Column

دفاعِ وطن، عزمِ پاکستان

دفاعِ وطن، عزمِ پاکستان
6 ستمبر محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ پاکستان کی قومی زندگی میں عزم، اتحاد، قربانی اور حب الوطنی کی ایک روشن علامت ہے۔ یومِ دفاع و شہداء ہمیں ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو وطن کے دفاع کے لیے افواجِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم نے پیش کیں۔ 1965ء کی جنگ کے دوران قوم نے جس یکجہتی، حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہے۔ آج بھی یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی محض سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ مسلح افواج کی جانب سے 61ویں یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر شہدائ، غازیوں اور ان کے اہل خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ شہداء وہ چراغ ہیں جنہوں نے اپنے خون سے وطن کی سلامتی کی شمع روشن رکھی۔ میدانِ جنگ ہو، فضائی محاذ ہو یا سمندری حدود، پاکستان کے محافظوں نے ہر دور میں اپنی ذمے داری نبھاتے ہوئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی قدر و منزلت کا تقاضا ہے کہ قوم شہداء کے خاندانوں کو کبھی فراموش نہ کرے اور ان کے مسائل کو ریاستی ترجیحات میں نمایاں مقام دیا جائے۔ یومِ دفاع کا اصل پیغام یہ ہے کہ قومی سلامتی صرف عسکری طاقت سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ قومی اتحاد، معاشی استحکام، سیاسی بلوغت، قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد بھی اس کے بنیادی ستون ہیں۔ ایک مضبوط پاکستان ہی اپنی سرحدوں، قومی مفادات اور عوام کے مستقبل کا موثر تحفظ کر سکتا ہے۔ اس لیے دفاعِ وطن کے تقاضوں کو وسیع تر قومی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ افواجِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ملک کی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے وہ مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ عزم دشمن کے لیے واضح پیغام اور پاکستانی قوم کے لیے اعتماد کا باعث ہے۔ تاہم پاکستان کا امن پسند موقف بھی اپنی جگہ نہایت اہم ہے۔ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ امن کی خواہش دراصل ایک ذمہ دار ریاست کی پہچان ہے، لیکن امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنا کسی بھی فریق کے لیے سنگین غلطی ہوگی۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں طویل عرصے تک آزادی اور خودمختاری برقرار رکھتی ہیں جو اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ اپنے قومی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ پاکستان کو بھی آج اسی اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملکی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفاد ایسے معاملات ہیں جن پر پوری قوم کو متحد رہنا چاہیے۔ دفاعِ وطن کے سفر میں غازیوں کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ جو سپاہی اپنی جان کی پروا کیے بغیر خطرات کا سامنا کرتے ہیں، وہ قوم کے اعتماد اور احترام کے مستحق ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور فرض شناسی پاکستان کے دفاعی نظام کی بنیاد ہے۔ موجودہ دور میں سلامتی کے خطرات بھی بدل چکے ہیں۔ روایتی جنگ کے ساتھ دہشت گردی، انتہاپسندی، سائبر خطرات، جھوٹی اطلاعات اور معاشی دبا جیسے چیلنجز بھی قومی سلامتی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان خطرات کا مقابلہ بھی ریاستی اداروں اور عوام کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ قومی دفاع کی مضبوطی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ نوجوان نسل کو پاکستان کی تاریخ، آزادی کی قدر، شہداء کی قربانیوں اور آئینی و قومی ذمے داریوں سے آگاہ کیا جائے۔ نئی نسل کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وطن سے محبت صرف نعروں تک محدود نہیں بلکہ ایمانداری سے کام کرنا، قانون کی پاسداری، تعلیم حاصل کرنا، معاشرے میں برداشت پیدا کرنا اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا بھی حب الوطنی ہے۔ شہداء کی خاندان ہمارے لیے احترام کی علامت ہیں۔ جن مائوں نے اپنے بیٹے، جن بیویوں نے اپنے شریکِ حیات اور جن بچوں نے اپنے والدین وطن کے لیے قربان کیے، ان کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے۔ ریاست اور معاشرے کو چاہیے کہ شہداء کے خاندانوں کی فلاح، تعلیم، صحت اور معاشی تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں۔ یہی ان عظیم قربانیوں کا حقیقی اعتراف ہوگا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مشکل گھڑی میں ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات، ہنگامی حالات اور قومی بحرانوں میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔ قوم ان خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ تاہم ایک مضبوط ریاست کے لیے ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ کار میں موثر انداز سے فرائض انجام دے اور قومی معاملات میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ یہی طرزِ عمل ریاستی استحکام اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ چھ ستمبر ہمیں ماضی کی یاد کے ساتھ مستقبل کی ذمے داری بھی سونپتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم قربانیوں کی اس تاریخ کو صرف تقریبات، تقاریر اور نعروں تک محدود رکھیں گے یا اسے قومی کردار کا حصہ بنائیں گے۔ اگر قوم متحد، باکردار، تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط ہوگی تو پاکستان کا دفاع مزید مستحکم ہوگا۔ آج پاکستان کو داخلی اتحاد، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مضبوط دفاع ناگزیر ہے، مگر دیرپا امن کے لیے مضبوط معیشت، مستحکم ادارے اور متحد قوم بھی ضروری ہیں۔ مسلح افواج کا عزم اور قوم کا اعتماد ایک دوسرے کی طاقت بن سکتے ہیں۔ یومِ دفاع و شہداء کا پیغام بالکل واضح ہے، پاکستان کی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ شہداء کی قربانیاں ہمارا قومی سرمایہ ہیں، غازیوں کی بہادری ہمارا فخر ہے اور وطن کا دفاع ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنی سلامتی کے تحفظ کی مکمل صلاحیت اور عزم بھی رکھتا ہے۔ یہی متوازن سوچ ایک مضبوط، پُرامن اور خوددار پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔
پنجاب میں امن کی نئی سمت
کسی بھی معاشرے میں امن و امان محض پولیس کی کارروائیوں سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ قانون کی بالادستی، اداروں کی باہمی ہم آہنگی، عوامی تعاون اور حکومتی عزم اس کی بنیادی شرائط ہیں۔ پنجاب میں سیکیورٹی اداروں کے باہمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے آرٹیفیشیل انٹیلی جنس ہب کے قیام، پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہنا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ موجودہ دور میں جرائم کے خلاف جنگ صرف روایتی طریقوں سے نہیں جیتی جاسکتی۔ جدید ٹیکنالوجی، بروقت اطلاعات، ڈیجیٹل نگرانی اور اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری امن و امان کے نظام کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے جرائم میں نمایاں کمی کے دعوے اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب عام شہری بھی اپنے گلی، محلے اور شہر میں خود کو محفوظ محسوس کرے۔ خواتین، بچوں، بزرگوں اور کمزور طبقات کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ بالخصوص بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ ہیلمٹ، ٹریفک قوانین، لین ڈسپلن اور زیبرا کراسنگ جیسے اقدامات بھی دراصل شہری زندگی میں قانون پسندی کے فروغ کی کوشش ہیں۔ قانون صرف جرائم پیشہ افراد کے لیے نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے ساتھ متبادل روزگار کی فراہمی اس بات کی مثال ہے کہ انتظامی فیصلوں میں انسانی پہلو کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جاسکتا ہے۔ امن کا سب سے مضبوط محافظ وہ معاشرہ ہوتا ہے جہاں قانون امیر و غریب، طاقتور و کمزور اور بااثر و بے وسیلہ سب کے لیے یکساں ہو۔ مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کا تحفظ اور تہواروں کے دوران امن کا قیام بھی اسی اصول کا حصہ ہے۔ پنجاب میں امن و امان کے لیے جاری اقدامات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ حکومت، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوگا تو ایک محفوظ، منظم اور قانون پسند پنجاب کا خواب زیادہ موثر انداز میں حقیقت بن سکے گا۔

جواب دیں

Back to top button