ایک نئی سفارتی جہت اور پاکستان

ایک نئی سفارتی جہت اور پاکستان
عالمی سیاست کے پیچیدہ اور نازک منظرنامے میں جب بھی تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں تو ان کے حل کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں اور موثر ثالثی ناگزیر ہو جاتی ہیں۔ ایران اور امریکا جیسے دو اہم عالمی فریقین کے درمیان حالیہ مذاکراتی پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس تاریخی عمل میں پاکستان کا فعال اور مثر کردار عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکراتی دور کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ فریقین نے آئندہ 60روز کے اندر ایک جامع اور دیرپا معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک ابتدائی روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ اس اہم پیش رفت میں پاکستان نے نہ صرف سہولت کار کا کردار ادا کیا بلکہ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار نبھایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی اور عسکری قیادت نے جس متوازن، سنجیدہ اور فعال انداز میں اس عمل میں شرکت کی، وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ مذاکرات کے بعد ان کے تاثرات میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ کامیابی محض سفارتی نہیں بلکہ اخلاقی اور قومی ذمے داری کے احساس کے ساتھ حاصل ہوئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں، اعتماد سازی اور بروقت رابطوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے بیان کے مطابق مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں مکمل ہوئے اور ایک مضبوط اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو آئندہ 60روز میں حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت کی نگرانی کرے گی۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ثالثی کی ذمے داری نبھائی، بلکہ اس پورے عمل کو ایک منظم اور بامقصد فریم ورک میں ڈھالنے میں بھی کردار ادا کیا۔ پاکستان کا یہ کردار کوئی پہلا موقع نہیں جب اس نے عالمی سطح پر امن کے لیے پل کا کردار ادا کیا ہو۔ ماضی میں بھی پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ایران اور امریکا جیسے دو عالمی طاقتوں کے درمیان اس نوعیت کی پیش رفت میں پاکستان کا نام نمایاں ہونا ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس پورے عمل میں دیگر دوست ممالک، خصوصاً قطر اور میزبان ملک سوئٹزرلینڈ نے بھی سہولت کاری کا کردار ادا کیا، لیکن پاکستان کی فعال شمولیت نے اسے ایک مرکزی اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر اجاگر کیا۔ یہ پاکستان کی اس خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جو امن، مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر اثرانداز ہوتی رہی ہے۔ ایسے حساس تنازع میں کسی بھی مثبت پیش رفت کو ممکن بنانے کے لیے غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان نے اسی ذمے داری کو کامیابی سے نبھایا ہے۔ یہ سفارتی کامیابی پاکستان کے لیے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر وقار میں اضافے کا باعث ہے، بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے ایک ذمے دار اور فعال کردار ادا کررہا ہے۔ عالمی برادری میں پاکستان کی یہ حیثیت مستقبل میں مزید سفارتی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ محض وقتی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی امن عمل کی بنیاد ہے۔ اگر 60روز کے اندر متوقع معاہدہ طے پاجاتا ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری لائے گا، بلکہ پورے خطے میں استحکام کی نئی راہیں کھولے گا۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ فخر کا باعث ہے کہ اس کا نام ایک ایسے عالمی امن عمل کے ساتھ جڑا ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنی سفارتی بصیرت کے ذریعے بھی عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان یہ مذاکراتی پیش رفت اگر کامیابی سے اپنے منطقی انجام تک پہنچتی ہے تو تاریخ میں اس عمل کو پاکستان کی موثر، متوازن اور مثبت ثالثی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، بلکہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر لمحہ بھی ہے۔
پاک بحریہ اور کوسٹ گارڈز
کی کامیاب کارروائی
پاکستان کی سمندری سرحدیں ملک کی معیشت، دفاع اور بین الاقوامی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہی سرحدوں کے ذریعے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں بلکہ بعض اوقات جرائم پیشہ عناصر ان راستوں کو منشیات اسمگلنگ جیسے غیر قانونی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں پاک بحریہ اور پاکستان کوسٹ گارڈز کی جانب سے گوادر کے ساحلی علاقے پشوکان میں مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں منشیات کی برآمد ایک اہم اور قابلِ تحسین کامیابی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں 1500کلوگرام چرس اور 500کلوگرام آئس برآمد کی گئی، جس کی مالیت عالمی مارکیٹ میں قریباً 215ملین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔ یہ بڑی مقدار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منشیات کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کس حد تک منظم اور وسیع ہیں اور کس طرح وہ سمندری راستوں کو استعمال کر کے اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بروقت اور موثر کارروائی کے نتیجے میں اس خطرناک کھیپ کو بیرون ملک اسمگل ہونے سے روک دیا گیا۔ یہ آپریشن جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر کے تعاون سے کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے مختلف ادارے جدید انٹیلی جنس نظام کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔ آج کے دور میں سمندری سیکیورٹی صرف روایتی نگرانی تک محدود نہیں رہی بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس شیئرنگ اس کی بنیاد بن چکی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ یہ ایک ایسا جرم ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس سے نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اور سماجی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف سخت اور مسلسل کارروائیاں انتہائی ضروری ہیں۔ پاک بحریہ اور کوسٹ گارڈز کی یہ کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ برآمد شدہ منشیات کو مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کرنا بھی شفافیت اور قانون کی بالادستی کا ثبوت ہے۔ اگر اسی طرح مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں تو پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف ایک موثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔




