نواسہ رسولؐ کی لازوال قربانی

نواسہ رسولؐ کی لازوال قربانی
حروف بے زباں
مرزا رضوان
تاریخ انسانی کے صفحات پر بہت سے واقعات رقم ہوئے، لیکن کچھ واقعات ایسے ہیں جو وقت کی گرد میں گم ہونے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید تابندہ ہوتے جاتے ہیں۔ کربلا محض ایک تاریخی حادثہ نہیں، بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم اور اصول و مفاد کے درمیان ایک ایسا ابدی معرکہ ہے جس نے انسانیت کو جینے کا سلیقہ سکھایا۔ نواسہ رسولؐ سرکار سیدنا امام حسینؓ کی قربانی صرف ایک خاندان کی شہادت نہیں، بلکہ یہ انسانی اقدار کی بقا اور ظلم کے ایوانوں کو لرزا دینے والی ایک ایسی للکار تھی، جس کی گونج آج بھی ہر دور کے حریت پسندوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جب یزید کے دور میں اسلامی معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہو رہی تھیں اور اقتدار کے حصول کے لیے اخلاقی اقدار کو پامال کیا جا رہا تھا، تب نواسہ رسولؐ نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا۔ امام حسین ؓ کا موقف نہایت واضح تھا۔ آپؓ کا ماننا تھا کہ دینِ محمدی ٔ کی اصل روح کو بچانا، حکمرانوں کی من مانی اور ظلم کو قبول کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’ میں برائی کا حکم دینے والوں اور اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہوں‘‘۔ یہ الفاظ محض دعویٰ نہیں تھے، بلکہ ان کے پیچھے وہ تربیت تھی جو آپؓ نے اپنے نانا حضور نبی کریمؐ اور اپنے والد سیدنا علی المرتضیٰ ؓ سے پائی تھی۔ آپؓ کا یہ عزم ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے تحفظ اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے تھا۔
محرم الحرام کی تپتی ہوئی دھوپ، فرات کے کنارے کا صحرا اور اطراف میں پھیلا ہوا یزیدی لشکر: یہ وہ منظر تھا جہاں نواسہ رسول اپنے چند رفقاء اور اہل بیت کے ساتھ موجود تھے۔ ایک طرف بے پناہ لا لشکر، وسائل اور دنیاوی طاقت تھی، تو دوسری طرف صرف حق کا استقلال تھا۔ کربلا کے میدان میں امام عالی مقام نے جس صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ اپنے پیاروں، جوان بیٹوں اور شیر خوار بچوں کی شہادت کے باوجود آپ کے پائے استقلال میں لرزش نہ آئی۔ آپؓ کی ہر قربانی اس حقیقت کو واضح کر رہی تھی کہ انسان کا مقصد صرف زندہ رہنا نہیں، بلکہ وقار اور ایمان کے ساتھ مرنا ہے۔ اصحابِ باوفا نے آپ کے قدموں میں اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرکے وفاداری کی ایسی داستانیں رقم کیں جو قیامت تک زندہ رہیں گی۔ کربلا کا ذکر بی بی زینبؓ کے بغیر ادھورا ہے۔ اگر امام حسینؓ نے میدانِ کارزار میں خون سے تاریخ لکھی، تو بی بی زینبؓ نے کوفہ اور شام کے درباروں میں اپنے خطبات سے اس تاریخ کو محفوظ کیا۔ انہوں نے ظلم کے سامنے ڈرنے کے بجائے یزید کے ایوانوں میں للکار کر یہ ثابت کیا کہ حق کی آواز کو تلوار سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کردار آج بھی دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک مثال ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں کیسے صبر و شکر اور ہمت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی کا اصل پیغام ’’ احتجاج‘‘ ہے۔ یہ پیغام کہ ظلم کے سامنے سر جھکا دینا ہی اصل شکست ہے۔ آپؓ نے اپنے لہو سے یہ ثابت کر دیا کہ تلوار کی کاٹ چاہے کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، حق کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ کربلا نے یہ سبق دیا کہ جب معاشرے میں باطل کا غلبہ ہو جائے تو ایک تنہا شخص کا بھی کھڑے ہو جانا پورے نظام کو چیلنج کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ آپؓ کی یہ قربانی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ تمام عالم انسانیت کے لیے ایک درسِ حریت ہے۔ گاندھی جیسے رہنمائوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے ظالم کے خلاف جدوجہد کرنے کا سبق حسینؓ ابن علیؓ سے سیکھا ہے۔ دنیا بھر کے مظلوم، جب بھی ظلم کی چکی میں پسے ہیں، ان کی نگاہیں کربلا کی جانب اٹھتی ہیں اور انہیں اس قربانی سے ہمت اور حوصلہ ملتا ہے۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں بھی ظلم، ناانصافی اور جھوٹ کا بول بالا ہے۔ آج کے دور میں امام حسینؓ کی یاد منانے کا مطلب صرف ماتم یا آنسو بہانا نہیں، بلکہ ان اصولوں کو اپنانا ہے جن کے لیے امام حسینؓ نے اپنی جان دی۔ آج کے دور میں ’’ حسینیت‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی برائیوں کے خلاف آواز اٹھائیں، غریب اور کمزور کے ساتھ کھڑے ہوں اور کسی بھی قسم کے جبر کے سامنے اپنا ضمیر نہ بیچیں۔ معاشرے میں پائی جانے والی بدعنوانی، انسانی حقوق کی پامالی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانا ہی دراصل آج کا ’’ کربلا‘‘ ہے۔ آج کل کے ’’ یزیدی‘‘ کردار مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ کہیں وہ کرپشن کی صورت میں قوم کا خون چوس رہے ہیں، تو کہیں ناانصافی اور ظلم کے ذریعے معاشرے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اگر ہم عملی طور پر حق کا ساتھ نہیں دے رہے، تو ہماری ظاہری عقیدت کا کوئی وزن نہیں۔ حسینیت حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے، چاہے وہ راستہ کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو۔ امام حسینؓ کی تحریک کا ایک اہم پہلو ’’ اصلاحِ معاشرہ‘‘ تھا۔ آپ نے دیکھا کہ دین کو مسخ کیا جا رہا ہے، اس لیے آپ نے اصلاح کے لیے اپنی آپ کو پیش کیا۔ آج ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم ایک آزاد اور انصاف پسند معاشرہ بنا رہے ہیں؟ کیا ہم قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا رہے ہیں؟ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم آج چپ رہے، تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں تعلیم، معیشت اور اخلاقیات کے میدانوں میں حق کا علمبردار بننا ہوگا۔ سیدنا امام حسینؓ کی قربانی تاریخ کے کسی ایک گوشے میں محدود نہیں رہ سکتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر دور میں تازہ رہتی ہے۔ آپؓ نے شہادت پا کر بھی زندگی پا لی، جبکہ آپؓ کے دشمن تاریخ کے کوڑے دان میں جا گری ۔ آج کروڑوں لوگ آپ کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، لیکن آپؓ کے قاتلوں کو ڈھونڈنے سے بھی کوئی عزت نہیں ملتی ۔آخر میں، امام حسینؓ کی یہ قربانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ زندگی کا معیار اس بات سے نہیں ناپا جاتا کہ ہم کتنے سال جیے، بلکہ اس سے ناپا جاتا ہے کہ ہم نے کن اصولوں کے لیے جینے اور مرنے کا انتخاب کیا۔ آپؓ کا لہو آج بھی حق کی آبیاری کر رہا ہے اور رہتی دنیا تک کرتا رہے گا۔ خدا ہمیں اس عظیم ہستی کے نقشِ قدم پر چلنے اور حق کی خاطر ہر قربانی دینے کا حوصلہ عطا فرمائے۔
سلام ہو اس ذات پر جس نے کٹ کر بھی انسانیت کو جلا بخشی!
سلام ہو امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام پر!
اور سلام ہو ان تمام شہدائِ کربلا پر جنہوں نے حق کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔




