مکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان

مکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان
کا بڑھتا عالمی کردار
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ہونے والی پیش رفت خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں ایک اہم سفارتی اور دفاعی پیش رفت ہے۔ استنبول میں اسٹرٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے پہلے اجلاس نے اس معاہدے کو محض ایک اعلان کے بجائے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ تینوں ممالک کا مشترکہ سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کرنے کا فیصلہ اور ابتدائی تین سال کے لیے اس کی سربراہی پاکستان کے سیکریٹری جنرل کو سونپنا اس امر کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان کو اس نئے تعاون میں ایک مرکزی اور قابلِ اعتماد کردار حاصل ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اعزاز محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ اس اعتماد کا اعتراف بھی ہے جو برادر ممالک پاکستانی ریاست، اس کی مسلح افواج اور اس کی دفاعی صلاحیتوں پر کرتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس نے کئی دہائیوں سے نہ صرف اپنی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ بھی لڑی۔ اس تجربے نے پاکستانی افواج کو جدید جنگی تقاضوں، انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس اور دفاعی حکمت عملی کے میدان میں ایک منفرد تجربہ فراہم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا کردار اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ مسلم دنیا کے وسیع تر دفاعی اور سفارتی منظرنامے میں بھی اس کی اہمیت نمایاں ہورہی ہے۔ مکہ معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے دفاعی تعاون کو مزید منظم کرنے، مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دینے اور دفاعی صنعت میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ مشترکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور دفاعی مصنوعات کی مشترکہ پیداوار کا تصور اس معاہدے کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔ اگر ان فیصلوں کو عملی شکل دی جاتی ہے تو تینوں ممالک اپنی اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ایک ایسا دفاعی تعاون تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے کی سلامتی کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ اس شراکت داری میں پاکستان کی حیثیت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے پاس ایک مضبوط دفاعی صنعت، تربیت یافتہ افواج اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتا ہوا تجربہ موجود ہے۔ ترکیہ نے ڈرون ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار اور عسکری تحقیق میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے جب کہ سعودی عرب خطے میں ایک اہم معاشی اور تزویراتی قوت ہے۔ ان تینوں ممالک کی صلاحیتیں اگر ایک مشترکہ وعن کے تحت یکجا ہوتی ہیں تو دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مشترکہ پیداوار کے میدان میں ایک مضبوط تعاون وجود میں آسکتا ہے۔ پاکستان کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دفاعی تجربے کو سفارتی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ آج پاکستان صرف دفاعی تعاون کا حصہ نہیں بلکہ اس تعاون کی ادارہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مشترکہ سیکریٹریٹ کی ابتدائی سربراہی پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ تینوں ممالک کے درمیان رابطے، مشاورت اور مشترکہ منصوبہ بندی کو موثر انداز میں آگے بڑھائی۔ یہ حقیقت بھی قابلِ تحسین ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاعی کردار کو امن کے وسیع تر تصور کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی پیدا کرنا نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ طاقت کا بہترین استعمال جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ جنگ کے امکانات کو کم کرنا ہے۔ اگر یہ اتحاد بین الاقوامی قانون، قومی خودمختاری، باہمی احترام اور امن کے اصولوں پر قائم رہتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے تک پہنچ سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال اس تعاون کی اہمیت مزید بڑھا دیتی ہے۔ فلسطین کا بحران، غزہ کی صورت حال اور خطے میں مسلسل کشیدگی مسلم دنیا کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ ایسے حالات میں مسلم ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا اور اپنی دفاعی و سفارتی صلاحیتوں کو مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم اس تعاون کو محض عسکری طاقت کے اظہار کے بجائے امن کے تحفظ، انسانی جانوں کے دفاع اور تنازعات کے سیاسی حل کی کوششوں کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ دونوں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مذہبی، عوامی، اقتصادی اور دفاعی بنیادوں پر قائم ہیں جب کہ ترکیہ پاکستان کا ایک دیرینہ اور قابلِ اعتماد دوست ہے۔ ان دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات مکہ معاہدے کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بھی کامیابی ہے کہ وہ دو اہم برادر ممالک کے ساتھ ایک ایسے پلیٹ فارم پر موجود ہے جہاں دفاع، ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی جیسے اہم معاملات پر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جا رہی ہے۔ اس معاہدے کی کامیابی کا اصل امتحان اب عملی اقدامات میں ہوگا۔ مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی تحقیق، انٹیلی جنس تعاون، سائبر سیکیورٹی، جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار اور تربیتی پروگرام ایسے شعبے ہیں جہاں ٹھوس پیش رفت ضروری ہے۔ اگر تینوں ممالک مستقل ادارہ جاتی تعاون قائم کرتے ہیں تو مکہ معاہدہ مسلم دنیا میں باہمی دفاعی تعاون کی ایک کامیاب مثال بن سکتا ہے۔پاکستان کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری، تحقیق و ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور نوجوان ماہرین کی تربیت پر توجہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت انسانی وسائل اور دفاعی شعبے میں وسیع تجربہ موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس صلاحیت کو مزید منظم کرکے عالمی معیار کی مشترکہ پیداوار اور تحقیق کا حصہ بنایا جائے۔ مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو مثبت اور تعمیری انداز میں بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ دنیا بدل رہی ہے اور عالمی طاقتوں کے تعلقات نئے توازن تشکیل دے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کا ایک ذمے دار، بااعتماد اور موثر شراکت دار کے طور پر ابھرنا خوش آئند ہے۔ استنبول کا اجلاس دراصل ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ اس سفر میں پاکستان کو محض شریک ملک نہیں بلکہ ایک فعال رہنما اور موثر رابطہ کار کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہماری دفاعی قوت، سفارتی بصیرت اور برادر ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار مزید موثر بنائے۔ مکہ دفاعی معاہدہ اگر باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور امن کے اصولوں پر آگے بڑھتا ہے تو یہ تین ممالک کی سلامتی ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ دنیا کو یہ پیغام دے کہ وہ صرف اپنی سرحدوں کا محافظ نہیں بلکہ علاقائی امن، مسلم دنیا کے اتحاد اور مشترکہ ترقی کے لیے بھی ایک ذمے دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
سندھ طاس معاہدہ، پاکستان کی بڑی فتح
پانی محض بہتا ہوا دریا نہیں، زندگی کی وہ رگ ہے جس کی روانی سے بستیاں آباد، کھیت سرسبز اور تہذیبیں زندہ رہتی ہیں۔ پاکستان کے لیے دریائے سندھ اور اس سے وابستہ دریاں کا پانی محض قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل، زراعت، معیشت اور بقا کا سوال ہے۔ اسی لیے سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف ایک کاغذی سمجھوتہ نہیں بلکہ خطے کے امن اور پانی کے منصفانہ استعمال کی ایک اہم ضمانت ہے۔ دی ہیگ میں قائم پرمیننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کا حالیہ فیصلہ اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی اپنی حرمت ہوتی ہے اور انہیں یک طرفہ خواہشات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذالعمل ہے اور بھارت کے پاس اسے ختم یا معطل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ پاکستان کے لیے یہ فیصلہ یقیناً ایک اہم سفارتی اور قانونی پیش رفت ہے۔ پانی کو سیاسی دبا یا جغرافیائی طاقت کے ہتھیار میں تبدیل کرنا نہ صرف انسانی اقدار بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔ دریائوں کا بہائو سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ پہاڑوں سے اترنے والا پانی جب میدانوں تک پہنچتا ہے تو وہ کسی قوم کی ملکیت نہیں بلکہ قدرت کی عطا اور معاہدوں کے ذریعے منظم ایک مشترکہ ذمے داری بن جاتا ہے۔ اگر پانی کو تنازعات کا ذریعہ بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کو بین الاقوامی ذمے داری کے طور پر تسلیم کیا ہے اور اس کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔ یہی طرزِ عمل اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے جذبات کے بجائے قانون، دلیل اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ دی ہیگ کا فیصلہ اسی قانونی راستے پر پاکستان کے موقف کو تقویت دیتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ پانی پر جنگ نہیں، قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ بھارت سمیت خطے کے تمام ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دریا کسی سیاسی سرحد کے قیدی نہیں۔ آج دنیا موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور ماحولیاتی بحران جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں پانی کو تنازع نہیں بلکہ تعاون کا وسیلہ بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان کے لیے اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اس قانونی پیش رفت کو مستقل سفارتی کامیابی میں تبدیل کرے، معاہدے کے ہر پہلو پر موثر نگرانی رکھے اور عالمی برادری کے سامنے پانی کے اپنے جائز حقوق کا مقدمہ اسی دلیل اور وقار کے ساتھ پیش کرتا رہے۔ پانی زندگی ہے اور زندگی کو کسی سیاسی کشمکش کا ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔ سندھ طاس معاہدے کا احترام صرف پاکستان کا حق نہیں، خطے کے پُرامن مستقبل کی ضرورت بھی ہے۔





