Column

سندھ اسمبلی کی قرارداد: ایک پوسٹر، کئی پیغامات

سندھ اسمبلی کی قرارداد: ایک پوسٹر، کئی پیغامات
تحریر : شکیل سلاوٹ
نئے صوبے نہیں، مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی وقت کی ضرورتسندھ اسمبلی میں نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے قرارداد کی منظوری کے موقع پر پیپلز پارٹی کے ارکان کا پوسٹر اٹھانا بظاہر ایک سیاسی ردِعمل تھا، لیکن اس منظر نے پاکستان کی سیاست کے ایک نہایت اہم سوال کو پھر سے زندہ کر دیا ہے: کیا عوام کے مسائل کا حل نئے صوبوں میں ہے یا موجودہ نظام کو مضبوط اور موثر بنانے میں؟
سندھ کی سیاست میں صوبے کی وحدت اور خودمختاری ہمیشہ ایک حساس معاملہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبے کی بحث سامنے آتے ہی سیاسی ردِعمل بھی شدت اختیار کر جاتا ہے۔ اسمبلی کے اندر بلند کیے گئے پوسٹر اسی سیاسی احساس کی علامت تھے کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر ایک واضح موقف موجود ہے۔ لیکن اس بحث کو محض مخالفت یا حمایت تک محدود کرنا شاید اصل مسئلے سے نظریں چرانا ہوگا۔
پاکستان ایک وفاق ہے۔ مضبوط وفاق کے لیے مضبوط صوبے ضروری ہیں اور مضبوط صوبوں کے لیے بااختیار مقامی حکومتیں۔ اگر اختیارات وفاق سے صوبوں تک تو منتقل ہوں لیکن صوبے انہیں عوام کی نچلی سطح تک منتقل نہ کریں تو صوبائی خودمختاری کا فائدہ عام شہری تک پوری طرح نہیں پہنچ سکتا۔ آج ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہات کو پانی، صفائی، سڑکوں، تعلیم، صحت، نکاسی آب اور روزمرہ کے بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کا حل اکثر کسی نئے صوبائی دارالحکومت میں نہیں بلکہ اسی محلے، یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح پر موجود بااختیار حکومت میں پوشیدہ ہے۔ اگر بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ کے ساتھ حقیقی اختیارات، مناسب مالی وسائل اور انتظامی خودمختاری حاصل ہو تو عوام کو اپنے بنیادی مسائل کے لیے صوبائی دارالحکومتوں اور وفاقی اداروں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔
نئے صوبے بنانے کی بحث اپنی جگہ اہم ہے۔ جہاں آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضرورت اور عوامی خواہش اس کا تقاضا کریں وہاں آئینی اور جمہوری طریقے سے اس پر غور ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے گورننس کے بنیادی مسائل خود بخود ختم نہیں ہوتے۔ اگر آج ایک صوبے میں اختیارات چند ہاتھوں میں مرکوز ہیں تو کل نئے صوبے میں بھی یہی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ نقشہ بدلنے سے نظام نہیں بدلتا۔ نظام اختیارات کی منصفانہ تقسیم سے بدلتا ہے۔
سندھ اسمبلی میں قرارداد اور پوسٹر کا واقعہ اسی لیے ایک وسیع تر سیاسی پیغام رکھتا ہے۔ یہ صرف سندھ کی انتظامی وحدت کا سوال نہیں بلکہ اس بات کا بھی سوال ہے کہ پاکستان کا وفاق کس بنیاد پر مضبوط ہوگا۔ کیا صوبوں کو مضبوط کرنے کے لیے مقامی حکومتوں کو کمزور رکھا جائے گا؟ یا پھر ایک ایسا وفاقی نظام تشکیل دیا جائے گا جس میں وفاق اپنے آئینی دائرے میں مضبوط، صوبے اپنی خودمختاری میں بااختیار اور بلدیاتی ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں؟پاکستان کو نئے نقشوں سے زیادہ نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔
وفاق مضبوط ہو، صوبائی خودمختاری محفوظ ہو، اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں، بلدیاتی ادارے بااختیار ہوں اور پارلیمانی نظام حقیقی عوامی نمائندگی کا ذریعہ بنے، تو صوبوں کی تعداد سے زیادہ اہم عوام کو حاصل اختیار بن جائے گا۔ سندھ اسمبلی میں بلند ہونے والے پوسٹر ایک سیاسی موقف کا اظہار ضرور تھے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ہم صوبے کی وحدت کے ساتھ عوام کے اختیار کی بھی حفاظت کر سکتے ہیں؟، کیونکہ آخرکار مضبوط سندھ، مضبوط صوبے اور مضبوط وفاق، سب کی بنیاد بااختیار عوام ہیں۔

جواب دیں

Back to top button