعلانات سے زیادہ اس کے انتظامی نفاذ پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں ماضی میں بھی کئی اچھے منصوبے بدنظمی اور پیچیدہ طریقہ کار کی نذر ہو چکے ہیں۔ مگر یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ ہمارے ملک میں رکشہ اور چنگچی ڈرائیورز کا ایک بڑا طبقہ شاید اتنا تعلیم یافتہ نہ ہو کہ وہ تمام مطلوبہ معلومات ( صوبائی کوڈ یا رجسٹریشن تاریخ) درست انداز میں ایس ایم ایس کر سکے۔ مزید برآں، پٹرول پمپوں پر ٹیلی کام نیٹ ورکس کی سروس اور میسجز کی بروقت موصولی بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر پمپ پر کھڑے شہری کو ٹوکن کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا تو وہاں بدمزگی اور بدنظمی جنم لے سکتی ہے۔
حکومت اور وزارتِ آئی ٹی کو چاہیے کہ وہ اس نظام کی نگرانی کا ایک مضبوط میکانزم قائم کریں۔ پٹرول پمپوں کے عملے کو اس حوالے سے تربیت دی جائے اور وہاں واضح رہنمائی کی ہدایات آویزاں کی جائیں تاکہ عوام کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس سہولت کا فائدہ صرف واقعی مستحق اور غریب شہریوں کو ہی ملے۔
ایندھن پر 100روپے فی لٹر کی یہ رعایت مہنگائی کے شدید طوفان میں ایک عارضی چھائوں کی مانند ہے۔ یہ معاشی مسائل کا مکمل یا پائیدار حل تو نہیں، کیونکہ ملک کو دیرپا معاشی استحکام کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ کٹھن حالات میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے یہ ایک قابلِ قدر سہار ا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس ریلیف کو کسی بھی قسم کی بدعنوانی اور تکنیکی خرابی سے پاک رکھ کر واقعی عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔





