یومِ ختمِ نبوت: ایک عقیدہ، ایک عہد، ایک شناخت
یومِ ختمِ نبوت: ایک عقیدہ، ایک عہد، ایک شناخت
صفدر علی حیدری
کچھ دن تاریخ کے صفحات پر لکھے جاتے ہیں اور کچھ دن دل کے صفحات پر۔ کچھ تاریخیں کیلنڈر کا حصہ بن جاتی ہیں اور کچھ انسان کے ایمان، احساس اور وفا کا حصہ۔ 7ستمبر بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ کچھ نام صرف نام نہیں ہوتے، وہ ایمان بن جاتے ہیں۔ کچھ نسبتیں انسان کی شناخت بن جاتی ہیں، اور کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بعد محبت کی کوئی دوسری منزل باقی نہیں رہتی۔
ذاتِ مصطفیٰ ؐ بھی ایسا ہی نام ہیں، وہ نام جس پر دل ٹھہر جاتا ہے، آنکھ ادب سے جھک جاتی ہے، زبان خاموش ہو جاتی ہے اور روح گواہی دیتی ہے کہ اگر ایمان کی کوئی خوشبو ہے تو وہ مدینے کی گلیوں سے آتی ہے۔ اسی لیے ختمِ نبوت محض ایک عقیدہ نہیں۔ یہ محبتِ رسول کی آخری حد، ایمان کی شناخت اور وفاداری کا وہ عہد ہے جس میں کوئی ابہام نہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں 7ستمبر 1974ء ایک اہم آئینی مرحلہ تھا، جب قومی اسمبلی نے ختمِ نبوتؐ سے متعلق آئینی ترمیم منظور کی۔ مگر ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ختمِ نبوتؐ کا عقیدہ 7ستمبر 1974ء کو پیدا نہیں ہوا۔ یہ عقیدہ تو قرآن کے نزول اور محمد مصطفیٰ ؐکی بعثت ہی سے دین کا بنیادی حصہ ہے۔
خود رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔
اس لیے 1974ء تاریخ کا ایک باب ہے۔ ختمِ نبوت قرآن و سنت کا فیصلہ ہے۔ قرآن کی فیصلہ کن گواہی۔ اللہ تعالیٰ سورہ الاحزاب میں فرماتا ہے: ’’ محمد اللہ کے رسولؐ اور خاتم النبیینؐ ہیں‘‘۔ خاتم اختتام، تکمیل اور مہر کے مفہوم کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ نبوت کا وہ عظیم سلسلہ جو حضرت آدمٌ سے شروع ہوا اور حضرت نوحٌ، ابراہیمٌ، موسیٌٰ، عیسیٌٰ اور دیگر انبیاء علیہم السلام سے گزرتا ہوا محمد مصطفیٰ ؐ تک پہنچا، آپؐ پر مکمل ہو گیا۔
یہاں نبوت نے اپنی آخری منزل پائی۔ یہاں نبوت کا سفر مکمل ہوا۔ یہاں انبیاء کا سلسلہ ختم ہوا۔ اور قیامت تک انسانیت کے لیے ایک ہی نبیؐ کی پیروی باقی رہے گی۔ تکمیلِ دین، تکمیلِ نبوت ہے، اس حوالے سے کتاب کہتی ہے : ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا‘‘۔
جب دین مکمل ہو گیا، آخری کتاب نازل ہو گئی، اور محمدؐ پوری انسانیت کے لیے رسولؐ بنا کر بھیجے گئے تو نئی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ پہلے انبیاء مخصوص اقوام اور مخصوص زمانوں کی طرف آتے رہے، مگر محمد مصطفیٰ ؐ رحمت للعالمین ہیں۔ آپؐ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے اور آپؐ کا پیغام قیامت تک کے لیے ہے۔ اس لیے ختمِ نبوت ہدایت کے دروازے بند ہونے کا نام نہیں، ہدایت کے مکمل ہو جانے کا اعلان ہے۔
نبوت ختم ہوئی، ہدایت نہیں۔ وحیِ نبوت ختم ہوئی، قرآن باقی ہے۔ انبیائٌ کا سلسلہ ختم ہوا، سنتِ مصطفیٰ ؐ باقی ہے۔ قرآن کے بعد سب سے بڑی گواہی خود رسولؐ اللہ کی ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ’’ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونٌ کو موسیٰ ٌسے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ حضرت علیؓ کی عظمت بیان کرتے ہوئے بھی رسولؐ اللہ نے نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ ایک اور موقع پر فرمایا: ’’ لَا نَبِيَّ بَعْدِي‘‘، یہ صرف ایک جملہ نہیں، نبوت کے باب پر آخری مہر ہے۔
ختمِ نبوت کے باب میں مولا علیؓ کی نسبت ہمارے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ علیؓ جنہوں نے رسولؐ اللہ کو قریب سے دیکھا، آپؐ کے ساتھ زندگی کا بڑا حصہ گزارا اور وحی کے نزول کا زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ حضرت علیؓ سے منقول ہے: اللہ نے حضرت محمدؐ کو حق کے ساتھ نبیؐ بنا کر بھیجا اور انہیں نبیوںٌ کا خاتمہ قرار دیا‘‘۔
یہاں ایک خوب صورت فکری منظر سامنے آتا ہے، جس علیؓ نے محمدؐ کو سب سے قریب سے دیکھا، وہ بھی محمدؐ کو خاتم النبیینؐ مانتی ہیں۔ یہ اہلِ بیت کی محبت کے ساتھ ختمِ نبوت کی گواہی بھی ہے۔ عقل بھی یہی کہتی ہےختمِ نبوت صرف نقلی دلیل کا مسئلہ نہیں، اس میں عقلی حکمت بھی ہے۔ اگر کوئی پیغام محدود ہو تو اس کی تجدید کے لیے نیا رسول آ سکتا ہے۔ اگر شریعت مخصوص زمانے کے لیے ہو تو نئی شریعت کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن جب رسول پوری انسانیت کے لیے آئے، کتاب محفوظ ہو، دین مکمل ہو اور سنت قیامت تک رہنمائی کے لیے موجود ہو تو نئی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
اسی لیے ختمِ نبوت کا مطلب یہ نہیں کہ ہدایت ختم ہو گئی، بلکہ یہ ہے کہ اب ہدایت کسی نئے نبی کے ذریعے نہیں، محمدؐ کی لائی ہوئی کتاب اور سنت کے ذریعے ملے گی۔ مگر ایک سوال ہمیں اپنے اندر ضرور اتارنا چاہیے۔ کیا ہم صرف ختمِ نبوت کے قائل ہیں یا اس کے تقاضوں پر بھی قائم ہیں؟۔ اگر جناب رسالت مآبؐ آخری نبی ہیں تو ہماری زندگی کا اخلاقی معیار بھی آپؐ کی شخصیت ہونی چاہیے۔ سچ بولنا محبتِ رسول ہے۔ امانت ادا کرنا محبتِ رسول ہے۔ ظلم سے رک جانا محبتِ رسول ہے۔ کمزور کا حق دینا محبتِ رسول ہے۔ معاف کر دینا محبتِ رسول ہے۔ والدین کی خدمت، پڑوسی سے حسنِ سلوک، یتیم سے شفقت، محتاج کی مدد اور وعدے کی پابندی۔ یہ سب محبتِ مصطفیٰ کی عملی صورتیں ہیں۔
ختمِ نبوت کا بہترین دفاع یہ ہے کہ ہم حضرت محمدؐ کے امتی بن کر ان کے کے اخلاق دکھائیں۔ کیونکہ آپؐ ہمیں صرف عقیدہ نہیں دیتے، کردار بھی دیتے ہیں، صرف ایمان نہیں دیتے، انسانیت بھی دیتے ہیں۔7ستمبر ایک دن نہیں، ایک عہد ہے،7 ستمبر کو صرف جلسوں، تقریروں اور نعروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں اپنے دل سے سوال کرنے کا موقع دیتا ہے: اگر سرکار محمد مصطفیٰؐ آخری نبیؐ ہیں اور یقیناً ہیں تو کیا میری زندگی میں ان کی سنت آخری معیار ہے؟، کیا میری زبان سچی ہے؟، کیا میری تجارت پاکیزہ ہے؟، کیا میرے معاملات میں انصاف ہے؟، کیا میرے گھر میں رحمت ہے؟، کیا میرے رویے میں آپؐ کا اخلاق ہے؟۔ کیوں کہ عقیدہ زبان سے شروع ہوتا ہے، مگر کردار پر مکمل ہوتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ختمِ نبوت ایک نظریے سے بڑھ کر زندگی کا دستور بن جاتی ہے۔ مگر مصطفیٰ ؐکے بعد۔۔۔ہم اللہ کے تمام انبیائٌ پر ایمان رکھتے ہیں۔ آدمٌ سے لے کر عیسیٌٰ تک تمام انبیائٌ کا احترام کرتے ہیں۔ اہلِ بیت سے قلبی عقیدت رکھتے ہیں، صحابہؓ کا احترام کرتے ہیں، اور اولیاء و صالحین سے انس رکھتے ہیں۔ مگر ایک حقیقت ایسی ہے جس میں کوئی دوسرا مقام اور کوئی دوسری نسبت نہیں: محمد مصطفیٰ ؐاللہ کے آخری نبی ہیں۔ یہ ہماری شناخت ہے۔ یہ ہمارے ایمان کی آخری لکیر ہے۔ آدمٌ سے خاتم تک نبوت کا سفر تھا۔ آپؐ پر نبوت کا کمال ہے۔ اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ اب کسی نئی وحیِ نبوت کا انتظار نہیں۔ اب کسی نئی کتاب کی ضرورت نہیں۔ قیامت تک ہمارے لیےایک کتاب، قرآن۔ ایک نبی، محمد مصطفیٰ ؐ، ایک راستہ، سنتِ مصطفیٰ ؐاور آخر میں دل صرف ایک بات کہتا ہے، ہم سب انبیائٌ کا احترام کرتے ہیں، اہلِ بیت سے عقیدت رکھتے ہیں، صحابہؓ سے محبت کرتے ہیں، مگر مصطفیٰ ؐکے بعد۔۔۔ نہ کوئی نبی، نہ کوئی نئی نبوت۔ صرف سرکارؐ کی رسالت، آپؐ کی سنت، آپ ؐکی محبت، اور آپؐ کی امت۔ یہی ختمِ نبوت ہے۔ یہی ایمان ہے۔ یہی عہد ہے۔ اور یہی وفا ہے۔
جھوٹے مدعیان نبوت سارے مٹ گئے، ان کا نام بس تاریخ میں رہ گیا۔ وہ بھی منفی انداز میں۔ بس یہی ایک فتنہ قادیانیت ہے جو اب تک باقی ہے، اس کے خاتمے کے لیے ہر سطح پر کوششیں اور مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں کامیابی عطا فرمائے، آمین ۔
آخر میں سیرت کے حوالے سے پسندیدہ شعر ۔۔
دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰؐ کے بعد
صفدر علی حیدری







